پاکستان کے دوست یا دشمن

  • اتوار 29 / جون / 2014
  • 5218

رمضان المبارک نے قدم رنجہ فرما دیا ۔ مسجدیں آباد ہو گئیں ۔ جو لوگ اس مہینے کو محض ثقافتی مظہر سمجھتے ہیں اُن کو پرتکلف سحریاں اور افطاریاں مبارک ہوں ۔ اللہ اُن کی خوش خوراکی سلامت رکھے مگر جو لوگ روزے کو تقوے کی کُنجی سمجھتے ہیں، اللہ اُنہیں روح اور بدن کی پاکیزگی عطا فرمائے ۔ اُنہیں تطہیرِ قلب سے ہمکنار کرے ۔

ہم تارکینِ وطن کی پردیس میں زندگی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے گھروں کی کھڑکیاں ہمیشہ پاکستان کی جانب کھلی رہتی ہیں اور ہم مسلسل اس کھڑکی سے جھانکتے رہتے ہیں ۔ اور ہر آن ہوا کے تازہ جھونکوں کی توقع رکھتے ہیں مگر بارود اور خون کی بُو ہمیں سُکھ کا سانس لینے ہی نہیں دیتی ۔

پاکسانیوں کا من حیث القوم سب سے بڑا مسئلہ ان کا پاکستان دشمن سیاسی اور شہری رویہ ہے ۔ انہیں اپنے وطن سے محبّت کرنے کا نہ تو سبق ہی ملا اور نہ ہی قرینہ آیا ۔ جب سیاسی اور مذہبی نعرے ، قومی گیت ، جنگی ترانے ، سیاسی بیانات ، مذہبی خطبات اور دانشورانہ مو شگافیاں ملک کے لوگوں کے طرزِ عمل کو تبدیل نہ کرسکیں تو لوگ بطور قوم اپنا جواز کھو بیٹھتے ہیں۔ مگر ہم نے ان نعروں اور کاغذی تصور کی بنیاد پر ایک خیالی پاکستان تعمیر کر رکھا ہے جو حکمران اور مراعات یافتہ طبقوں کی منشا و مرضی کا مرہونِ منّت ہے جس کا عوام کی ترقی ، خوش حالی اور امن و سکون سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔

 دنیا بھر میں ہر قوم کے اپنے مخصوص ثقافتی خدو خال ہوتے ہیں اور وہ قومیں اُن حوالوں سے شناخت ہوتی ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان دہشت گردی ، خود کُش بمباری اور بد امنی کا بین الاقوامی مظہر بن کر رہ گیا ہے اور فی زمانہ یہی اس کی شناخت ہے ۔ اس وقت “ ضربِ عضب “ کے نام سے جو فوجی آپریشن جا ری ہے وہ اپنوں کی اپنوں کے خلاف جنگ ہے ۔

کتنی المناک تاریخ ہے جو وقت لکھ رہا ہے ۔ جس قوم کی عمر ابھی صرف سرسٹھ سال ہے وہ مسلسل خانہ جنگی کی فضا میں سانس لے رہی ہے ۔ یہ خانہ جنگی گھروں کے آنگنوں سے لے کر میڈیا کے برقیاتی ایوانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ مختلف ٹی وی چینلوں پر ٹاک شوز اس خانہ جنگی کا دیباچہ لگتے ہیں ۔ سیاسی اور مذہبی دانشوروں کے ابلاغی معرکے دیکھ کر لگتا ہے جیسے ریچھ کُتّوں ، سانپوں نیولوں یا جنگلی بھیڑیوں کی لڑائی ہو رہی ہے ۔

اب سوال یہ ہوگا کہ جس ملک کے دانشور، علماء اور سیاسی اکابرین ایسے بد تمیز اُجد ، لڑاکا اور پھوہڑ ہوں گے وہ اپنی قوم کی کیا تربیت کریں گے ؟ ملک جو کئی دہائیوں سے “ مولا جٹ “ کلچر کا شکار ہے ، اب طالبانی فکر کے تحت بارود کے محل تعمیر کر کے کلاشنکوفوں کی بانہوں سے زور آزمائی کر رہا ہے اور ٹی وی چینل ایک دوسرے سے سوکنوں کی طرح لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو وطن دشمن اور اسلام دشمن قرار دے رہے ہیں ۔

یہ بدزبانی اور دریدہ دہنی مذہب کی توہین اور قرآن کی بے حرمتی ہے جو بلاس فیمی کی ذیل میں آتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے “ قولو للناس حسنا “ کا حکم جاری کر رکھا ہے مگر میڈیا اس قانون کا قاتل ہے ۔ قرآن کے پرزے اُڑا رہا ہے ۔ حسنِ کلام کے حکم کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے ، مسلسل بے حرمتی ہو رہی ہے ۔ ایسے چینلوں اور اُن کے دریدہ دہن باتونیوں کو اگر نہ روکا گیا تو اس ملک کی نئی نسل کے حق میں زیادتی ہو گی کیونکہ میڈیا اپنے گمراہ کن رویوں سے ذہنوں کو کرپٹ کر رہا ہے ۔

اس وقت پاکستان عوامی تحریک کی کل جماعتی کانفرنس جاری ہے ۔ جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی فرقہ آرائی ، مذہبی فرقہ آرائی کی طرح پورے شباب پر ہے، جو ریاستی دہشت گردی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ حالانکہ ریاستی دہشت گردی سے زیادہ زہر ناک وہ مذہبی دہشت گردی ہے جس نے ملک بھر میں عوام کی زندگی مدتوں سے اجیرن کر رکھی ہے ۔ مذہب ، خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ، مقدس اور با برکت ناموں کے حوالے سے جاری فتوؤں کو آلہء قتل میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور مذہبی ادارے ایسی قتل و غارت گری کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں ، اور یہ جرم کر کے اس کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے ملکی انتظامیہ پر ڈال دیتے ہیں ۔

یہ ہے وہ بھیانک منظر نامہ جو پاکستان پر اُترے عذاب کی گواہی ہے ۔ اس عذاب کا سدِ با ب موجودہ سیاسی ، مذہبی ، عسکری یا ثقافتی اداروں کے بس کی بات نہیں ، کیونکہ ان اداروں میں بھی وہی لوگ بیٹھے ہیں جو اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں ۔

ہر سیاسی اور مذہبی مفکر نظام کی تبدیلی کی بات کرتا ہے مگر کون لائے گا یہ تبدیلی ؟ کرپٹ اپنی کرپشن کیسے چھوڑیں گے ؟ قاتل اپنے قتل کے رجحانات اور غاصب اپنی ہوس اور لالچ سے کیسے باز آئیں گے ؟ میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ میرا خُدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ ان سیاسی مُخنثوں کر ہٹا کر ایک  “ خلقِ جدید “ لے آئے جو اس زمین کا نطام راستی ، راستبازی اور انصاف سے چلائے۔ مگر کب؟  کوئی نہیں جانتا ۔ میرا دوست ظہیر کاشمیری بھی نہیں جانتا تھا جس نےکہا تھا:
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

اور ظہیر کاشمیری کو رُخصت ہوئے اب دو دائیاں ہونے کو ہیں مگر اجالے کی بجائے لوڈ شیڈنگ نے اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے اور اب تو خواب بھی دکھائی نہیں دیتے کیونکہ ڈینگی کے خوف سے نیندیں حرام ہیں ۔ ایسے میں منیر نیازی کی تعلیم یاد آتی ہے :
جتن کرو کجھ دوستو !
توڑو موت دا جال
پھڑ مُرلی اوئے رانجھیا
کڈھ کوئی تِکھی تان
مار کوئی تیر اوئے مرزیا!
کھِچ کے ول اسمان