پاکستان میں قومی زبان کا تنازعہ
- اتوار 22 / جون / 2014
- 4802
لاہور ہائی کورٹ نے ملک میں اردو کے بطور سرکاری، دفتری و تعلیمی زبان نفاذ کے سلسلے میں وفاق پاکستان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ اور اسے ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر جواب دے کہ آئین پاکستان کی دفعہ 251 پر اب تک کیوں عمل نہیں کیا گیا۔ جب کہ آئین کی اس دفعہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اردو پاکستان کی قومی ، سرکاری، دفتری اور تعلیمی زبان ہو گی۔ اور حکومت 15 سال کے اندر بتدریج انگریزی کی جگہ اردو کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
اس طرح حکومت 1988ء تک اردو کو بطور سرکاری و قومی زبان ملک بھر میں لاگو کرنے کی پابند تھی مگر 15 سال کے بجائے حکومت 40 سال بعد بھی اس کا نفاذ کیوں نہیں کر سکی اور اب تک اس نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کئے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید افتخار حسین نے یہ حکم ڈاکٹر شریف نظامی صدر قومی زبان تحریک کی ایک آئینی پٹیشن پر دیا ہے۔ معروف قانون دان جناب اے کے ڈوگر کے ذریعے جون 2013ء میں دائر کی گئی اس پٹیشن میں وفاق پاکستان کو مرکزی سیکرٹری تعلیم اور وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اور حکومت پنجاب کے سیکرٹری وزارت تعلیم کو فریق بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر شریف نظامی نے یہ پٹیشن دراصل پنجاب میں پہلی جماعت سے انگریزی کو لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں انگریزی کو بطور ذریعہ تعلیم نافذ کرنے کے پنجاب حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی تھی۔ جس میں استدعا کی گئی تھی کہ آئین کی دفعہ 251 پر عمل درآمد کرتے ہوئے اردو کو سرکاری و قومی زبان کے طور پر لاگو کیا جائے اور پنجاب میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جائے۔
اس پٹیشن کی سماعت ابتداء میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کی۔ انہوں نے تینوں مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا جس پر مرکزی وزارت تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ بن گیا ہے اور اب صوبے تعلیم کے معاملات میں مکمل آزاد ہیں۔ اس لیے وفاقی وزارت تعلیم کو اس مقدمہ میں استثناء دیدیا جائے۔ عدالت نے ان کی یہ استدعا قبول کر لی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا جواب تھا کہ اب بین الصوبائی رابطوں اور قومی ورثہ کی الگ وزارت بن گئی ہے اور یہ معاملہ ان سے متعلق ہے۔ عدالت نے اس نکتے کو مانتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو دوبارہ نوٹس جاری نہیں کیا جب کہ پنجاب حکومت کا جواب تھا کہ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے۔ سائنس کی کتب اردو زبان میں موجود ہی نہیں۔ اس لیے نئی نسل کو آنے والے چیلنجوں کے لیے تیار کرنے کے لیے انگریزی زبان میں تعلیم دینا ضروری ہو گیا۔
اس عرصے کے دوران جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے تبادلے کے باعث یہ مقدمہ جسٹس افتخار حسین کی عدالت میں منتقل ہو گیا اور عدالت نے قومی ورثے کی وزارت کو نوٹس جاری کیا کہ وہ بتائے کہ اس نے اب تک اردو کے نفاذ کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں اور حکومت سے پوچھ کر جواب دے کہ وہ کب تک اردو کو بطور سرکاری قومی زبان نافذ کرے گی۔ عدالت کے نوٹس پر گزشتہ سماعت کے دوران قومی ورثہ کی وزارت نے مقتدرہ قومی زبان کی کارکردگی کا ایک ضمیمہ عدالت میں پیش کر دیا کہ حکومت اردو کے نفاذ کے لیے بڑی کوششیں کر رہی ہے اور گزشتہ حکومت نے اس سلسلے میں تین سنیٹرز اور تین ارکان قومی اسمبلی پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی تھی۔ تاہم عدالت نے استفسار کیا کہ اردو کے نفاذ کی مدت 1988ء میں ختم ہو چکی اب حکومت بتائے کہ وہ کب تک اسے بطور سرکاری و قومی زبان لاگو کرے گی ۔
اس دوران عدالت میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب مدعی ڈاکٹر شریف نظامی کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے لارڈ میکالے کی فروری 1835 کی ایک تقریر کا حوالہ دیا جس میں لارڈ میکالے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نظام تعلیم کے ذریعے ہم برصغیر میں پلنے والی نسلوں کی سوچ تک تبدیل کر دیں گے۔ فاضل عدالت نے یہ ریمارکس پڑھ کر مدعی کے وکیل جناب اے کے ڈوگر سے کہا کہ اس اقتباس کی نقل یہاں موجود لوگوں میں بھی تقسیم کریں۔ اب عدالت نے اگلی سماعت تک وفاقی حکومت سے دو ٹوک جواب طلب کر لیا ہے اوراسے ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کو بتائے کہ وہ کیوں آئین کی دفعہ 251 کے تحت اردو کو لاگو نہیں کر رہی۔
اس عدالتی نوٹس کے بعد وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اس کی کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اردو کا نفاذ نہیں چاہتی بلکہ آئین کے اس آرٹیکل پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کر دیا ہے۔ آئینی ترمیمی بل 2014ء کے نام سے پیش کئے جانے والے اس بل کو آئین پاکستان کی دفعہ 251 کا متبادل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچی، بلتی، براہوی، پنجابی، پشتو، شینا، سرائیکی، ہندکو، اردو پاکستان کی قومی زبانیں ہیں۔ ملک کی بڑی بڑی مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک نیشنل لینگوئج کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ اس بل کی منظوری کے 15 سال تک پاکستان کی قومی زبان انگریزی رہے گی۔ تاہم اگلے پندرہ سال کے دوران اس کی جگہ اردو نافذ کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔
معلوم ہؤا ہے کہ اس بل کی منظوری کے لیے مسلم لیگ (ن) اور اس کی حکومت خاصی سرگرم ہے۔ اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا تین روز تک اجلاس بھی ہوتا رہا ہے۔ خیال یہی ہے کہ جب حکومت اس ترمیمی بل کی منظوری چاہتی ہے تو حکومتی پارٹی کے ارکان اس بل کی حمایت کریں گے۔ اس طرح یہ متنازع بل بآسانی منظور ہو جائے گا۔ جس میں آٹھ زبانوں کو (بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے) کو قومی زبان کا درجہ مل جائے گا۔ اور اس طرح نہ صرف اتحاد ملت پارہ پارہ ہو جائے گا بلکہ بے پناہ انتظامی مشکلات بھی پیدا ہو جائیں گی۔
ماروی میمن کے اس بل کے پیش کرنے کے بعد پنجاب حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والا ادارہ پلاک (پنجابی انسٹی ٹیوٹ فار لینگویج آرٹ اینڈ کلچر) بھی اردو کے خلاف سرگرم ہو گیا ہے اور اس کی سربراہ ڈاکٹرصغری صدف تو کھلے عام اردو کے خلاف اپنے بغض اور کینے کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو کے نام پر پنجابی زبان اور ثقافت پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ یوپی سے آنے والے لوگوں نے یہ قبضہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت کے ایک سرکاری ادارے کی سربراہی کرنے والی اس خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی علیحدگی کی وجہ اردو زبان تھی۔ اگر اردو کو قومی زبان بنانے پر اصرار نہ کیا جاتا تو پاکستان نہ ٹوٹتا۔
ایک طرف پلاک کی سربراہ یہ زہر افشانیاں کر رہی ہیں، دوسری جانب قومی زبان زبان تحریک کے عہدیدار جن میں سے بیشتر پنجابی بولنے والے لوگ اور سائنسدان ہیں مگر قومی جذبے سے سرشار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اردو میں نہ صرف ذریعہ تعلیم بننے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے بلکہ اردو ہی کے ذریعے پاکستانی قوم کویکجا کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ علاقائی زبانوں کا پنڈورا بکس کھولا گیا تو قومی سلامتی پارہ پارہ ہو جائے گی۔
قومی زبان تحریک کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماروی میمن کے ترمیمی بل کے ذریعے حکومت اردو کا رسم الخط تبدیل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ لیکن وہ اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ کاش حکومت جو پہلے ہی بے پناہ مسائل سے دو چار ہے اور اب تک کچھ ڈیلیور نہیں کر سکی۔ ایک نیا فساد کھڑا کرنے سے باز رہے۔ اور قومی امنگوں اور یک جہتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو کو قومی زبان اور ذریعہ تعلیم بنانے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔ ورنہ پاکستان کو تو انشاء اللہ کچھ نہیں ہوگا البتہ اس حکومت کا باقی رہنا مشکل ہو جائے گا۔