گلو بٹ اور ہم
- جمعہ 20 / جون / 2014
- 4889
ہمارے رو یوں میں کتنا تضاد ہے۔ اس کا مظاہرہ ہم قدم قدم پہ ظایر کر تے رہتے ہیں۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں جہاد کا اعلان صرف سٹیٹ ہی کر سکتی ہے کسی فرد یا کسی تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بندوق پکڑے اور جہاد کے نام پہ لوگوں کو مارنا شروع کر دے۔ ہم کہتے ہیں کسی فرد یا تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پتھر ، لاٹھی ، کلہاڑی یا بندوق اُٹھا کر معاشرے سے برائی ختم کرنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہو ۔
مگر جب کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے پولیس اُسے ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کرتی ہے تو ہجوم جس میں پڑھے لکھے وکیل بھی ہوتے ہیں مجرم پہ تشدد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیا مجرم کو سزا دینا عدالت کا کام ہے یا بپھرے ہجوم کا ۔ میڈیا اس ہجوم کے اقدام پہ لفظوں کے پھول نچھاور کر رہا ہوتا ہے۔ حیرانگی کی بات ہے جب گلو بٹ پر ہجوم کے تشدد کی خبریں لگیں تو کچھ دانشوروں نے بھی فیس بک پر اس اقدام کی تحسین کی۔
میرا سوال صرف اتنا ہے کہ اگر یہ سب صحیح ہے تو پھو ہتھوڑا گروپ بھی صحیح ہے وہ بھی برائی ختم کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کر رہا تھا ۔ دہشت گرد بھی صحیح ہیں کہ وہ جس کو درست سمجھتے ہیں اس کے لیے قتل و غارت کر رہے ہیں۔ مجرم کو سزا دینا سٹیٹ کا کام ہے نہ کہ انفرادی یا کسی تنظیم کا اگر اس رویہ کو کو روکا نہ گیا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی تو معاشرے میں ہر فرد ایک ہاتھ میں ترازو اور دوسرے ہاتھ میں چھرا ، کلہاڑی یا بندوق اُٹھائے انصاف کرتا پھرے گا۔
میں یہاں سویڈن کی دو مثالیں دینا چاہتا ہوں دسمبر کا مہینہ تھا بہت برف باری ہوئی تھی۔ ایک چور کسی کے گھر گھس کر چوری کر رہا تھا کہ اُسے محسوس ہؤا کہ کوئی آگیا ہے۔ اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔ وہ برف سے پھسلا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ بعد میں عدالت نے اُس چور کو چوری کرنے کی سزا دی۔ مگر گھر والوں پر بھی جر مانہ کیا گیا۔ کہ انھوں نے برف پر بجری کیوں نہیں ڈالی جس کی وجہ سے ایک شخص کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔ اس جرمانے سے وصول ہونے والی رقم چورکو ادا کی گئی۔
دوسری مثال بھی ایک اور چور کی ہے۔ وہ ایک جیولری کی دوکان پر آیا اور چوری کر کے جا رہا تھا کہ دکان کے مالک نے پیچھے سے اس کی ٹانگ پہ فائیر کر کے اُسے زخمی کر دیا۔ چور کو اس کے جرم کی سزا دی گئی۔ مگر دکان کے مالک کو بھی سزا دی گئی۔ کہ اس نے ایک ایسے شخص پر پیچھے سے گولی کیوں چلائی۔ جب کی تمھاری جان کو بھی خطرہ نہیں تھا۔
اس کو کہتے ہیں سٹیٹ کی موجودگی قانون کی عملداری اور معاشرے کا رویہ۔