اطہر عباس ٹریپ ہو گئے؟
- جمعہ 04 / جولائی / 2014
- 4756
پاک فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل ( ر) اطہر عباس نے سابق چیف آف اسٹاف جنرل ( ر) اشفاق پرویز کیانی پر خود کش حملہ کیا ہے۔ انہوں نے سابق آرمی چیف کے خلاف تند وتیز باتیں کی ہیں۔ کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ برطانوی نشریاتی ادارے نے انہیں ٹریپ کرلیا یا پھر اطہر عباس نے جان بوجھ کر کسی خاص مقصد کے تحت اس وقت لب کشائی کی ہے۔
اطہر عباس نے برطانوی نشریاتی ادارے کو 30 جون کے انٹرویو میں بہت کچھ کہا ہے۔ انہوں نے جنرل ( ر) اشفاق پرویز کیانی کو بزدل کہنے کے سوا باقی سب کچھ کہہ دیا ہے۔ اگرچہ یہ باتیں نئی نہیں ہیں اور میڈیا میں پہلے بھی ان پر چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں۔ تاہم ایک اعلی سابق فعجی افسر کی جانب سے ان باتوں کو یوں واشگاف لفظوں میں بیان کرنا اپمی جگہ اہمیت کا حامل بھی ہے اور باعث حیرت و استعجاب بھی۔
ویسے11- 2010ء کی باتیں اطہر عباس صاحب اب کیوں سامنے لارہے ہیں؟۔ وجوہات جو بھی ہوں ، جلد یا بدیر یہ باتیں سامنے تو آہی جاتیں۔ آپ نے یہ تو بتادیا کہ فوجی قیادت نے 2010ء میں آپریشن کا اصولی فیصلہ کیا تھا اور کارروائی2011ء میں ہونا تھی، جو اشفاق پرویز کیانی کی ہچکچاہٹ یا عوامی رد عمل کے باعث مؤخر ہوتی رہی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتے تو اچھا تھا کہ اس آپریشن کے اصولی فیصلے کو پی پی حکومت کی حمایت بھی حاصل تھی کہ نہیں؟۔ یا فیصلے ایک بار پھر بالا ہی بالا ہوگئے تھے؟۔
ویسے سوچنے کی بات ہے کہ کیا آپریشن 2011ء میں ممکن بھی تھا؟کیونکہ2011ء میں ریمنڈ ڈیوس ایشو(16مارچ تا13اپریل) اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موت کا معاملہ(2مئی) اور سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملہ 26نومبر اور نیٹو سپلائی بندش ایشو کے دوران کیا وزیر ستان آپریشن پاک فوج کے حق میں جاتا ؟۔ اس کی مخالفت کس قدر شدید ہوتی۔ اگراس معاملے پر اشفاق پرویز کیانی نے امریکہ مخالف رائے عامہ کی نبض پر ہاتھ رکھ کر معاملے کو تاخیر دی تو اس سے بڑھ کر ملک اور عسکری ادارے کی بہتری کیلئے دانش مندانہ بات کیا ہے؟۔
اور آپ یہ بھی مانتے ہیں کہ اس وقت فوج کی اعلیٰ قیادت میں آپریشن کے معاملے پر دو رائے پائی جاتی تھیں۔ اس صورتحال میں کیانی صاحب کا فیصلہ غلط کیسے ہوگیا؟ اسے آپ کیانی صاحب کی ذاتی کمزوری قرار دے کر جمہوریت اور فوج کی کونسی خدمت کررہے ہیں؟ یہ نکتہ ہم سب کیلئے غور طلب ہی رہے گا۔
آپ کے خیال میں وقت ضائع کیا گیا۔ جس سے کافی نقصان بھی ہؤا اور شدت پسندوں کے قدم مضبوط بھی ہوگئے۔ چلیں آپ کی بات پر ’’ دیر آید درست آید ‘‘ کے مصداق، فوجی نہیں قومی آپریشن “ آپریشن ضرب عضب “ کا فیصلہ ہوگیا ۔ حکومت ہر ممکن کوشش سے اور عوام دعاؤں میں پاک فوج کی کامیابی چاہتے ہیں۔ ایسے وقت میں یہ کہنا کیا درست ہے کہ “ قوم دہشتگردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی توقع نہ کرے “۔ آپ کیا بتارہے ہیں کہ ناگزیر آپریشن اپنے اہداف حاصل نہ کرسکے گا۔ آپ کے بیانات کی اس سیریز سے کیا فوج اور قوم کا مورال بلند ہوگا؟
میرا نہیں خیال کہ آپ کی ایسی گفتگو سے قوم کا کچھ بھلا ہوگا۔ الٹا آپ نے سابقہ فوجی قیادت پر تنقیدی گفتگو کرکے بہت سے لوگوں کو مشرف سمیت کئی ایشوز پر لب کشائی کی اجازت دیدی ہے۔
دوسری طرف فوجی کارروائی کے مخالف آج بھی آپریشن ضرب عضب کی ناکامی کی خبر یں لارہے ہیں۔ آپ نے بھی تازہ انٹرویو اور سیفما کے سیمینار سے خطاب میں امید افزا کچھ نہیں کہا ۔ آپ نے سوات آپریشن کے متاثرین کی درست دیکھ بھال پر فوجیوں کے تحفظات بھی کھل کر بیان کئے مگر ٹی وی اور اخباری رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال وزیرستان کے متاثرین کے ساتھ بھی جوں کی توں روا رکھی جارہی ہے۔
مطلب دو ہفتوں میں ہی آپ آپریشن کی ناکامی کا اعلان کرکے قوم کاحوصلہ توڑ رہے ہیں۔ جمہوری حکومت کی امیدوں پر پانی ڈال رہے ہیں ۔ آپ کی 2011ء کے حالات و واقعات سے ہٹی ہوئی گفتگو کے باوجودوفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بات کو ہی درست کہا جائیگا کہ “ ذمہ دار لوگ راز کی باتیں زبان زد عام نہیں کرتے “۔