گلوبٹ کے دفاع میں

  • جمعہ 20 / جون / 2014
  • 4996

 دیکھا آپ نے !
بغلوں سے بادام توڑنے ، سروں سے اخروٹ پھوڑنے اور میخوں کے بستر پر لیٹ کر ایک ہاتھ سے بیٹھکیں نکالنے کے مقابلے کروانے والے اب ایک نیا چمپئن سامنے لائے ہیں۔ گلو بٹ !!

آپ کی طرح ہماری چشم گناہگار نے بھی یہ منظر دیکھاکہ کس طرح پنجابی فلموں کے مشہور کرداروں از قسم بالا گجر اور اوکھا جٹ ٹائپ کی مجموعی صفات سے لیس گلو بٹ نامی ایک سرفروش ہماری بہادر پنجاب پولس کے ایک لشکر قاہرہ کی قیادت کرتے ہوئے سکندر اعظم کی طرح غنیم پر حملہ آور ہو رہا تھا۔ اور پھر جب اسکے جانثار عورتوں ، بزرگوں اور جوانوں سے وہی سلوک کر رہے تھے جوشاید درست جواب نہ دینے پر سکندر یونانی پورس سے کرتا ، ہمارا سالار اعظم غنیم کے ہاتھی گھوڑے یعنی آج کی کاریں وغیرہ تباہ کر رہا رتھا۔

اور پھر جب اسکے صف شکن کشتوں کے پشتے لگانے کے بعد فتح کے شادیانے بجا رہے تھے، تو کس طرح وہ اپنی سپاہ سے محبت کرنے والے سالار کی طرح کسی مفتوح کا کھوکھا زمیں بوس کرتے ہوئے مال غنیمت میں لوٹی ٹھنڈی بوتلیں لا کر انہیں دے رہا تھا تاکہ انکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی انکا حق انہیں ادا کر دیا جائے۔

یہ منظر دیکھتے ہوئے نجانے کیوں ہمیں بچپن میں سنا ایک ملی نغمہ یاد آنے لگاجسے سن کر کبھی ہمارا سینہ فخر سے پھول جاتا تھا۔ آپ نے بھی سنا ہوگا:
آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

غور سے دیکھ لیجئے یہ وہی پاکستان ہے۔
آج کرپشن ، نااہلی، اقرباپروری، غربت، پسماندگی، دہشت گردی، فرقہ بندی ، اخلاقی اور مذہبی منافقت میں لتھڑا پاکستان۔

لٹیروں، ڈاکوؤں ، قاتلوں، نوسربازوں، خنزیروں کے ہاتھوں جاں بلب اور ہچکیاں لیتا پاکستان۔ جہاں بولنے والوں کی زبانیں گنگ اور دماغ ماؤف کر دیئے گئے ہیں۔ جہاں آج نتھنوں سے آگ اور منہ سے زہر اگلنے والے خود ساختہ مذہبی رہنماؤں کا راج ہے۔ معصوموں کے لہو میں ڈوبی تلواریں لہراتے، کھوپڑیوں سے فٹ بال کھیلتے اور انکے معذرت خواہوں کا راج ہے۔ چہرے پر دہری نقاب اوڑھے منصفوں، بنکروں میں چھپے لیڈروں اور عوام کی لاشوں پر بنسریاں بجاتے، رقص کرتے سیاستدانوں کا راج ہے۔ جس پر ہرصبح طلوع ہونے والا خورشید لہو میں نہا کر نکلتا ہے اور جسکی زمین سے اٹھنے والی آہیں،  آسمانوں سے ٹکرا کر نامراد لوٹ آتی ہیں۔

گلو بٹ بیچارہ تو اس نظام کا ایک ادنیٰ سا مہرہ ہے۔ چنگیزوں، ہلاکوؤں، فرعونوں اور نمرودوں کا بل ڈاگ۔۔ راٹ وائلر۔۔ ڈوبر مین۔ ایک ہڈی کے لالچ میں اپنے آقاؤں کے اشارے پر جھپٹنے والا پالتو جانور۔

اگر سچ پوچھیں تو اسکی تو تعریف کی جانی چاہیئے کہ آقاؤں نے جو کام اسے سونپا تھا، اس نے بخوبی انجام دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قصور معصوم راہگیروں پر جھپٹنے والے کتے کا ہوتا ہے یا اسے ہشکارنے والے مالک کا۔ آپ بھی سوچئے۔

تاریخ عالم یا اسلامی تاریخ کو تو چھوڑیئے صرف مملکت خداداد کی مختصر سی تاریخ پر ہی نظر دوڑا لیجئے۔ اس میں آپ کو قدم قدم پر گلو بٹ نظر آئیں گے۔ افغانستان میں جو ’’ گلو بٹی ‘‘ ہم نے کی اسکا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
آپ کو یاد ہی ہو گا کہ صدر ریگن نے ضیاالحق کو Our man in Islamabadقرار دیا تھا۔ یعنی اسلام آباد میں ہمارا گلو بٹ۔

پھر الشمس اور البدر کے نام سے سابق مشرقی پاکستان میں اپنے ہی بھائیوں کے سینے چھلنی کرنے والے بھی تو کسی کے گلو بٹ ہی تھے۔ جن کے تھے ان کا شمار تو آج بھی معززین میں ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج وہ کھوپڑیوں سے فٹ بال کھیلنے والوں کے معذرت خواہ اور انکے دفاع میں پیش پیش ہیں۔

میڈیا پر مار دھاڑ کرنے والے گلو بٹ اینکر بھی آپ دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک تو اپنے آقا کے ساتھ پہلے سے طے شدہ انٹرویو کرتے ہوئے پکڑا بھی گیا تھا۔ لیکن کیا ہؤا ؟ وہ آج بھی دھڑلے سے اینکر بنا گلو بٹیاں کر رہا ہے اور ویسا ہی معزز ہے۔

اور پھر اس خطے سے گلو بٹ کہاں کہاں نہیں گئے۔ لیکن جہاں جہاں بھی گئے وہاں ہمارے حق میں نفرت کے بیج بو آئے ، جس نے دوستوں کو بھی دشمن بنا دیا۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے !
آج آپ یک و تنہا کھڑے ہیں ۔ دنیا کے ہر ملک کے دروازے آپ پر بند ہیں۔ سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی پاسپورٹ کنٹرول والے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں اور اسے یوں ہاتھ میں لیتے ہیں جیسے یہ کوڑھ کے جراثیم سے آلودہ ہو۔ اور سب سے بڑا خدشہ انہیں یہی ہوتا ہے کہ کہیں آپ عام شہری کے بھیس میں کوئی گلو بٹ نہ ہوں۔
اب دیکھئے بیچارے اس گلو بٹ کے ساتھ ہوتا کیا ہے۔

کچہری پہنچنے پر ہمارے معززین، زمہ دار شہریوں اور قانون کی پاسبانی کرنے والے وکیلوں نے قانون ہاتھ میں لینے کی اپنی اعلیٰ روایات کے مطابق اسکی اچھی خاصی دھنائی تو کر دی ہے۔اس کے خلاف عدالت کا فیصلہ بھی آ جائے گا ۔

گلو بٹ تو کام سے گیا۔ لیکن اسکے آقاؤں کے ساتھ کیا ہوگا !
کچھ بھی نہیں ہو گا۔ نیا گلو بٹ لے آئیں گے۔
لیکن پھر تو سانحے کے شہیدوں کا خون رائگاں ہی جائے گا !

شہیدوں کا خون ! اس ملک میں !!!
پہلے کبھی رنگ لایا ہے !