اب تو ہی بتا ! تیرا مُسلمان کدھر جائے
- جمعہ 11 / جولائی / 2014
- 4927
مجھے سیاست نہیں آتی اور نہ ہی میں نظریاتی مُقلد ہوں مگر یہ ایک خوش آئند بات تھی کہ محمد علی جناح کی قیادت میں کُل ہند مُسلم لیگ نے قراردادِ لاہور منظور کی اور پھر تان ہندوستان کی تقسیم پر آ کر ٹُوٹی ۔ اس تقسیم کا حاصل یہ تھا کہ ملّت ِ اسلامیہ بظاہر دو مگر حقیقت میں تین حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ یہ تیسرا حصہ اُن مُسلمانوں کا تھا جو ہندوستان میں رہ گئے اور اُنہی میں سے ڈاکٹر ذاکر حسین بھارت کے پہلے صدر اور ابوالکلام ازاد وزیرِ تعلیم بنے ۔
پاکستان تتلی کے دو پروں کی طرح تصویر ہؤا مگر یہ پر ایک دوسرے سے اتنے فاصلے پر تھے کہ وہ مل کر پرواز نہیں کر سکتے تھے ۔
ایک دفعہ مرحوم حنیف رامے نے لکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے اور پاکستان بھی زوج زوج ہے ۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ۔ رامے صاحب کا روحانی ویژن بجا لیکن یہ جوڑا اصول ازواج پر مبنی نہیں تھا۔ بلکہ جوتوں کے جوڑے کی طرح تھا کہ اگر ایک جوتا کھو جائے تو ایک پائوں ننگا ہو جاتا ہے اور یہی ہؤا ۔
اںیس سو اکہتر کی سردیوں میں نظریہ ء پاکستان کا ایک پائوں ننگا ہو گیا اور جب سے نظریہ ء پاکستان ایک جوتے کے بل پر لنگڑا رہا ہے ۔ یہ بات حکمران بھول جانے کی کوشش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عوام بھی اسے یاد نہ رکھیں ۔ وہ اپنے لے پالک دانشوروں کے ذریعے اس زخم پر نسیان کی مِٹّی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ملّت کے سینے کا یہ زخم رستا ہی رہتا ہے اور کبھی لمحہ بھر کے لیے نہ صرف مند مل نہیں ہوتا بلکہ ملت کے سیاسی لومڑوں کی کوتاہ نظری پر ماتم کُناں بھی رہتا ہے ۔
کل شام یارانِ سُخن طراز شعیب بن عزیز اور سیدی سلیم طاہر سے اچانک فون پر بات ہوئی ۔ شعیب نے اپنی چین یاترا سے واپسی کا سندیسہ دیا جبکہ سلیم طاہر نے بصد خلوص پوچھا ، “ یار لاہور کیوں نہیں اتے ؟ “ کتنا معقول سوال ہے مگر میں ہمیشہ یہی سوچتا رہتا ہوں کہ لاہور مجھ سے ملنے کیوں نہیں آتا ۔
میں نے سلیم طاہر سے کہا کہ میں امن کی بارش کا قطرہ ہوں ، تمہارے شدت پسندی سے تپتے لاہور کی تمازتِ ماحول میں ، میں بیچارہ بھک کر کے اُڑ جائوں گا ۔
اِس پر سلیم طاہر نے کمال رجائیت سے “ مکّے “ سے خیر کی خبر دی اور کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ میڈیا کی خبروں والے پاکستان اور اصل پاکستان میں فرق ہے ۔ ممکن ہے سلیم طاہر کی یہ بات درست ہو کہ میڈیا کی خبروں والے پاکستان اور خبروں کے اُس پار کے پاکستان میں فرق ہے۔ لیکن ہم تارکینِ وطن اپنے مقدور کے قیدی ہیں ۔ ہمیں جو کچھ نظر آتا ہے وہ میڈیا کی کھڑکی سے ہی نظر آتا ہے ۔
مثلاً اگر کوئی فلسطینی مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ غزہ میں بڑا امن ہے اور میڈیا فضول بکواس کر رہا ہے تو مجھے مان لینا چاہیے یا نہیں؟
کیونکہ میڈیا جو ہو رہا ہوتا ہے وہ نہیں کہتا اور جو نہیں ہو رہا ہوتا وہ کہتا ہے ۔ میرے پاس اپنے اس بیان کو سچ ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل موجود ہے کہ جب ڈھاکہ ڈوب رہا تھا تو میڈیا ٹائیگر نیازی کی مصنوعی کھال پہن کر دہاڑ رہا تھا اور فتحِ مبین کے ترانے سنا رہا تھا ۔
مگر میڈیا بھی کیا کرے ۔ آخر محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز جو ٹھہرا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم پاکستانی مُسلمان پچھلے سرسٹھ برس سے پاکستان سے محبّت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور اب تو یہ حال ہے کہ اس دنیا میں آنے والے نئےپاکستانی بچّے ہاتھ میں دستی بم لے کر پیدا ہو رہے ہیں ۔
قائدِ اعظم کے کھوٹے سکوں کا طریقہ ء واردات ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ بطور سیاسی ہراول پاکستانیت کے تین بنیادی اصولوں (اتحاد ، تنظیم اور یقینِ محکم) سے صریح غداری کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ۔ وہ ان اصولوں کو نعرہ بنا کر کسی منتر کی طرح شب و روزجپتے رہے ہیں۔ بالکل اُن جعلسازوں اور مذہبی بہروپیوں کی طرح، جو دن رات مذہبی صحیفے پڑھتے ہیں مگر مذہب کے بنائے ہوئے راستے پر ہرگز نہیں چلتے ۔
یہ وہ نقطہ ہے جو لاقانونیت کا سرچشمہ ہے یعنی جب لوگ اللہ کے بنائے ہوئے قانون پر نہیں چلتے تو وہ پاکستانی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون پر کیا چلیں گے ۔ نمازوں ، روزوں اور نماز تراویح کا اسلام تو صدیوں سے رائج ہے مگر وہ اُس انقلاب کا باعث نہیں بن سکا جس کا ڈھنڈورہ آج کل پیٹا جا رہا ہے ۔ کیونکہ یہ صادق اور امین صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اسلام نہیں ہے جس میں نماز انسان کو برائی اور بے حیائی سے پاک کر دیتی ہے اور فرد کو صادق اور امین بناتی ہے ۔
لوگ یہ حقیقت تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں ہیں کہ اللہ کی اطاعت ، اللہ کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرنے کا راستہ ہے ۔ اس راستے پر چلنا عام مسلمان کو کانٹوں پر چلنا لگتا ہے کیونکہ وہ تو پھولوں کی پُر تکلف سیج پر سویا ہؤا ہے ۔
اِس ساری صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟
ہم سب اور ہمارے مذہبی ، عسکری اور سول رہنماجو نہ خود بدلتے ہیں اور نہ قوم کو بدلنے دیتے ہیں مگر سسٹم کی تبدیلی کی رٹ لگا کر کرسی تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
یہ سسٹم ہے کیا ؟
ہم سب کا طرزِ زندگی ، لائحہ ء عمل ، نظم و ضبط اور کارکردگی ، ہمارے اللے تللے ، ہماری سماجی نا انصافیاں ، ہماری قومی غیر ذمہ داریاں ، ہماری فقہی ریا کاریاں ، ہماری سیاسی روباہیاں اور ہماری دانشورانہ شعبدہ بازیاں ۔
ہم یہ سب کچھ قائم رکھنا چاہتے ہیں اور سسٹم کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ ہم سب جو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے بر سرِ جنگ ہیں ۔
کیا یہی ہے جمہوریت ؟ کیا یہی ہے اسلام کا الوہی پیغام ؟
میں اس قومی سماجی منظر کے پس منظر اور پیش منظر کو دیکھتا ہوں اور سینے پر دوہتڑ مار کر روتے ہوئے کہتا ہوں:
شیرازہ ہؤا مِلّت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا ، تیرا مُسلمان کدھر جائے
یہ راز بھی اب فاش کر اے روحِ محمد
آیاتِ الہی کا نگہبان کدھر جائے