بلوچوں کے لئے قابل قبول حل

  • جمعہ 04 / جولائی / 2014
  • 3780

ہالینڈ کے ایک صف اول کے جریدے نے ایشین ہیومن رائٹس کے حوالے سے ایک طویل اداریہ سپرد قلم کیا ہے۔ جس میں اس نے پاکستان میں ہو رہی دوسری کارروائیوں کے علاوہ حال ہی میں بلوچستان سے دریافت ہونے والی نامعلوم قبروں کی تفصیلات درج کی ہیں۔

ڈچ نامہ نگار خضدار کے اسسٹنٹ کمشنر افضل سپرا کے حوالے سے لکھتا ہے کہ حالیہ منظر عام پر آنے والی نامعلوم افراد کی قبروں کی تعداد 17 سے بڑھ کر 24 ہو گئی ہے۔ جبکہ زندہ دفن کئے گئے افراد کی لاشوں کی تعداد 115 تک جا پہنچی ہے۔  مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صرف توتک Totak قصبے سے 78 قبریں دریافت ہو چکی ہیں اور نعشوں کی کل تعداد 169 ہے۔ چونکہ نامعلوم افراد کی قبروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اس لئے فوج کی حساس ایجنسیوں نے اس علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ وائس فار بلوچستان مسنگ پرسنز VBMP کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے بتایا ہے کہ 2013ء میں 161 افراد کی گمشدگی کی اطلاع تھی جو کہ مختلف خفیہ ایجنسیوں کی کارروائیاں سمجھی جاتی ہیں۔

نامہ نگار لکھتا ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہؤا ہے کہ یہ نامعلوم خفیہ قبریں بلوچستان کی ایک معروف شخصیت شفیق مینگل کے گھر کے قریب پائی گئی ہیں ۔ یہ شخص ” نفاذ امن“ نامی تنظیم کا سربراہ بتایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے ہوم سیکرٹری اسد الرحمن نے ان قبروں کی تصدییق کی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے مسخ شد لاشیں برآمد ہونے کا از خود نوٹس لیا ہے۔ ان قبروں اور نعشوں کے منظر عام پر آنے کے بعد یورپ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہالینڈ کی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ مسخ شدہ لاشیں تو پہلے بھی ملتی رہی ہیں۔ لیکن اجتماعی قبروں کی دریافت پر انسانی حقوق کی تنظیموں میں بے حد تشویش پائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ 2000ء سے جنوری 2014ء تک بلوچستان میں گمشدہ افراد کی تعداد لگ بھگ 19 ہزار بتائی جاتی ہے۔ میرے حساب سے اجتماعی قتل و غارت ہو یا ٹارگٹ کلنگ ، کشور حسین شاد باد کئی برسوں سے ایک وسیع مقتل بن چکا ہے۔ اس قتل گاہ میں دہشت گردی ، خود کش حملے ، فرقہ وارانہ قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ یہ کہانیاں ہر روز دہرائی جا رہی ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اور یہاں کی اقدار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ نہ کوئی سمت ہے اور نہ کوئی منزل۔ یہاں کے حکمرانوں کے لئے ہر قسم کی لاقانونیت ، جبر ، جھوٹ ، فراڈ ، مذہبی اور نسلی تعصبات کا فروغ ان کا طرز حکمرانی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ریاستی ادارے جو عوام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں یا کرنے کے ذمہ دارہوتے ہیں، وہ اپنے مفادات مقرر کر لیتے ہیں اور اکثر اوقات ماورائے آئین اپنی آزاد حیثیت قائم کر لیتے ہیں اور بدقسمتی سے وطن عزییز میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔

ایک حالیہ مثال پیش خدمت ہے۔ حامد میر پر حملے کے حوالے سے جن اداروں پر شک و شبہ کا اظہار کیا گیا وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ حالانکہ حامد میر مسنگ پرسنز کا ایشو لیکر اپنے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر آئے تھے۔ اٹھائے اور غائب کئے جانے والے افراد کے مقدمات اگر عدالتوں کا منہ دیکھتے تو آج یورپ کے اخبارات ہیومن رائٹس کے حوالے سے بلوچستان میں مسنگ پرسنز پر اپنی تشویش کا اظہار نہ کرتے اور یورپین یونین کے ممالک دبے دبے لفظوں میں اپنی پارلیمنٹ میں ان ایجنسیوں کے رول کا ذکر نہ کرتے اور نہ یونین کے ان ممالک میں صحافتی حلقوں اور پریس کلبوں میں یہ مسئلہ زیر بحث  آتا اور نہ ہی کوئی ان اداروں کو مورد الزام ٹھہراتا۔

اب مغرب کے دانشوروں اور صحافتی حلقوں میں یہ بحث کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ پاکستان میں وسائل چھینے اور حقوق غصب کئے جا رہے ہیں۔ ایجنسیوں کا رول پہلے سے کہیں بڑھ چکا ہے۔ بلوچستان کی 35 فیصد آبادی کے پاﺅں میں جوتا اور تن پر کپڑے تک نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں نیو کلیئر ٹیسٹ پر جو ضلع چاغی بلوچستان میں کیا گیا تھا ، 140 بلین روپے خرچ ہوئے تھے جبکہ اسی بلوچستان میں صوبے کی بیشتر آبادی پانی سے محروم ہے۔

گزشتہ ماہ میرا ایک ڈچ صحافی دوست برصغیر کے دورہ سے واپس آیا تو سب سے پہلی بات جو اس نے مجھ سے کہی وہ یہ تھی کہ مضبوط مرکز نے پاکستان کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے خیال میں آئینی و جمہوری روایات اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کے خلاف جاری آپریشن کی بھرپور مزاحمت کی جا رہی ہے۔ اس کے خیال میں قوم پرست جماعتوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ بلوچستان کے باشندوں کا حق مانگتی ہیں۔ وہ بتا رہا تھا کہ بلوچستان میں آگ سے کھیلنے والوں کے ہاتھ جل جائیں گے۔ پاکستان میں مضبوط مرکز کے فلسفے نے مضبوط پاکستان کے نظرئیے کو کمزور کر دیا ہے اور یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ جب تک پاکستان کی چاروں قوموں کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے مستحکم پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 90 ممالک میں 55000 ہزار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں لیکن المناک و شرمناک صورتحال یہ بھی ہے کہ ان 90 ممالک میں 99 فیصد مسلم ممالک شامل ہیں اور اس سے زیادہ افسوسناک ، المناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ بقول ایمنسٹی انٹرنیشنل ان گمشدگان میں سب سے زیادہ تعداد ان بد نصیبوں کی ہے جو مملکت خداداد اور کشور حسین شاد باد میں غائب یا گم کر دئیے گئے ہیں۔

آج عالمی سطح پر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ لوگ کسی جرم میں ملوث ہیں تو پھر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے۔ ان مغربی بھولے بھالے دانشوروں کا یہ بھی خیال ہے کہ کوئی خفیہ ایجنسی یا ادارہ آئین یا قانون سے بالاتر نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں حساس اور خفیہ ایجنسیوں کو اس کے بارے میں جواب دینا ہو گا۔ حال ہی میں جن 43 افراد کے پراسرار انداز میں اٹھائے جانے کی شکایت کی گئی ہے ان افراد کے معاملے کو بلوچستان کی ” قومی تحریکوں “ سے منسلک کیا گیا ہے۔

یورپی انسانی حقوق گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر 141 لاپتہ افراد کی ایک علیحدہ لسٹ پیش کی ہے جن کا تعلق بلوچستان اور سندھ کی قومی پارٹیوں کے شیعہ طلبا سے ہے۔ یہ تمام طالب علم قومی تحریکوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان طلبا کا تعلق مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان کی یونیورسٹیوں سے ہے۔ یہ بلوچ قوم پرست طالب علم چاہتے ہیں کہ انہیں بلوچستان میں فیصلہ سازی کا اختیار دیا جائے اور مرکز میں بلوچوں اور بلوچستان کا حصہ الگ کیا جائے۔ اور میرے حساب سے یہ کوئی بری ، غلط یا انہونی بات نہیں۔ یہ ان کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہئے۔ وہ خود کو ” ریڈ انڈین “ بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ گیس اور تیل میں ان کو حصہ ملے۔ گوادر کی بندرگاہ پر ان کا بھی حق ہو۔ یقیناً ان کا حق ملنا چاہئے اور وہ اپنے وسائل کے سب سے زیادہ حصہ دار اور حقدار ہیں۔ چنانچہ ان دانشوروں اور صحافیوں کو ان کے غائب کر دینے کی یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اپنی تعمیر و ترقی کا خود فیصلہ کرنا چاہتے ہیں نہ کہ اسلام آباد جو چاہے ، جب چاہے اور جیسا چاہے کرتا پھرے۔

ہمارے ارباب اختیار شاید ابھی تک اندازہ نہیں کر پائے کہ لاپتہ افراد اور نامعلوم قبروں کا معاملہ کتنا حساس، نازک اور عالمگیر ہے۔ بغاوت کے نام پر اٹھا کر قید خانوں میں ڈال دئیے گئے یہ نوجوان کہاں ہیں کوئی نہیں جانتا۔ قید خانے کہاں ہیں کسی کو نہیں معلوم۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حساس معاملہ سپریم کورٹ سے ہوتا ہؤا عالمی سطح کا ایشو بن گیا ہے۔ مغرب کے دانشوروں اور صحافیوں میں ان واقعات کا چرچا ہونے لگا ہے اور وہ دن دور نہیں کہ بقول چیف جسٹس گمشدہ افراد کا پتہ لگانا حکومت کا فرض ہے۔ اور کیا وہ اس وقت کا انتظار کر رہی ہے کہ جب احتجاج کرنے والے کمرہ عدالت میں داخل ہو کر نعرے لگائیں گے۔ میرے حساب سے پاکستان ستاروں ، سیاروں اور کہکشاﺅں پر بہت کمندیں ڈال چکا، اب اسے عوام کی بھلائی کیلئے کچھ کرنا ہو گا۔

پہلے آتی نہیں تھی نیند مجھے

اب میرا چارہ گر نہیں سوتا