انقلاب ۔۔۔ انقلاب

  • منگل 24 / جون / 2014
  • 3964

ملک سال بھر کے بعد ہی ایک بار پھر انقلاب ۔۔۔ انقلاب کے نعروں کی گونج سے دہل رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری ایک بار پھر پر امن انقلاب لانے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ انقلاب پرامن نہیں بلکہ خون آلود ہوتا ہے ( یہ خون علامہ صاحب کو پنجاب حکومت کے گلو بٹوں کی بدولت میسر آ چکا ہے)۔

انقلاب ایک نظام کو ختم کرکے دوسرے نظام کو لانے کا نام ہے۔ تاہم علامہ صاحب آج بھی پرامن انقلاب کا نعرہ لگا رہے ہیں جبکہ یہ بات ابھی تک ’’ نامعلوم ‘‘ ہے کہ وہ کونسا ایسا انقلاب لانے والے ہیں جس میں ایک گولی بھی نہ چلے اور ملک کی کایا پلٹ جائے۔

قبلہ قادری صاحب ایمریٹس کے طیارے کے ذریعے پاکستان تشریف لائے۔ مگر انہیں اسلام آباد میں اترنے کی اجازت نہ ملی اور طیارے کا رخ لاہور کی طرف موڑ دیا گیا۔ طیارہ لاہور پہنچا لیکن ڈاکٹر صاحب نے طیارے سے اترنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا میں گھر جانے کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ فوج کا کوئی اعلیٰ افسر مجھے لینے آئے اور فوج کی طرف سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ مزید کہا کہ دفاعی ادارے خاموش کیوں بیٹھے ہیں۔ میں صرف پاک فوج کے حکام سے ہی مذاکرات کروں گا۔

انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ گھر پہنچانے کی پیش کش کی گئی لیکن جواب انکار میں تھا۔ اسی دوران ایمریٹس کی طرف سے یہ بیان سامنے آیاکہ طاہر القادری کا طیارے میں رکنا ہائی جیکنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ ایئر لائن کے حکام نے خبردار کیا کہ اگر معاملہ حل نہ ہؤا تو باقاعدہ ہائی جیکنگ کی درخواست دیں گے۔ بظاہر غیر ملکی ہوائی کمپنی کی تنبیہ کا رگر ثابت ہوئی اور معاملات تیزی سے طے پانے لگے۔ اور بالآخر طاہر القادری گورنر پنجاب کے ہمراہ طیارے سے برآمد ہوئے اور کارکنان کو زیارت کروائی۔

غنیمت ہے کہ پسپائی کا یہ سفر بخیریت طے پا گیا۔ اگر انہوں نے پہلے ہی اپنے عقیدت مندوں اور عام پاکستانیوں کے مفاد کے نقطہ نظر سے سوچا ہوتا تو لاکھوں عام پاکستانی ذہنی اذیت اور ملک و قوم کے بارے میں بے یقینی کے عذاب سے بچ گئے ہوتے۔

’’انقلاب‘‘ کی اصطلاح کے غلط استعمال سے کئی فکری مغالطے اور غلط سیاسی رویے جنم لے رہے ہیں۔ انقلاب کا نعرہ لگا کر لوگوں کو منتخب حکومت کو گرانے پر ابھارنا اور یہ تاثر دینا کہ ریاستی قوتیں لیڈر سے ساز باز کر چکی ہیں، جمہوریت دشمنی ہی نہیں ملک دشمنی بھی ہے۔ یہ طرز عمل طے شدہ سیاسی اخلاقیات سے انحراف اور قوم کو داخلی کشمکش اور تصادم کی طرف لے جانے کا سبب بنتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک اس صورت حال کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہم اس سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ جمہوری نظام میں ایک طے شدہ طریق کار ہے اور اس سے ہٹ کر آئے روز انقلاب انقلاب کے نعرے لگانا سیاسی نظم و ضبط کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ وہ اکثر غیر حقیقی اور ناقابل عمل مطالبات پیش کر کے انتظامیہ کے لئے تو مشکلات پیدا کرتے ہی ہیں، اپنے آپ کو بھی مشکل میں ڈال لیتے ہیں۔ اسی بنا پر 2013ء میں بھی انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی جو کینیڈا واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ لیکن اس موقع پر علامہ صاحب کو بھی داد نہ دینا زیادتی ہو گی کہ گزشتہ پسپائی کے بعد ایک سال میں ہی انہوں نے اتنی طاقت پکڑ لی کہ ایک بار پھر اتنا بڑا شو کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس شو کی کامیابی میں حکومت نے بھی اپنی کردار بخوبی نبھایا ہے۔ علامہ صاحب کا اسلام آباد دھرنا جس طرح اور جن شرائط پر خاتمہ ہؤا  تھا، اس پر سابق صدر آصف علی زرداری کی ذہانت و فطانت کو داد دینی پڑے گی۔

عوامی تحریک کے سربراہ کو سیاست کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن اس کے لئے لازم ہے کہ وہ آئین کے الفاظ پر ان کی روح کے مطابق عمل کریں۔ اگر وہ آئین کی پابندی کریں تو کوئی انہیں روک نہیں سکے گا۔ انہیں اپنے بارے میں یہ تاثر بھی قائم نہیں کرنا چاہئے کہ ان کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہے۔ ڈیڑھ سال کی مدت میں انقلاب کی جانب دوسرے بڑے مارچ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے کارواں میں ان کے سیاسی و مذہبی ادارے اور ان کے تعلیمی اداروں کے ملازمین اور طلبا و طالبات سے ہٹ کر عام لوگوں کی قابل ذکر تعداد نے شرکت نہیں کی۔ انہیں اپنی قوت کا از سر نو اندازہ لگانا چاہئے۔ غیر حقیقی اندازے قادری صاحب کے ساتھ ان کے پیروکاروں کے لئے بھی ہزیمت کا سبب بنیں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے ’’ پرامن انقلاب ‘‘ سے قطع نظر آج ملک کے اہم فورمز پر دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کو جس طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے اس کا  شدید نقصان ہو گا۔ آج ہمیں جس ملی یکجہتی کی ضرورت ہے وہ پارہ پارہ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ حکمران طالبان کے خلاف فائنل راؤنڈ کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے کی بجائے نان ایشوز میں زیادہ الجھے نظر آ رہے ہیں۔

پچھلے کچھ روز میں ہمارے میڈیا نے بھی کمال کر دکھایا کہ شمالی وزیرستان آپریشن سے زیادہ ان کی اسکرینوں پر ’’ گلو بٹ ‘‘ نظر آتے رہے۔ آج ہر فورم پر دہشت گردی کیخلاف جاری ہشت پہلو جنگ کیخلاف عوام کو آگاہی فراہم کرنے اور حقائق سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ مگر کیا کریں طاہر القادری صاحب سب کے حواسوں پر چھائے ہوئے ہیں۔