نواز شریف اور ملک کی تقدیر
- جمعرات 10 / جولائی / 2014
- 4334
وزیراعظم نواز شریف نے آخر کار کہہ ہی دیا کہ انہیں مدت پوری کرنے دی گئی تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ ان کے اس بیان میں مشکل حقائق کی تلخی ، اپنی ناکامیوں کا دبا دبا اعتراف اور انجانے خوف کا واضح اظہار موجود ہے۔ ان کے اس بیان نے جمہوریت پسند حلقوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اور جب یہ بیان آیا ہے لاہور کے دانشور حلقے اس کے مختلف پہلوﺅں کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ اور اس بیان میں چھپے خدشات اور امکانات کے مستقبل کا سیاسی زائچہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دانشور حلقوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے درست نہیں ہے۔ نہ وہ ماضی میں ایسا کر سکے ہیں اور نہ مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔ کیونکہ ملک کی تقدیر کے لئے جس وژن ، متواتر مخلصانہ کوششوں ، باصلاحیت ٹیم اور کام لینے کی جس اہلیت کی ضرورت ہے ، نواز شریف اس سے محروم ہیں۔ ان کا کوئی انقلابی وژن نہیں ہے۔ جو وژن ہے وہ صرف کاروباری اور منافع کی خواہش پر مبنی ہے۔
ان کی ساری ٹیم ان ہی کی طرح ہر منصوبے سے پیسے بنانے کی خواہشمند ہے۔ اور یہ ٹیم بھی خاندان کے چند افراد پر مشتمل ہے۔ان میں خاندان سے باہر کے افراد جن کا کوئی سیاسی پس منظر ہے ان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اور ان کی ٹیم انتظامی افسران کے نام لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے گرد کرپٹ افسران کا ٹولہ اکٹھا کر رکھا ہے جو انہیں مشکلات میں تو ڈال سکتے ہیں ان کے لئے کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔ میرٹ کے بغیر نواز شریف اور شہباز شریف کے گرد اکٹھے ہونے والے یہ افسران خوشامد کے علاوہ کوئی خاص شہرت نہیں رکھتے۔ پھر شریف فیملی ان سے جس طرح کے کام لیتی ہے اس کے بعد وہ جو چاہیں کرنے میں آزاد ہیں۔ اس لئے اگر نواز شریف کو مدت اقتدار پوری کرنے کا موقع مل بھی جائے بلکہ اگلے پانچ سال بھی مل جائیں تو ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔ البتہ شریف خاندان کی تقدیر ضرور بدل جائے گی جس کا ہر ہر فرد اب کسی نہ کسی انداز میں اقتدار کے فیصلوں میں شریک ہوتا جا رہا ہے۔
ان حلقوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا یہ مؤقف درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے پانچ سال مکمل نہیں کر پائیں گے۔ ایک تو 35 پنکچرز لگی گاڑی کو پانچ سال گھسیٹنا ممکن نہیں ہے۔ دوسرے مشاورت کے فقدان ، اہل اور قابل ٹیم کی عدم موجودگی اور عوامی خدمت کے بجائے کاروباری انداز سیاست ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔
ان دانشور حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر نواز شریف حکومت تیسری بار اپنا وقت پورا کئے بغیر رخصت ہوتی ہے تو یہ میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کی نالائقی اور نااہلی پر مہر تصدیق ثبت کر دے گی۔ وہیں اس بات کو بھی ثابت کرے گی کہ اس رخصتی میں دوسروں سے زیادہ خود نواز شریف اور ان کی حکومت کا زیادہ حصہ ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف حکومت اب تک کچھ ڈیلیور نہیں کر سکی۔ نہ عوام کی مشکلات میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ نہ ان کے روزمرہ کے معاملات میں انتظامی اور سرکاری حل میں کوئی آسانی آئی ہے۔ حکومت اپنے منشور کے ایک فیصلہ پر بھی تاحال عمل نہیں کر سکی۔ لوڈ شیڈنگ میں کمی کے بجائے اب اضافہ ہو گیا ہے۔ نندی پور پراجیکٹ کے بارے میں غلط حکومتی دعوے اب سب کے سامنے آ گئے ہیں۔ 6 ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی بڑھکیں مارنے والے اب پانچ سال بعد لوڈ شیڈنگ میں کمی کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ متبادل ذرائع سے پیداوار بجلی کے کسی ایک منصوبے نے بھی ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔
نصف سے زیادہ وفاقی وزراء کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ وہ صرف وزیراعظم کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے ہیں۔ پنجاب میں صوبائی وزراء صرف افطاریاں کر رہے ہیں۔ ان کے تمام اختیارات حمزہ شہباز استعمال کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا حال یہ ہے کہ انہیں اپنے ساتھ والی گلی میں 9 گھنٹے جاری رہنے والے اس آپریشن کا تو علم نہیں ہوتا جس میں 16 انسانی جانیں اب تک جا چکی ہیں۔ اور وہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے صوبائی وزیر قانون ، اپنے پرنسپل سیکرٹری اور کئی انتظامی افسران کو قربانی کا بکرا بنا چکے ہیں مگر تمام اخلاقی جواز ختم ہو جانے کے باوجود اقتدار چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ بلکہ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ جب تک شہباز شریف اقتدار میں ہیں سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں مظلومین کو انصاف نہیں مل سکتا اور ان کا یہ مؤقف اتنا کمزور بھی نہیں ہے۔
بدقمستی سے یہی وزیراعلیٰ ترکی اور چین کے ساتھ کاروباری معاملات طے کر رہے ہیں۔ حکومت اور فوج کے تعلقات کے لئے کام کر رہے ہیں۔ مگر ان کے اپنے عہدے میں بدترین افراتفری موجود ہے۔ پوری مسلم لیگ (ن) میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اگر چین اور ترکی کے ساتھ وفاقی سطح کے معاملات شہباز شریف نے طے کرنے ہیں تو طارق فاطمی اور سرتاج عزیز کس مرض کی دوا ہیں۔ مخالفین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ پنجاب حکومت اور وفاق کے بیشتر سرمایہ کاری منصوبوں میں اصل کردار شہباز شریف کے بظاہر غیر سیاسی بیٹے سلمان ادا کر رہے ہیں۔ جنہوں نے فرنٹ پر نجکاری کمیشن کے چیئرمین زبیر عمر کو رکھا ہؤا ہے جن کا اس سلسلے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔
دانشور حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت اداروں کے ساتھ تصادم کی اپنی سابقہ روش پر قائم ہے۔ جس کے نتیجے میں فوج نے وزیرستان آپریشن از خود شروع کیا اور آئی ایس پی آر سے پریس ریلیز جاری کر دی۔ جیو کے معاملے میں حکومت غلیل والوں کے ساتھ نہ رہنے کا بھی اعلان کر چکی۔ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے دینے کا معاملہ طے ہو پانے کے باوجود پورا نہیں کیا گیا۔
چنانچہ کم از کم دو مواقع پر میڈیا میں یہ تاثر سامنے آیا کہ عسکری سربراہ نے وزیراعظم کو سلیوٹ نہیں کیا محض مصافحہ پر اکتفا کیا۔ فوج کے ساتھ ساتھ حکومت عدالتی فیصلوں کو بھی نظر انداز کر رہی ہے، یا انہیں کوئی اہمیت نہیں دے رہی۔ خود عوام کے علاوہ اب مسلم لیگی کارکنوں میں بھی مایوسی بڑھ رہی ہے۔ یہ ساری صورتحال شاید نواز شریف کی اس بات کو درست ثابت کرتی نظر آ رہی ہے کہ شاید وہ اس بار بھی اپنی مدت پوری نہیں کر سکیں گے۔