لائل پور سے لانڈھی جیل تک (11)

  • جمعرات 19 / جون / 2014
  • 5524

جیل کی تنہائی اور معافی نامہ کی پیشکش

آخر سب دوست بھیگی آنکھوں سے گلے ملتے رُخصت ہوتے گئے اور سب سے آخر میں جوہر میر آنکھوں سے ہی نہیں سارے جسم سے روتا ہؤا رخصت ہؤا۔ اُس سے جدائی کے منظر نے آنکھوں میں مستقل جگہ بنا لی۔ کیا پتہ تھا اس کا نام جب بھی لوں گا یہ جدائی کا منظر ہر بار سامنے کھڑا ملے گا۔  تمام دوست سب کچھ ساتھ لے گئے ۔ وہ راتوں کو گائے ہوئے انقلابی گیت ، عرصہ سے جیل کی چار دیواری میں رہنے سے پیدا ہونے والا چڑچڑا پن ، وہ سیاسی تجزیے ، سوتے جاگتے اس ملک میں روشن صبح کے دیکھے ہوئے خواب ، گندے لطیفے ( لفظ گندے کے لیے معذرت ) وہ حوصلے، وہ ولولے ۔۔۔ سب لے ساتھ لے گئے۔ مگر دو چیزیں یہاں چھوڑ گئے بھیگی آنکھیں اور مختلف برانڈ کے سگریٹ ۔

جب جوہر میر نے دروازے کے باہر قدم رکھا اور سپاہی نے دروازہ بند کر دیا تو میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہاں مجھے دروازہ کھلا ہؤا ملا ۔ میں نے مختلف برانڈوں سے ایک برانڈ کی ڈبیا سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور احاطے میں برگد کے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس برگد کی بھی ایک کہانی ہے۔  اس پہ کُھدے قیدیوں کے نام اور اں کے قیدی نمبر ان کی زندگیوں کی گلیوں کا پتہ دیتے ہیں ( اس احاطے کی بیرکوں میں سے ایک بیرک میں ایک قاضی نام کے قیدی بھی ہیں۔ یہ باہر سے ایک قتل کر کے آئے تھے اس نے جیل کے اندر آکر دو اور قتل کر دئے تھے۔ یہ اُس دور میں ہر ماہ جیل سے چار پانچ ہزار کما کر گھر والوں کے بھیجتے تھے۔  باہر جو جرائم ہوتے ہیں ان میں سے چالیس فیصد جیل کے اندر ہوتے باہر جو منشیات فروخت ہوتی ہیں چالیس فیصد جیل کے اندر فروخت ہوتی ہیں۔ یہاں خوبرو لڑکوں سے لے کر نوجوان قیدی عورتیں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ عام دنوں اور تہواروں میں اس کے مختلف دام ہیں۔ لڑکے اور عورت کے جیل کے اندر اور جیل سے باہر استعمال کے مخلتف دام ہیں۔ تہوار کے دن جیل کے داد ایک بڑی سی بالٹی میں پانی ڈال کو اس میں منشیات کے کیپسول ڈال دیتے ہیں۔ اس کو “ لال پڑی “ کا نام دیا جاتا ہے۔ جیل کے داد اور ان کے کارندے کھلے عام ۔۔ “ لال پری لے لو لال پری “  کی آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ یہ مشروب غریب قیدیوں میں پانچ روپے فی گلاس بکتا تھا۔ جتنی کسی کی حثیت اُسی حساب سے اُس کو شراب، چرس اور عورت مہیا کی جاتی۔)

قاضی صاحب کا ہمارے ساتھ روایہ بڑا دوستانہ تھا۔  اگر کبھی جیل کی طرف سے ہمارے ساتھ زیادتی  ہوتی تو یہ قاضی صاحب جیل والوں سے لڑ پڑتے تھے۔ یہ جس برگد کی میں بات کرہا ہوں ایک دفعہ جیل کا عملہ اس کو کاٹنے کے لئے آگیا۔  شاید جیل کے عملے نے جیل کے درخت کسی ٹھیکدار کو بیچ دئے ہوں گے۔ جب جیل کا عملہ اس درخت کو کاٹنے آیا تو ہم سب اس درخت کے ارد گرد بیٹھ گئے اور یہ قاضی صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جیل کے عملے اور قاضی صاحب کے درمیان ایک سمجھوتہ ہو گیا تھا۔  اب یہ جیل میں کو ئی ہنگامہ نہیں کرتے اور جیل کا عملہ بھی ان کو تنگ نہیں کرتا تھا۔  قاضی نے میری طرف دیکھا تو میں نے منہہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس وقت میں کوئی ہمدردی یا ترس بھرے الفاظ نہیں سُننا چاہتا تھا اور نہ بہادر بننے کا ڈرامہ کرنا چاہتا تھا ۔ 

 میں اُداس تھا اور کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا تھا قاضی صاحب شاید سمجھ گئے۔ اُلٹے پاؤں واپس بیرک کی طرف چلے گئے تھوڑی دیر بعد چائے کا مگ لا کر میرے پاس رکھ کر بغیر کوئی بات کئے واپس چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔ دو سپاہی ایک چھوٹی سی میز ایک کرسی اور ٹیبل لیمپ لیے داخل ہوئے خالی ہوئے۔ بیرکوں سے گدے اور کمبل اکٹھے کئے اور ان میں سے دو گدے انھوں نے میری بیرک میں اوپر نیچے رکھ کر اس پر سفید چارد ڈال دی۔ اور مجھے کہا: “ آج سے یہ صرف آپ کی کھولی ہے “۔

میں یہ سب ہوتا دیکھتا رہا۔  اور سمجھ گیا مسعود میاں یہ سب ایک لمبے عرصے کی تیاریاں ہیں۔  میں نے مسکراتے ہوئے قاضی کو کہا: “ قاضی صاحب اب تو آپ کے ساتھ ایک عرصہ گزارنا ہے “ شام کو جب کھانے کا وقت ہؤا تو میں نے دیکھا دو سپاہی صاف ستھری کراکری میں کھانا لیے آگئے۔ یہ پہلی دفعہ ہؤا تھا وگرنہ وہی پلاسٹک کی تھالی اور پلاسٹک کے مگ ہوتے تھے۔  کھانا بھی آلو گوشت تین چپاتیوں اور میٹھے چاول پر مشتمل تھا۔  مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ سپاہی نے کہا کہ کل سے آپ کو کچھ راشن دے دیا جائے گا اور ایک مشقتی بھی جو آپ کا کھانا بنایا کرے گا۔ اور مجھے بیرک میں بند کر کے چلے گئے۔

میں نے آج ہی بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔ اس لیے ایک دم سے کھانا کھانے سے ڈر رہا تھا۔ تھوڑا سا کھایا۔ گدے پہ لیٹا ایسی نیند آئی کہ کچھ نہ پوچھیں۔ کوئی چار بجے آنکھ کُھلی۔ چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔ میں بیرک میں چکر پہ چکر لگا رہا تھا اور سگریٹ پہ سگریٹ سُلگا رہا تھا۔ آخر تنگ آکر میں نے بیرک کی دیوار پر دستک دی۔ جیلوں میں رہنے کی وجہ سے میں جیل کے قیدیوں کے مخصوص کوڈ سیکھ چُکا تھا۔ ہر بات کے مختلف کوڈ تھے۔ اگر جیل کا عملہ اچانک بیرکوں میں تلاشی لینے آجاتا تو قیدی ایک خاص ردھم کے ساتھ تین بار پھر دو بار اور آخر میں پانچ بار دستک دیتے۔ جس سے ساتھ والی بیرک میں صورتِ حال کا پتہ چل جاتا۔

میں نے تین بار دستک دی مطلب تھا کیا آپ جاگ رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد قا ضی صاحب نے بھی دستک دے کر جواب دیا۔ میں سلاخوں والے دروازے کے قریب گیا اور کہا قاضی صاحب چائے کی طلب ہو رہی ہے۔ اچھا کہہ کر قا ضی صاحب خاموش ہوگئے اور کوئی پندراہ بیس منٹ بعد انھوں آواز دی کہ دروازے کے قریب آؤ۔ انھوں نے سلاخوں کے درمیان سے چائے سے بھرا پلاسٹک کا مگ باہر نکالا اور چھوٹی سی چھڑی کے ساتھ مگ کو آہستہ آہستہ میرے دروازے کے طرف سرکانا شروع کر دیا۔ یہ کام وہ اپنے تجربے کی بنا پر بہت احتیاط سے کر رہے تھے۔ کہ کہیں چائے گر نہ جائے ۔ آخر بغیر چائے گرائے مگ میرے دروازے تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

میں نے جب سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر مگ کو اندر کرنا چاہا تو نا تجربہ کاری کی بدولت تھوڑی سی چائے گرا بیٹھا جس پہ قاضی صاحب نے مجھے ڈانٹا۔  گویا آج سے قاضی صاحب کی شاگردی شروع ہو گئی۔ ہم اہنا اپنا مگ لئے اپنے اپنے دروازے کے قریب بیٹھ گئے۔ میں نے قاضی صاحب سے پوچھا کیا آپ کو کوئی سندھی گیت آتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد قاضی نے سچل سرمست کا گیت گانا شروع کر دیا۔ مجھے گیت کے الفاظ سمجھ نہیں آ رہے تھے مگر میں گیت اور قاضی کی آواز میں ڈوبا جا رہا تھا۔  لمبے عرصہ تک رہنے والے قیدیوں میں اکثر کی آواز میں ایک درد پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں جدائی ، پچھتاوا ، خواب سب شامل ہوتا ہے۔  ان کے ساز ہاتھوں میں پہنی بیڑیاں دروازوں کی سلاخیں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی اکیلا یا سب کورس کی شکل میں ایک ہوک سی گاتے ہیں۔ اور اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی یہ ہوک ان کے پیاروں تک پہنچ رہی ہوتی ہے۔

اس صبح قاضی کی آواز نے بھی کچھ ایسا ہی سماں باندھ دیا تھا۔ ہم اس وقت اس درد سے باہر نکلے جب ہمیں باہر کا دروازہ کھلنے کی صدا آئی۔ قاضی نے کہا فوری طور پی مگ چھپا لو۔ سپاہی صبح کا ناشتہ لے کر آئے تھے جو دو انڈوں کے آملیٹ اور چار بریڈ کی پیس پر مشتمل تھا۔ چائے کا کپ بھی چینی کا تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ کوئی ایک بجے کے قریب دو سپاہی آئے اور کہا آپ کو جیلر صاحب نے بلایا ہے۔ میں نے دیکھا جیل کے ایک میدان میں جیل آفیسر منظور الہی ایک درخت کے نیچے میز کرسی لگائے بیٹھے ہیں۔ مجھے بھی کرسی دی گئی اور انھوں نے چائے کے ساتھ گولڈ لیف کی ڈبیا میرے طرف سرکائی۔ مگر میرے پاس سگریٹ تھے ۔

پہلی سگریٹ پینے کے بعد مجھ سے تھوڑی سے میرے معلق معلومات لے کر مجھے پی ایف یو جے کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا ۔  دیکھا سب تم کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ بیٹا یہاں کوئی کسی کا نہیں۔ سب اپنے اپنے بستروں میں جا کر لیٹ گئے۔ تمھیں جیل کے بوسیدہ کمبلوں میں چھوڑ گئے۔ میں اب ساری کہانی سمجھ گیا تھا۔ یہ صاف ستھری کراکری یہ پُرتکلف کھانا سب سمجھ آ گیا۔  کوئی بیس منٹ تک مجھے تنظیم کے خلاف بھڑکانے کے بعد انھوں نے کہا: “  دیکھو جاوید ہاشمی تمھاری ہی عمر کا ہے اور آج وزیر بنا ہؤا ہے۔ تم بھی یہاں تک پہنچ سکتے ہو“۔

سگریٹ کا دھؤاں ابھی میرے حلق میں ہی تھا کہ مجھے اس پیشکش پر اُتھو آگیا۔ ذرا دور کھڑے ایک سپاہی نے فوری مجھے پانی کا گلاس دیا۔ میں زرا سنبھلا تو منظور الہی صاحب نے جیب سے ایک کاغذ نکالا اور میرے آگے رکھ دیا۔ جس پر لکھا تھا کہ صحافیوں کی ہماری تنظیم پیپلز پارٹی سے پیسے لیتی ہے۔ یہ تحریک اسی جماعت کے کہنے پہ چلائی گئی ہے۔ تنظیم نے ہم سے بھی پیسوں کا وعدہ کیا تھا۔ مگر نہ مجھے نہ میرے گھر والوں کو پیسے دئے ہیں۔ میں اپنے اس اقدام پہ شرمندہ ہوں۔ مجھے معاف کر دیا جائے۔

میں نے یہ کاغذ پڑھ کر جیلر کی طرف دیکھا۔ میرے بالوں میں پسینہ آگیا تھا۔ تو جناب نے کہا: “ اگر تم اس پر دستخط کر دو تو میں تم کو امروز اخبار میں چیف رپورٹر کی نوکری دلوا دوں گا۔“ میں کہا شیخ صاحب میں نے لائل پور سے خود آکر گرفتاری دی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے میں اتنا لمبا سفر معافی نامہ پر دستخط کرنے کے لیے کیا تھا۔ باقی کل سے آپ جو مجھے سہولتیں دے رہے ہیں، اس کے لیے میں مشکور ہوں اور اب شاید یہ سہولتیں واپس لے لی جائیں گی۔

جیلر نے سپاہیوں کو اشارہ کیا اور وہ مجھے بیرک کی طرف لے کر چل پڑے۔ دو گھنٹوں میں ہی وہ میز کرسی ٹیبل لیمپ وہ گدے سفید چادر سب غائب ہو چکی تھیں۔ ( جاری ہے )