بھارتی میڈیا کی اخلاق باختگی
- سوموار 07 / جولائی / 2014
- 3843
جمہوری حکومت میں مقننہ یعنی پارلیمنٹ یا اسمبلی،انتظامیہ اور عدلیہ نظم مملکت کے تین اہم ادارے یا ستون ہیں۔ جن کے سہارے جمہوری نظام کی تاسیس ہوتی ہے۔البتہ چوتھا ستون وہ زندہ ضمیر و متوازن میڈیا ہے جو اس پورے نظام کو غلطیوں سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس طرح یہ چار ستون مل کر دیدہ زیب جمہوری عمارت کو قابل رہائش بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔
ایک طرف جمہوری ملک کی ترقی و خوشحالی،فلاح وبہبود، تعمیر و تصعید، امن و قانون کی برقراری اور حقوق و اختیارات کی ادائیگی میں متذکرہ تین اداروں کا اہم رول ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف صاف شفاف انتظامی مشینری، گڈ گورننس اور عوامی خوشحالی کے مفاد میں یہ انتہائی ناگزیر ہے کہ میڈیا بھی احسن طریقہ سے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے۔لیکن تصور کریں کہ جمہوری نظام کے تین ستون مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ پر گرفت کرنے والا اہم ترین ستون میڈیا ہی خود اپنی حیثیت کھو بیٹھے تو پھر کون اس نظام کی خوشحالی کو برقرار رکھ سکے گا۔
گزشتہ دنوں مقننہ ،انتظامیہ بمعنی سیاسی عہدیداران، عدلیہ یعنی جج صاحبان ،اور انتہا یہ ہے کہ مذہبی گروؤں کے متعلق بھی یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ انہوں نے ملک کی تہذیب سے کھلواڑ کرتے ہوئے اورعورت کو حقیر جانتے ہوئے اس پر ظلم یا زیادتیاں کی ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ملک عزیز ہند کا میڈیا بھی اس گھناؤنے فعل سے بچا ہوا نہیں ہے۔میڈیا کے تعلق سے یہ باتیں پہلے بھی آتی رہی ہیں اور ابھی موجودہ انڈیا ٹی وی اینکر تنو شرما کے واقعہ نے بھی میڈیا کومزید بدنام کیا ہے۔اس معاملہ میں تنو شرما کو ذلت کا سامنا کرناپڑا جس کے نتیجے میں انہوں نے 22؍جون کو چینل کے دفتر کے سامنے زہر کھاکر خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی ۔
دفتر کے لوگوں اور پولیس نے انہیں بر وقت ا سپتال پہنچایا۔اگلے دن گھر لوٹنے پر پولیس کو دیے گئے بیان میں تنو نے کہا کہ انڈیا ٹی وی کی ایک سینئر ساتھی نے انہیں سیاستدانوں اور کار پوریٹ کی دنیا کے بڑے لوگوں سے ملنے اور غلط کام کرنے کے لیے بار بار کہا گیا تھا۔ ان اخلاق باختہ تجاویز ماننے سے انکار کرنے کی وجہ سے مجھے پریشان کیا جانے لگا۔ اس کی شکایت ایک سینئر سے کی تو انہوں نے بھی مدد نہیں کی،بلکہ کہا کہ یہ تجویز درست ہے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تنو شرما نے جن دو سنیئر اہلکاروں پر الزام لگایا ہے ،ان میں سے ایک خاتون ہیں۔تنو شرما کا الزام ہے کہ پریشان ہوکر انہوں نے ایس ایم ایس کے ذریعہ اپنے باس کو لکھا کہ میں استعفیٰ دے رہی ہوں اور کمپنی نے اسے رسمی استعفیٰ مان لیا ۔ ان حالات کی وجہ سے وہ زہر کھانے پر مجبور ہوئی۔ اگرچہ انڈیا ٹی وی نے تنو شرما کے الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے لیکن اس سب کے باوجود توجہ طلب پہلو یہ ہے کیا کو ئی عورت سماج کی نظروں میں بلا وجہ خو د کو اس قدر ذلیل و رسوا کرنے کی جرات کرسکتی ہے؟
یہ صورت حال تہذیبی گراوٹ اور گھٹیا اخلاقی رویوں پر دلالت کرتی ہے۔ عورت کو معاشرے میں مناسب مقام دینے کے لئے ان رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ضاص طور سے اگر میڈیا کے کارپرداز ایسے منفی رویوں کے نمائندہ بن جاءں جو عورت پر استحصال کا سبب بن رہے ہیں تو صورت حال نہات سنگین اور ناقابل قبول سمجھی جائے گی۔