قوم حِساب مانگتی ہے

  • جمعرات 19 / جون / 2014
  • 4442

مُلک خُدا کی امانت ہے اور قوم اُس کی محافظ ۔ قوم کے تمام افراد کے حقوق یکساں ہوتے ہیں۔  ملک میں  نہ تو گنتی کے چند گھرانوں کو اور نہ ہی ملکی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مُلک کے سیاہ سفید کے مالک بن کر  اپنی من مانیاں کرتے پھریں ۔ چنانچہ  سارے کے سارے ادارے قوم کے سامنے جوا دہ ہیں ۔

یہ جواب دہی کیا ہے ؟
جواب دہی ایک سماجی مظہر ہے جو  یہ دکھاتا  ہے کہ ادارے جو ملکی وسائل کو خرچ کر رہے ہیں اُن کا فائدہ ملک کے عام آدمی کو فرداً فرداً پہنچ رہا ہے یا نہیں ؟ عام آدمی کو  اُس کی ضروریاتِ زندگی  سہولت سے میسر ہیں یا نہیں ؟
 
جس ملک میں عوام کی زندگی اجیرن ہو، امن غارت ہو چکا ہو، کرپشن گلی کوچوں میں ننگی پھرتی ہو، وہاں ادارے کام نہیں کر رہے ہوتے ۔ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ اپنے تحفظ میں حد سے زیادہ اداکاری پر اُتر آتے ہیں ۔ اور یہ ہے وہ کیفیت جس سے سے میرا آبائی وطن  فی الوقت دوچار ہے۔
 
ان دنوں رونما ہونے والے دو واقعات نے اداروں کو جواب دہی کےکٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے ۔ اور قوم سوال کر رہی ہے کہ ادارے کیا کر رہے ہیں ؟
اداروں کے ضمن میں میں اپنا نقطہ ء نظر واضح کرتا چلوں کہ مسجد بھی ایک ادارہ ہے اور قانون سازاسمبلی بھی ادارہ ، سیاسی جماعت بھی ادارہ ہے اور میڈیا بھی ادارہ ۔ ان سب کا کام یہ ہے کہ وہ فلاحِ عامہ کے لئے بے لوث ہو کر کام کریں کیوں اگر اپنی ذاتی اغراض کے تحت کام کریں گے تو وہ خدمت نہیں ہو گی ۔ اور پھر خدمت ایک بے حد حساس کام ہے کہ اسے انجام دیتے ہوئے یہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ خدمت کے عمل کے دوران نہ تو کسی کی  حق تلفی ہو اور نہ کسی کے ساتھ زیادتی ۔
 
گزشتہ روز اوسلو میں عشا کی نماز سے قبل مسجدِاہل سنت والجماعت کے امام سید نعمت علی شاہ بُخاری پر ہونے والا قاتلانہ حملہ اپنی جگہ ایک سفاکیت اور بربریت تو ہے ہی مگر اس  کے ساتھ ساتھ مسجد کے ادارے کی توہین بھی ہے ۔ مسجدیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں اور اُن کی اس طرح سے توہین بلاس فیمی کے ذیل میں آتی ہے ۔ ہمارے یہاں اوسلو سمیت ناروے  کے مختلف شہروں میں مساجد کی تاریخ یہ رہی ہے کہ مسجدوں میں چاقو بھی چلے ہیں اورڈنڈے بھی ، جو نہ صرف شرمناک ہے بلکہ بلاسفیمی کے قانون کے تحت قابلِ مواخذہ بھی ۔
 
اخبارات میں چھپنے والی خبروں سے جو اشارہ ملتا ہے اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں گروہی سلطانوں کے مفادات داؤ پر لگے ہیں ، جنہیں وہ واگذار کرانا چاہتے ہیں ۔ اصل کہانی کیا ہے ، واللہ اعلم ۔
 
دوسرا واقعہ لاہور میں رونما ہؤا ہے جس میں منہاج القران کے سیکریٹریٹ میں مسلح کاروائی کے نتیجے میں لگ بھگ درجن بھر افراد قلمہء اجل بنے ہیں۔ جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں تک بتائی جاتی ہے ۔ یہ بھی دو اداروں کا کھلا تصام ہے ۔ ادارہ ء منہاج القرآن اور لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے مابین مسلح جھڑپ ہوئی ہے ۔
 
پنجاب حکومت نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن یہ شلغموں سے مِٹّی جھاڑنے سے زیادہ  کی بات نہیں ۔ یہ سب کیوں ہؤا ؟ کیا اس تجاوزات کی بلی کو تھیلے سے نکالنے کے لیے کوئی شریفانہ طریقہ نہیں تھا ؟
یہ واقعہ نواز شریف حکومت کے خلاف ایک بھرپور احتجاج میں تبدیل ہو سکتا ہے جو کنیڈا ، امریکہ اور یورپ کے کئی شہروں سمیت پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔
 
اس سارے واقعے میں ایک نام اوور لیپ ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ گُلو بٹ کا نام ۔ یہ صاحب کون ہیں ؟
 
ڈاکڑ شاہد مسعود نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ گلو بٹ کو ڈاکٹر طاہر القادری کے بیٹے کے قتل کی “ سُپاری “  دی گئی تھی ۔ ہندوستانی ڈراموں اور فلموں کی یہ سپاری میڈیا کے توسل سے پاکستانی معاشرت میں بھی سرایت کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔
 
اے آر وائی  پر ان سرکاری بلووں کی جو فوٹیج دکھائی گئی ہے اُس میں“ اُلّو“ یا گلو بٹ نام کے ایک خوفناک مونچھوں والے بھائیجان کو دکھایا گیاہے جو کہیں پولیس کو ہدایات دے رہے ہیں اور کہیں گاڑیوں کے شیشے توڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔
آخر یہ کیا شخص ہے اور کس کے حکم پر یہ تخریبی تماشا کر رہا تھا؟۔ آخری اطلاعات یہ ہیں کہ اُس اُلو بٹ کے خلاف پرچہ درج کر لیا گیا ہے اور گرفتاری ؟ اللہ ہی جانے ۔
 
یہ کہانی ہے اُس ملک کی جس میں ادارے ایک دوسرے کے وجود کے دشمن ہیں اور ایک دوسرے کو ختم کرنے کے در پے ہیں ۔ جس کی ایک مثال جیو اور جنگ بمقابلہ وزارتِ دفاع ہے جس کی پشت پر بھاری فوجی بوٹ ہیں ۔
اس باہمی آویزش میں کس کا بھلا ہوگا ؟ قوم کا ؟
 
ہر گز نہیں قوم کے لیے تو یہ سارا معاملہ دردِ سر ہے ۔ بے چاری غربت اور بد امنی کی چکی میں پستی قوم اناروں کی اس کاروباری مقابلہ بازی اور اداکاری سے تنگ آ چکی ہے۔ اور اپنے وسائل کے اصراف پر حساب مانگتی ہے ۔
یہ حساب انصاف کا تقاضہ ہے مگر جہاں ادارے اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں وہ قوم کو کیا حساب دیں گے ۔