منشیات سے پاک سماج
- منگل 01 / جولائی / 2014
- 4449
26؍جون1987کو بھی یونائیٹیڈ نیشن کی جنرل اسمبلی کی جانب سے یوم انسداد منشیات منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد دنیا میں منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار اور اس کے ذریعہ لامحدود مسائل سے دوچار معاشرہوں کو نجات دلانا تھا۔لیکن نتائج اس بات کے شاہد ہیں کہ جن مقاصد کے حصول میں اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ،اُس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
بین الاقوامی سطح سے لیکر ملکی سطح تک اس بار بھی 26؍جون 2014 انسداد منشیات دن منایا گیا ہے۔ اس حوالے سے منعقد ہونے والی ایک تقریب سے صدر جمہوریہ ہندمسٹر پرنب مکھرجی نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ منشیات کے شکار لوگوں کی شناخت،رہنمائی، کاؤنسلنگ اور نشے کی لت چھڑانے کے ساتھ ساتھ بعد میں ان کی دیکھ بھال اور آباد کاری کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔شراب نوشی اور منشیات کی لعنت ذہنی، سماجی،طبی مسئلہ ہے ۔ جس سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔جامع علاج پروگرام کا مقصد صرف متاثرہ لوگوں کی شراب نوشی اور منشیات چھڑانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات کے شکار لوگوں کو منشیات سے آزاد،جرائم سے آزاد اور روزگار فراہم کرکے معاشرے کے کار آمد ممبر بنانے کی طرف توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔
صدر نے کہا کہ ملک میں نشہ خوری بڑھ رہی ہے اور اس کے سبب مشترکہ خاندانی نظام اور سماجی اقدار تباہ ہو رہی ہیں۔نشہ خوری کی برائی پر قابوپانے کے لیے نہ صرف ایسی چیزوں کی حصولیابی کم کی جائے بلکہ ان سماجی حالات سے نمٹا جائے جو ان کی مانگ میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ہمارے آئین ساز شراب اور منشیات کے خطرات سے باخبر تھے اور اسی لیے انہوں نے راہنما اصولوں میں یہ واضح کیا کہ ریاستوں کو ان پر پابندی لگانے کی طرف کام کرنا چاہیے۔سرکاری بیان میں کہا گیا کہ کافی وقت سے پوری دنیا میں نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے اور ہندوستان بھی اس سے بچا ہوا نہیں ۔ صدر جمہوریہ ہند اور ان جیسے دیگر حکومتی ذمہ داران کی تقاریر سے احساس ہوتا ہے کہ وہ ملک میں منشیات کی روک تھام میں سنجیدہ ہیں۔اس کے باوجود اس مسلہ پر قابو نہیں پایا جاسکا�آخر اس کی کیا وجوہات ہیں۔
انسداد منشیات کے خلاف منائے جانے والے دن اس بات کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے کہ منشیات کے استعمال سے خراب�ئ صحت کے مسائل بڑے پیمانہ پر رونما ہوتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے،جگر کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،ہائی بلڈ پریشر اور لو بلڈ پریشر جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں،دل متاثر اور دل کی بیماریاں بڑھتی ہیں، ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں،کینسر پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،انیمیا ہوتا ہے،یادداشت کمزور ہوتی ہے، خود پر کنڑول رکھنے یہاں تک کہ چلنے پھرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے، نیند متاثر ہوتی ہے اورمتاثرہ لوگ بڑے پیمانہ پر ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔
سماجی مسائل میں خاندان متاثر ہوتے ہیں،رشتوں میں ناچاقیاں بڑھتی ہیں،صنف نازک پر ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوتا ہے، بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے، معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں، ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوتا ہے،انسداد قانون کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے ،نشہ خوری کی لت میں مبتلا افراد چوری و ڈکیتی کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں، صحیح و غلط اور جائز و ناجائز کی تمیز ان افراد میں ختم ہوجاتی ہے۔منشیات کے استعمال سے نہ صرف صحت عامہ کے مسائل بلکہ خاندانی،سماجی اور معاشی مسائل کے علاوہ متاثرہ افراد میں بولنے،سوچنے وسمجھنے اور عمل و ردّ عمل جیسی صلاحیتیں بھی کمزور پڑ جا تی ہیں۔
الکوحل یا منشیات لوگوں کو ان کی پریشانیوں،آزمائشوں اور مسائل کو بھلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں فی الوقت77فیصد نشہ کرنے والوں کی عمر11سے 18سال ہے اور زیادہ تر نوجوانوں کو منشیات کی لت کالج اور ہاسٹل کی آزادانہ زندگی سے ہی لگ جاتی ہے۔ملک کے صوبہ پنجاب کے چار اضلاع امرتسر،جالندھر،پٹیالہ اور بھٹندا میں کئے گئے سروے کی روشنی میں78.5فیصد نشہ کرنے کی عادت16سال میں ہی پڑ جاتی ہے۔متاثرہ نوجوان اور بڑی عمر کے مرد و خواتین جو اس تباہ کاری میں ملوث ہیں کن کن خطرات سے دوچار ہیں ، اس کا اندازہ عالمی ادارہ صحت WHOکے حالیہ ٹرینڈس سے لگایا جاسکتاہے۔ جس کے مطابق اگر تمباکو خوری پر کنٹرول نہ کی گیا کئی ملین بچے ہلاکت کا شکار ہوجائیں گے۔
دیگر مسائل کی طرح دنیا میں آج منشیات کا فروغ و استعمال بھی ایک بڑامسئلہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسمگلروں نے نشہ آور مرکبات پر توجہ دی۔مارفین،کوکائین، ایتھر اور ہیروئن کے استعمال کے نتیجہ میں اموات ہوئیں تو حکومتیں اس اہم معاشرتی خطرہ کا سدباب کرنے پر مجبور ہوئیں۔پہلے ملکی سطح پر ،پھر بین الاقوامی سطح پر اس کی روک تھام کے لیے قوانین بنائے گئے اور کئی تنظیمیں وجود میں آئیں تاکہ نشہ خوری اور اس کے سدباب کا مقابلہ کیا جائے۔ایک عالمی تنظیم، بین الاقوامی تنظیم برائے انسداد افیون و دیگر مضرادویات بنائی گئی جو بعد میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے انسداد منشیات میں تبدیل ہو گئی۔
اسی تعلق سے حکومت ہندبھی فی الوقت361؍ والنٹری آرگنائزیشن چلا رہی ہے جو 376،de-addiction-cum-rehabiliation centres قائم کیے ہوئے ہیں۔ملک کے مختلف حصوں میں68؍کاؤنسلنگ اور آگاہی مراکز(awareness centres) سرگرم ہیں نیز 100؍de-addiction centers خدمات انجام دے رہے ہیں۔حکومتی سطح کی کوششوں کے علاوہ لا محدود غیر حکومتی تنظیمیں( NGOs)بھی انسداد منشیات کے حصول میں شریک عمل ہیں۔تو پھر کیوں ان تمام کوششوں کے باوجودنہ مسائل میں کمی آتی ہے،نہ منشیات کے استعمال پر قابو پایا جاتا ہے ۔ نہ خاندانی مسائل جو اس کے سبب پیدا ہوتے ہیں ان میں کمی آتی ہے،نہ معاشی ،سماجی و معاشرتی مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ ہی اس قدر بڑے پیمانہ پر مال و دولت ،وقت ، صلاحیتوں اور وسائل کے فروغ و استعمال سے مسئلہ کا حل کا نکلتاہے؟
درحقیقت ان مسائل سے نمٹنے میں جو فکر کارفرما ہے وہی ناقص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقص فکر ونظر کی بنا پر رائج طریقہ تعلیم میں جس معصوم اور نوجوان نسل کو سینچا اور پروان چڑھایا جاتا ہے وہ مسئلہ کے حل میں مزید رکاوٹ بنتا ہے۔پھر ناقص طرز حکومت بھی مسئلہ کا بھر پور حل نہیں رکھتی۔ جس کی روشنی میں روشن خیال جمہوریت کے علمبردا ر قوت و اقتدار کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ معاملہ واضح و مستحکم عقیدہ ، فکر و نظریہ اور طرز حکومت میں تبدیلی کا ہے ۔ جس کی تلاش میں آج عالم انسانیت در در بھٹک رہی ہے۔ اس رہنمائی کے بغیر اس مسلہ کو حل کرنا اور دکھی انسانیت کو ان مشکلات سے نجات دلانا ممکن نہیں ہے جن میں وہ اس وقت مبتلا ہوچکی ہے۔