لائل پور سے لانڈھی جیل تک (آخری قسط)

  • ہفتہ 05 / جولائی / 2014
  • 4658

پندرہ ماہ کا سال

دن تو کسی نہ کسی طرح قاضی صاحب کے ساتھ گفتگو کرتے گزر جاتا ، وہ اپنی لڑائیوں ، ڈکیتیوں ، دشمنیوں کے اور اپنے بچپن کی معصومیت کے قصے سناتے رہتے۔ رات کے کچھ پہر تک اپنی کوٹھڑی سے ، سچل سرمست ، شاہ لطیف بھٹائی اور بلے شاہ گا کر سناتے۔ مگر جیسے جیسے رات بڑھتی کوٹھڑی کی کالی دیواروں پہ مختلف سائے بنتے مٹتے لگتے۔

کبھی نظر آتا ایک ہجوم ہے جو سرخ پرچم لئے شہر کی سڑکوں پہ امڈ پڑا ہے۔ ظلم کی ہر دیوار گرائی جا رہی ہے۔ جیل کی سلاخیں اور دویواریں ٹوٹ رہی ہیں۔ تاج اچھالے جا رہے ہیں۔ تخت گرائے جا رہے ہیں۔ سارا شہر رقص میں ہے اور کبھی لگتا جلادوں نے ہر چوک کو پھانسی گھر بنایا ہوا ہے ، فوج کی الشمس البدر گھروں کے کواڑ توڑ کر چار دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے پانی کے گھڑوں کو چکنا چور کرتی ہیں۔ کسی کو پالنوں سے کھینچتے ، کسی کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے باہر لا رہی ہیں۔ مسجدوں کے لاﺅڈ اسپیکروں سے لوگوں کے خلاف فرد جرم کی اذانیں دی جا رہی ہیں اور فوجی مسجدوں کے قیدی نماز فرض ادا کرتے کربلا میں کوڑے کھاتے پھانسیوں کے پھندے گلے میں ڈالے اور پاﺅں کے نیچے سے سرکتے تختوں سے لٹک رہے ہیں۔ بس ایک عنایت حسین بھٹی ہے جو اک تارا لئے اجاڑ چوکوں میں رندھی آواز میں امرتا پریتم گاتا پھرتا ہے:

اک روئی سی دھی پنجاب دی ، توں لکھ لکھ مارے وین۔۔۔ اج لکھا دھیاں روندیاں۔۔۔ پیاں وارث شاہ نو کہن۔۔۔ اٹھ درد منداں دے دردیا۔۔۔ تک اپنا پنجاب

قاضی کی آواز آتی: “ مسعود امرتا پریتم گا رہے ہو “ تو پتہ چلتا عنایت حسین بھٹی نہیں میں امرتا پریتم گا رہا تھا۔

جیلوں میں جانے والے سیاسی کارکن، ادیب اور صحافی جیل میں ایک دو کام ضرور کرتے ہیں۔ کوئی ملک کی سیاسی صورت حال پر یا اپنی سوانح عمری لکھتا ہے یا کوئی جیل میں رہ کر باغ بانی سیکھ لیتا ہے۔ تین چار دن گزرنے کے بعد میں نے قاضی صاحب سے کہا اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کچھ پودوں یا سبزیوں کی بیج منگوا دیں۔ مگر اس میں گلاب کے بیج ضرور منگوا دیں ۔سوچا تھا سارا دن کام کرتے کرتے تھک جاو¿ں گا تو بھر پور نیند آئے گی اور رات کی بے خوابی سے بچ پاﺅں گا۔

ابھی بیج پہنچے نہیں تھے کہ سپاہی آگئے اور میرا سامان سمیٹنے لگے۔ پتہ چلا کسی دوسری کوٹھڑی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ شاید مکمل تنہائی کی قید۔ مگر جس نئی بیرک میں شفٹ کیا گیا وہاں سیاسی میلہ لگا ہوا تھا۔ ایک بہت بڑی لمبی بیرک تھی۔ کوئی بیس کے قریب لوگ تھے۔ جن میں رسول بخش پلیجو ، پیپلز پارٹی کے مسرور حسن جنہوں نے پروفیسر غفور کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا ، ناصر بلوچ جس کو بعد میں طیارہ اغوا کے سلسلے میں پھانسی دے دی گئی، مولانہ شبیر عثمانی کا پوتا اور پیپلز پارٹی کراچی سے تعلق رکھنے والا جان عالم جو معراج محمد خاں صاحب کی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ ڈاکٹر اعزاز نذیر پارٹی کے زبیر رحمان جو آج کل ایکسپریس میں کالم لکھتے ہیں۔ صحافی رزاق قریشی سندھی، ہاری کمیٹی کے اور پیپلز پارٹی کے کارکن تھے۔

بس پھر کیا تھا وہی دن رات سیاسی تجزیے ، سٹڈی سرکل ، انقلابی گیت اور فلمی گانوں کی گائیکیاں، ماچسوں کی تیلیوں سے فلاش کی بازیاں، جاری و ساری شروع ہو گئیں۔ ایک دن چوری لائے گئے اخبار سے پتہ چلا میرے ہاں میری سب سے بڑی بیٹی مریم مسعود پیدا ہوئی ہے۔ میں نے اپنی ایک صحافی دوست جو اس تحریک میں ہمارے ساتھ گرفتار ہوئی تھی رخ لالہ کے نام پر اپنی بیٹی کا نام سوچا مگر گھر والے اس کا نام مریم رکھنے پر ہی بضد رہے۔

 تحریک کو ختم ہوئے تین ماہ ہو گئے تھے۔ مگر پی ایف یو جے نے میری رہائی کے لئے کچھ نہیں کیا تھا۔ سول عدالت میں کوئی درخواست دائر نہیں کی گی تھی کہ اچانک زبیر رحمان کی رہائی ہو گئی تو اس نے باہر جا کر بیرسٹر ودود مرحوم کی وساطت سے سندھ ہائی کورٹ میں میری رہائی کے لیے درخواست دائر کرا دی۔ یہ زبیر رحمان بھی زبردست شخصیت کے مالک ہیں۔ یہ جب رہا ہو کر گے تو کچھ دن بعد کراچی کی دیواروں پر سیاسی نعرے لکھتے لکھتے ایک تھانے کی دیوار پر بھی نعرے لکھ رہے تھے کہ پکڑے گئے۔ دوران گرفتاری پتہ چلا ان کو تو اس وقت جیل میں ہوناچاہیے تھا۔ یہ باہر کیسے ہیں۔ پتہ چلا یہ غلط فہمی سے رہا کے گئے ہیں۔ رہا کسی اور کو ہونا تھا رہا یہ کر دیے گئے۔ لہٰذا یہ پھر ہمارے پاس سکھر جیل میں آ گئے۔

اگر کسی نے لوگوں میں مساوات دیکھنی ہو تو زبیر رحمان کو دیکھ لے۔ ایک دفعہ کسی کی ملاقات میں دو کلو چنے آئے ، جب بھی کسی کی ملاقات آتی تو سامان سب میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ جب چنے آئے تو زبیر صاحب نے چنوں کی ڈھیری لگا کر سب سے پہلے تو چنوں کو گنا پھر لوگوں کو گن کر ان کے حساب سے چنوں کو تقسیم کیا۔ پھر لوگوں کو چنے دئے۔

جو ساتھی مختلف برانڈ کے سگریٹ چھوڑ گئے تھے وہ تقریباًختم ہو گئے تھے۔ مگر اس عرصہ میں سندھی دوستوں نے جتنا میرا خیال رکھا میں اس کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ کیونکہ میری تو پنجاب سے کوئی ملاقات آتی نہیں تھی۔ مگر سندھی دوستوں نے اس بات کا مجھے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ اصل مسئلہ سگریٹوں کا تھا۔ جو بھی سگریٹ آتے سب میں تقسیم کر دئے جاتے۔ ہم دو دو آدمی ایک سگریٹ پیتے۔ اس عرصہ میں ہی پنجاب ہائی کورٹ نے بھٹو صاحب کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس دن کی روداد میں ایک الگ مضمون میں لکھ کر فیس بک پہ ڈال چکا ہوں۔

تین چار ماہ تو سندھ ہائی کورٹ نے میری رہائی کے درخواست منظور کرنے کے باجود شنوائی کے لئے تاریخ ہی نہیں دی اور جب تاریخ مقرر ہوئی تو سرکاری وکیل کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے تاریخ آگے ڈلوا لیتا۔ آخر میری سزا کا ایک سال مکمل ہو گیا۔ ابھی اس میں ایک دن باقی تھا کہ مجھے جیل انسپکٹر کے کمرے میں بلایا گیا اور بتایا گیا کہ فوجی حکومت نے مجھے تین ماہ کے لئے سکھر جیل میں ہی نظر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اس عرصہ میں جتنی بار بھی میں سکھر جیل سے کراچی پیشی کے لئے گیا حسین سنگرامی ہر بار عدالت آتے رہے اور میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ بیرسٹر ودود میرا کیس بھی لڑ رہے تھے اور ہر پیشی پہ مجھے سو دو سو روپے بھی دیتے تھے۔ آخر جب اس تین ماہ کی نظر بندی میں تیں دن باقی رہ گئے تو سندھ ہائی کورٹ نے ایک پیشی کے دوران میری رہائی کے احکامات جاری کر دئے۔ اس طرح ایک سال کی سنائی گئی سزا پندرہ ماہ میں ختم ہوئی۔ مگر ہائی کورٹ نے بجائے اس کے کہ مجھے اسی وقت رہا کرنے کا حکم دیتی اس نے کہا اس کو جیل سے رہا کیا جائے۔

لگتا تھا جیل میں لے جا کر کسی نئے حکم کے تحت پھر اندر ہی رکھا جائے گا۔ بہر حال پھر مجھے سکھر جیل میں پہنچا دیا گیا۔ میں دوستوں سے گلے مل رہا تھا کہ سپاہی مجھے لینے آگئے۔ میں جب جیلر کے کمرے میں گیا تو اس نے مجھے کراچی کی ٹرین کا ٹکٹ دیتے ہوئے مجھے رہا کرنے کے احکامات تھما دئیے۔

دوستو اس تحریک کے سلسلے میں پاکستان کے دوسرے صحافیوں کی بہ نسبت سب سے لمبی قید و بند کاٹنے کی رودادا تو یہیں ختم ہوئی۔ اب کوشش کروں گا ضیا دور میں، دوسری جیلوں میں قید و بند کی رودادا بھی لکھ سکوں۔ میں یہ روداد کبھی نہ لکھتا اور نہ میں نے آج تک کبھی اس کا ذکر کیا ہے مگر پچھلے دنوں اخبارت اور ٹی وی چینلوں پر فوجی حملے کے دوران چند بکاﺅ ٹی وی اینکروں ، سیاست دانوں اور کچھ کالم نگاروں نے جب یہ کہنا شروع کر دیا کہ میڈیا کو ملنے والی آزادی کسی قربانی یا جدوجہد کے صلے میں نہیں بلکہ یہ مشرف کی فراخ دلی سے ملی ہے تو میں یہ روداد لکھنے پہ مجبور ہوا۔ تمام احباب جنہوں نے اس کو پسند کیا اور اس پر اپنا رائے کا اظہار کیا میں ان تمام کا شکر گزار ہوں۔

عجیب اتفاق ہے قید و بند کی روداد والے اس مضمون کی آخری قسط کا اختتام آج یعنی پانچ جولائی کو ہو رہا ہے۔ جب کہ اسی پانچ جولائی کو اس ملک میں سیاہ ترین دور کا آغاز ہوا تھا جو آج تک جاری ہے۔ جب فوجی الشمس البدر راہ جاتی بغیر دوپٹوں کی لڑکیوں کے بال کاٹ دیتے تھے، نکاح نامے طلب کیے جاتے تھے، کوڑے کھانے والوں کے منہ کے آگے اسپیکر لگائے جاتے تھے۔

اس ضیا دور نے ہماری جوانیاں جو کھائیں سو کھائیں اب اس کی باقیات طالبان ہمارے بڑھاپے تک کوکھا رہے ہیں۔