مذہبی انتہا پسندی کیلئے نیا ایندھن
- اتوار 06 / جولائی / 2014
- 4118
شدت پسند تنظیم آئی ایس آئی ایس کے سربراہ اور بزعم خود مسلمانوں کے نئے خلیفہ ابوبکر البغدادی بالآخر منظر عام پر آگئے ہیں۔ بغدادی نے تمام مسلمانوں سے ان کی اطاعت کرنے کی اپیل کی ہے۔ داعش جیسی تنظیم کے لفظ “ اپیل “ کا مطلب حکم کے طور پر ہی لیا جا سکتا ہے۔ بہیمانہ طریقے سے انسانیت کا خون کرنے والے کسی سے اپیل نہیں کیا کرتے بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے فقط رنگ و روپ اور لہجہ تبدیل کیا کرتے ہیں۔
2002ء میں عراق پر امریکہ کے حملے کے بعد سے عراق کے ساتھ جو حالات پیش آئے ہیں اس پر مبصرین حیرانی میں مبتلا ہیں۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی حکمت عملی مرتبب کرنے میں مکمل طور ناکام نظر آ رہا ہے۔ عراق جنگ میں بے پناہ جانی نقصان ہؤا ۔ شہریوں پر روزانہ حملے، معاشی بحران، بدعنوانی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث عراق کے ہاتھ سے کیا کیا پھسلا ہے۔ یہ بھی اب سامنے کی بات ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عراق میں امریکی مداخلت کسی نیک نیتی کا شاخسانہ نہیں تھی اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری برملا یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ عراق پر حملہ ایک سنگین غلطی تھی اور یہ سب کچھ آج واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ لیکن 12 برس قبل کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا۔ جب داعش کی کامیابیوں، ان کی پیش رفت، عراق کی ممکنہ تقسیم اور شام کی صورتحال پر غور کیا جائے تو امریکہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب ، ایران اور دیگر ممالک کا کردار واضح ہو جاتا ہے اور مہذب دنیا کے تحفظات اور خدشات درست ثابت ہوتے نظر آتے ہیں۔
داعش کی پیش قدمی کے باعث اس خطے کی سیاست میں تبدیلیاں نہایت سرعت سے رونما ہو رہی ہیں۔ ممتاز تجزیہ نگار اور مبصر اس نازک صورتحال میں امریکہ، ایران اور ترکی کے درمیان ناگریز تعاون کی طرف اشارہ کرتے نظر آ رہے ہیں اور عراق میں امریکہ اور ایران کی مشترکہ فوجی کارروائی بھی بعید از قیاس نہیں لگتی۔ ابھی تک تو داعش کی پیش قدمی سنی اکثریتی علاقوں میں جاری ہے لیکن یہ تو واضح نظر آ رہا ہے کہ شدت پسند یہیں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے عزائم بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا پتہ دے رہے ہیں۔ لیکن بغداد تک پہنچنے تک بے گناہوں کی جتنی لاشیں گریں گی ان کی گنتی کرنا آسان نہیں ہو گا جبکہ ملک جس فرقہ وارانہ اور نسلی چپقلش کا شکار ہو گا اس آگ سے بچنا بھی نہایت محال ہو جائے گا۔
مبصرین کے مطابق بظاہر عراق تین ریاستوں میں تقسیم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ جنوبی عراق جہاں شیعہ اکثریت میں موجود ہیں وہاں پر داعش کا قبضہ ہونا نہایت مشکل ہے اور اگر یہ خطہ باقی عراق سے الگ ہو جاتا ہے تو اس پر ایرانی گرفت اور بھی مضبوط ہو جائے گی۔ اس صورت حال میں یقینی طور پر تہران کا کردار خطے میں مزید بڑھ جائے گا۔
دوسری طرف کردستان کی الگ ریاست کے لئے ریفرنڈم کی باتیں ہو رہی ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو امکان ہے کہ ترکی اور کردوں کے درمیان بھی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اس کے برعکس عراق کے وہ علاقے جہاں سنیوں کی اکثریت ہے اور کئی مقامات پر داعش نے کنٹرول حاصل کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کا قتل عام کیا ہے۔ وہاں کسی بھی قسم کے استحکام کا امکان نظر نہیں آتا۔ ان علاقوں کا انفرا اسٹرکچر تباہی کا شکار ہے اور اس کے ساتھ قدرتی وسائل کا بھی فقدان ہے۔ مالی مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر کئی وجوہات کے باعث بھی عراق کے اس حصے کے لئے اپنی بقا قائم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
بین الاقوامی میڈیا بھی اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ عراق میں سنی قبائل اور گروہوں کی اکثریت کا تعلق داعش سے نہیں ہے اور نہ ہی داعش کی یہاں بنیاد ہے۔ اس صورتحال میں عراق کے سنی عوام مزید تقسیم اور کمزور ہوں گے اور ایک آزاد ریاست کا مطلب ہو گا کہ سنی شدید ترین مشکلات میں گھر جائیں گے اور انہیں داعش کے ظلم و ستم کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے باعث باہمی طور پر متصادم مسلم ممالک عراق میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مزید سرگرم ہو جائیں گے۔ ایران ، ترکی ، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی پالیسی اس حوالے سے کیا ہو گی یہ واضح ہے۔ مذکورہ ممالک اپنے مفادات کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے اور تختہ مشق عراقی عوام بنے رہیں گے۔ عراق میں کھلے عام غیر ملکی مداخلت کے دروازے کھلنے سے انتشار میں اضافہ ہو گا ۔ خطے میں سنی شیعہ تقسیم پہلے ہی بہت گہری ہو چکی ہے اور یہ صورتحال تیزی سے پھیلتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کو نیا ایندھن فراہم کرے گی۔