پی آئی اے بھی تباہ

  • جمعرات 26 / جون / 2014
  • 4603

پانچ دوستوں کی محفل میں کامران نے وہی بات انکشاف انگیز انداز میں کہی جو پورا پاکستان پہلے ہی سے جانتا ہے ۔ “ ریلوے کے بعد پی آئی اے بھی تباہ ہو گیا “۔ نعمان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تم چند ماہ قبل ٹرینیں لیٹ ہونے، انجنوں کی خراب حالت پر، شیخ رشید اور غلام احمد بلور کی کرامتوں کے قصے سنا کر ریلوے کی بدحالی پر ماتم کر رہے تھے اور اب قومی ائیر لائن کا رونا لے بیٹھے ہو۔ میرے بھائی اس ملک میں دو خاندانوں، دو اداروں اور طاہر القادری صاحب کے سوا سب ہی گڑ بڑائے ہوئے ہیں۔ چلو بتاؤپھر بھی کیا ہؤا ؟۔ جو آج تمہیں پی آئی اے یاد آگئی ۔

اس موضوع پر شعیب خاموش نہیں رہا۔ فوراً ہی بول پڑا  کہ ہاں ویسے بھی تمام حکومتوں نے پی آئی اے ، اسٹیل ملز اور ریلوے کی تباہی میں سیاسی بھرتیاں کرکے خوب حصہ ڈالا ہے۔ کاشف نے کہا ہم تو مشرف سے لے کر اب تک ان تینوں اداروں کی نجکاری کی خبریں تواتر سے سن رہے ہیں۔ کامران تبصرے پر تبصرہ سن کر زچ ہور ہا تھا ۔ اس کی دلی کیفیت ایسی تھی کہ کہہ رہا ہو کہ بھائیو میری بھی سن لو! سرمد نے اس کی یہ کیفیت بھانپ لی اور ہمیں خاموش کراتے ہوئے کہا کہ دوستو کامران کی بھی سنو، وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔ بس پھر کیا تھا سب خاموش ہوگئے۔

کامران نے سکھ کی لمبی سانس کھینچتے ہوئے کہا: بھائیو، کوئی بھی شخص جہاز میں بیٹھنے کے بعد تو خود کو محفوظ ہی سمجھے گا نا! سب نے یک زبان کہا ہاں بالکل۔  لیکن میرے بھائی گزشتہ روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے پشاور آنے والی فلائیٹ پر شرپسندوں نے اس وقت حملہ کردیا جب وہ 350میٹر فضا میں تھی ۔اس افسوس ناک واقعے میں ایک خاتون جان سے گئی اور دو افراد زخمی ہوئے۔

کراچی ائیر پورٹ پر دہشتگردوں کے حملے اور طاہر القادری صاحب کے جہاز پر قبضے کے بعد یہ تیسر ا واقعہ ہے۔ جس سے ہوابازی کے ادارے کی دنیا میں سبکی ہوئی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اس صورتحال اور حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کئے جانے کے بعد بس سمجھ لو کہ یہ قومی ادارہ ’’ لٹ گیا، پٹ گیا بلکہ مٹ گیا ‘‘۔

بھائی کامران ! پاکستان گزشتہ 12برس سے حالت جنگ میں ہے۔ ہر طرف ہی بم دھماکے، اہم تنصیبات پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ کی لاتعداد وارداتیں ہوچکی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے علاوہ بھی ہم افغان انٹیلی جنس ، بھارتی خفیہ اداروں کے نشانے پر ہیں۔ جو ہمیں کردہ اور ناکردہ گناہوں کی سزا دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔ اور مجھے تو لگتا ہے کہ دہشتگردی کی تمام ہی وارداتوں میں ان ہی کا ہاتھ ہے۔ بس تلاش کرنے کی دیرہے۔ نعمان نے سب کے سامنے اپنی سازشی تھیوری پیش کر دی ۔

سرمد جو اب تک گفتگو سے لطف اندوز ہورہا تھا،  نے کہا کہ ٹرین لیٹ گئی، ائیر پورٹ اور ہوائی جہاز پر حملے ہورہے ہیں، تو اس میں آنسو بہانے اور افسوس کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بھائیو پاکستانی تو ویسے بھی ہر حال میں جیناجانتے ہیں۔ تم سب کو پتا ہے ۔  وفاقی اور صوبائی حکومت نے موٹر ویز سمیت مواصلات کا جدید نظام بنانے کیلئے ہر سال کی طرح اس برس بھی لگ بھگ 2ہزار ارب روپے کی رقم رکھی ہے۔ بس پھر کیا ہے۔ پکی سڑکوں پر بلور فیملی کی کوچز کی طرح، چوہدریوں، بٹوں، قریشیوں، گیلانیوں، مخدوموں اور سیدوں سمیت کئی سیاسی خاندانوں کی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی بڑی بسیں دوڑ رہی ہوں گی۔ پھر کراچی سے کشمیر تک کا سفر ہوگا ۔ ہم ہونگے اور’’ لڈی ہو جمالو پاؤ لڈی ہوجمالو ‘‘ ہوگی۔ اس نے مسکراتے ہوئے مزید کہا کہ ہر بڑے شہر میں میٹرو بس اور میٹرو ٹرین کے منصوبے ناگزیر ہوجائیں گے۔ اور بڑے لوگ جیبیں بھر کر لڈی ڈال رہے ہونگے۔

2 ہزار ارب روپے! نعمان نے حیرت سے کہا ۔ لیکن بھائیو اتنی رقم خرچ ہونے کے باوجود بھی کشمیر سے کراچی تک کی سڑکوں میں کئی جگہوں کی حالت ایسی ہے کہ جھٹکے لگ لگ کر پتھری کے مریض کی پتھری منہ سے نکل آئے ۔ شعیب نے کہا کہ  بالکل درست بات ہے، اس میں سے صرف 1ہزار ارب بھی سڑکوں پر لگ جائے تو یہ صورتحال نہ ہو۔ مگر کیا کہیں، جو لوگ ریلوے ، اسٹیل ملز اور پی آئی اے کو ڈکار گئے، انہوں نے سڑکوں کی کمائی کو کہاں بخشنا تھا ۔ ویسے بھی یونہی تو کھربوں ڈالر ملک سے باہر نہیں چلے گئے۔

کامران جو کافی دیر سے ساری گفتگو سن رہا تھا بول اٹھا کہ کرپشن تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتی ہے مگر وہاں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی اس سے متاثر نہ ہو۔ ریلوے، ائیر لائن، سڑکوں کی تعمیر میں طے شدہ معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جاتا ہے۔ امن و امان کا قیام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لئے پولیس بھی سیاست ، سیاستدانوں اور کرپٹ عناصر سے تقریباً پاک ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں تو سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہی ترقی کے نام پر ہے۔

کاشف جو شروع سے اب تک پوری گفتگو صرف سن رہا تھا بولا  کہ مطلب ریلوے، ائیرلائن، اسٹیل ملز سمیت تمام اداروں کی تباہی کے پیچھے صرف دہشتگردوں کے حملے نہیں بلکہ کرپشن کا ہونا، معیارات اور ترجیحات کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ یعنی اگر ہم نے اب بھی معیارات اور ترجیحات کی فہرست نہ بنائی تو آئندہ سال بھی ایک اور ادارے کی تباہی و بربادی کا ماتم کریں گے۔ ویسے سیاستدانوں اور ملک کے کرتا دھرتاؤں کے چال چلن سے لگتا ہے کہ ہوگا یہی۔ جس نے بھی کہا درست کہا، یار زندہ صحبت باقی ۔