ڈینش سیاستدانوں کی منافقت

  • جمعہ 20 / جون / 2014
  • 4404

جمعرات 19 جون کا دن ڈنمارک میں آباد مسلمانوں کے لیے جہاں ایک یادگار تاریخی دن قرار دیا جا رہا ہے۔ مگر اسے ایک ایسا منحوس دن بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہم آہنگی، مساوات و برابری، ادیان کی آزادی اورانسانی حقوق کے دعوے کرنے والے ڈینش سیاستدانوں کی منافقت و منافرت  بھی اس روز کھل کر سامنے آگئی ہے ۔

اب بیشک وہ کتنے ہی دعوے کیوں نہ کریں۔ بیانات میں کتنی ہی ہمدردی کا اظہار کریں۔ انہوں نے ڈنمارک میں پہلی باقاعدہ مینار و گنبد والی عظیم الشان  جامعہ مسجد کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کی دعوت کو رد کرکے اپنے فعل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دینی لحاظ سے ملک کی دوسری بڑی مذہبی برادری یعنی مسلمانوں کے اجتماعات سے خود کو دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اور اُن سے انہیں کوئی سروکار نہیں ۔

دارالحکومت کوپن ہیگن میں نیروبرو کے محلے میں’’  Rovsinggade ‘‘  سٹریٹ پر تعمیر کی گئی ڈنمارک کی پہلی جامعہ مسجد کی رسم افتتاح  کی تقریب میں شمولیت کے لیے ڈینش پارلیمانی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں،  شاہی خاندان کے کئی افراد، کوپن ہیگن سٹی کونسل کی میئراعلیٰ اور کئی دیگر سرکاری حکام  و عوامی شخصیات کو دعوت دی گئی تھی۔ جسے انہوں نے شکریے کے ساتھ مسترد کردیا۔ 

 ان میں سے کئی ایک کو اعتراض تھا کہ یہ عظیم الشان  جامعہ مسجد متحدہ عرب امارات کی قدامت پسند ریاست قطر کے مہیا کردہ مالی فنڈ سے تعمیر کی گئی ہے اور یقیناٌ اس مسجد پر اور اس کی انتظامیہ پر قطر کا دینی و سیاسی اثر و رسوخ ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ اس کا تعلق اخوان المسلمین نامی تنظیم سے بھی جوڑا گیا تھا ۔ مسجد پر قرآن و سنت کے اصولوں کا پابند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ان سیاستدانوں کی طرف سے یہ الزام بھی سامنے آیا کہ مسجد میں عورتوں اور مردوں کے درمیان فرق رکھا جائے گا اور یوں عورتوں کو دوسرے درجہ کی  شہری سمجھتے ہوئے دبا کر رکھا جائے گا ۔

ان خیالات کے مطابق یہاں جمہوری روایات و اقدار کی پاسداری بھی مفقود ہوگی ۔ ان مفروضوں کی بنیاد پر ڈینش قومی سیاستدانوں نے تہمتیں لگاتے ہوئے جس طرح  ڈنمارک میں پہلی عظیم الشان جامعہ مسجد کی افتتاحی تقریب سے خود کو دور رکھا ہے، اس سے مسلمانوں کو جو دکھ اور صدمہ پہنچا ہے اس کا ازالہ شاید آنے والا وقت ہی کر سکے۔ لیکن ایک بات عیاں ہو گئی ہے کہ ہر ایک کے لیے برابری، دین و مسلک کی آزادی اور ڈینش معاشرتی مساوات کے راگ الاپنے والے یہ سیاستدان جو مسلمانوں کو معاشرے میں ضم ہونے کے مشورے دیتے اور ان پر زور ڈالتے نہیں تھکتے، خود کو ان سے دور رکھنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ جس کا اظہار اور ثبوت انہوں نے مذکورہ افتتاحی تقریب سے  خود کو دور رکھ کر مہیا کر دیا ہے ۔ اور اپنے اس منافقانہ اقدام کا ذمہ دار بھی مسلمانوں ہی کو ٹھہرایا ہے ۔

یہ مسجد ’’ ڈینش اسلامی کونسل ‘‘ کے زیر انتظام ہے۔ اس کے ترجمان محمد المیمونی سے روزنامہ یولینڈ میں ایک بیان منسوب کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ  ’’ ہم جنس پرستی ایک بیماری ہے‘‘ ۔ اور ’’ ہم جنس پرستی  اسلام میں یقینا خراب و ممنوع ہے اور اسے اس سے تشبیہ دی جاتی ہے کہ ہم جنس پرست بیمار ہوتا ہے‘‘ ۔

ہم کوپن ہیگن بلدیہ کے میئر اعلیٰ، سوشل ڈیموکریٹ فرانک ینس کے اس دوہرے اخلاقی رویے کو سمجھنے سے قاصر ہیں جو انہوں نے مذکورہ مسجد کی تعمیر کے دوران اور پھر آج اس کی رسم افتتاح کے موقع پر اختیار کیا۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران انہوں نے اس مسجد کے حوالے سے کیا کیا وعدے نہیں کیے تھے اور ان کی طوطا چشمی کی انتہا ہے کہ عین مسجد کے افتتاح کے موقع پر دعوت کے باوجود افتتاحی تقریب میں شمولیت سے انکار کردیا۔ اس کے جواز کے طور پر کئی اعتراضات پیش کرتے ہوئے کہا  کہ شاید یہاں یعنی مسجد میں عورتوں کے حقوق، جمہوریت اور معاشری اقدار پر گفگتو نہیں کی جا سکتی ۔

مذکورہ مسجد کی انتظامیہ اتھارٹی ’’ ڈینش اسلامک کونسل ‘‘ کے ترجمان  محمد المیمونی کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا ہے اور عورتوں اور مردوں کے درمیان برابری کے متعلق بھی ان کے خیالات کی غلط تشریحات کی جا رہی ہیں ۔

ہم اُن  بلدیاتی و پارلیمانی چند ایک سیاستدانوں اور معاشرے میں مختلف اعتبار سے با اثر ان شخصیات کا شکریہ ادا کیے بغیر نہیں رہ سکتے جنہوں نے مسلمانوں کے لیے خوشی کے اس موقع پر ڈنمارک کی پہلی عظیم الشان جامعہ مسجد کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کی۔ التبہ ہمیں اس پر بڑا تعجب ہے کہ ڈینش شاہی گھرانے کے وہ افراد جنہیں اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا اور خاص کر خود ملکہ معظمہ مارگریٹ الثانی اس تقریب سعید سے کیوں دور رہیں۔ حالانکہ وہ ہر نئے سال کے موقع پر اپنی روایتی تقریر میں ڈنمارک میں رہنے والیں سبھی اقلیتی برادریوں اور ڈینشوں کے درمیان ہم آہنگی و افہام و تفہیم اور در گزر کے لیے زور دیتی رہتی ہیں ۔

شاید  ملکہ اپنی اس غیر حاضری کا ازالہ نئے سال کے موقع پر اپنی تقریر میں کردیں ۔ شاید ایسا ممکن ہو! لیکن ڈینش سیاستدانوں سے اس کی کوئی توقع رکھنا محض خام خیالی کے سوا کچھ نہیں اور اب ہمیں بحیثیت مسلمان اپنے دینی تشخص کے تحفظ کے لیے ’’ حقیقت کی دنیا ‘‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔ اللہ ہمارا اور ہمارے اس وطن ثانی کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

Nasar Malak is a senior journalist and Chief Editor of www.urduhamasr.dk