بے سرو پا
- اتوار 13 / جولائی / 2014
- 4803
ہم تو پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان اس لیئے بنایا گیاکہ چونکہ مسلمان اقلیت میں تھے اور سیاسی میدان میں ہندو اکثریت کے مقابلے میں وہ کمزور پڑتے تھے۔ لہٰذا ترقی کی دوڑ میں سیاسی وجوہات کی بنا پر پیچھے رہ جاتے۔ اس کے علاوہ اپنے عقائد اور شعار کی آزادانہ پیروی کرنے میں بھی انہیں مشکلات پیش آتیں۔ سو یہ طے پایا کہ مسلمانوں کے لیئے برصغیر کو تقسیم کرتے ہوئے ایک علحٰیدہ ملک حاصل کیا جائے۔
یہ مطالبہ کرنے والوں میں تمام عقائد اور فرقوں کے مسلمان شامل تھے سوائے چند کے جنکی نظر میں پاکستان دراصل کافرستان تھا اور اسکے بنانے والے کافر اعظم۔
اور پھر یہ ملک مسلمانوں کے لیئے حاصل کر لیا گیا۔ لیکن ہؤا کیا ؟
آج اس ملک کے مالک و مختار وہ ہیں جو اس کے قیام کے مخالف تھے ۔ انکی نظر میں مسلمان صرف وہی ہیں جو انکے عقائد پر یقین رکھتے ہوں ۔ باقی سب کافر۔ لہٰذا ان پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔ خاص طور سے مذہبی اقلیتوں پر جن کے لیئے بانیان پاکستان نے بلا امتیاز یکساں حقوق و فرائض کی ضمانت دی تھی۔ اب اگر حصول پاکستان کے کیلئے استعمال کی جانے والی منطق یہ اقلیتیں بھی اپنے دفاع میں استعمال کرنے لگیں جن کی زندگی مملکت خداداد میں عذاب بنا دی گئی ہے تو کیا ہو؟
اور پھر اس دو قومی نظریئے کا کیا ہؤا ؟
بنگالیوں نے تو چار سے زائد دہائیاں قبل معذرت کر لی کہ ہم ایسے قومی تصور سے بھر پائے۔ یہ دو قومیت آپ ہی سنبھالیئے۔ اور اگر چاہیں تو اس میں سو پچاس قومیں اور بھی شامل کرلیں۔ اور پھر ہم نے ایسا ہی کیا۔
ہمارا قبلہ ہمیشہ اسی سمت رہا ہے جہاں یہ ہمیشہ سے تھا۔ نماز کی حد تک تو یہ درست اور لازم ہے کہ خود رب جلیل کا فیصلہ ہے۔
پر جب اسی سمت سے آتی ڈالروں اور ریالوں کی ٹھنڈی ہواؤں کے دوش پر عقیدوں کے نامے بھی ہم تک پہنچنے لگے تو انکشاف ہؤا کہ دراصل ہمارے بزرگوں کو تواصل اسلام کا ادراک کبھی ہو ہی نہ سکا اور یوں وہ اپنی زندگیاں غیر اسلامی حرکتیں کرتے گزار گئے۔ لہٰذا جو کچھ ہم نے ان سے سیکھا وہ اسلام تھوڑے ہی تھا۔ حقیقی اسلام تو اب آیا ہے۔ اور یہ جو ہمارے پہلو میں ایک شریف آدمی کھڑا ہے ، یہ دراصل کلمہ گو نہیں، کافر ہے جس کا قتل کر دیا جانا واجب ہے۔
اور ظاہر ہے جب ہر دوسرا آدمی کافر ٹھہرا تو پھر اس کافر کے پڑوس میں رہتے ہوئے اپنے عقائد اور شعار کی آزادانہ پیروی کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے تو علحٰیدہ ملک چاہئے۔
پر اس منطق کو اگر درست مان لیا جائے تو پھر تو بہتر قومی نظریئے کی بات ہونی چاہیئے ۔۔۔ دو کی نہیں!
مسلمانوں نے باقی دنیا کے مقابلے میں کسی میدان میں اپنا لوہا منوایا ہو یا نہ منوایا ہو ،ایک فن ایسا ہے جس میں فی زمانہ کوئی انکے پاسنگ بھی نہیں ہے۔ اور یہ ہے فن منافقت۔
پاکستان میں تو اس فن کو ضیاالحق نے عروج کمال تک پہنچا دیا تھا اور یہ بات طے ہے کہ اب اس کا یہ کریڈٹ کوئی اور لے نہیں سکتا۔
یہ اسی کا کمال تھا کہ کل تک سامراج کہلانے والاعفریت اچانک امہ کا سب سے بڑا ہمدرد اور غمگسار ٹھہرا۔ جو عالم اسلام کے گرم پانیوں تک لا دینوں کی رسائی کا خواب چکنا چور کر دینا چاہتا تھا۔ سو اس کے لئے ڈالروں کی بارش میں جہاد کیا گیا۔
پھر یہی غمگسار خود عفریت بن گیا اور اسکے حق میں جہاد کرنے والے پیاز اور جوتے کھانے کے بعد اسی کے خلاف صف آرا ہوئے اور پھر یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے وہاں آ گیا جہاں آج اپنے ہی بھائی بندوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے گولیاں ماری جا رہی ہیں۔ ہاں ! گولیوں سے چھلنی کرنے سے پہلے انہیں نعرہ تکبیر ضرور سنا دیا جاتا ہے تاکہ سند رہے۔
اور ہم ہیں کہ اپنا گدھا ہم سے سنبھلتا نہیں لیکن ساری امت کے گھوڑوں کو دلکی سکھانے کے لئے ہمہ وقت تیار۔
اور ہاں ! گدھے سے یاد آیا کہ گدھوں کو عام طور سے سرکس میں نہیں لیا جاتا ، کیونکہ یہ کچھ سیکھتے ہی نہیں۔ کجا یہ کہ انہیں جمہوریت سکھانے کی کوشش کی جائے۔
جمہوریت ! گدھے سے اگر پوچھیں تو کہے گا ۔۔۔ جمہوریت تو میرے بھائی اس کے پاس ہے جس کے ہاتھ میں چھانٹا اورراسیں ہیں میری۔ میں تو ادھر کو ہی چلوں گا جہاں اس کی مرضی ہوگی۔ مار الگ کھاؤں گا۔
تو ثابت ہؤا کہ ساری جمہوریت کوچوان بننے کے لئے ہے۔ لیکن اس کی گاڑی گدھوں سے کھچوائی جائے گی تاکہ انہیں احساس رہے کہ وہ جمہوریت میں برابر کے شریک ہیں۔
اور کوچوان بھی ایسے کہ جمہوری عمل میں گدھوں کو شریک رکھنے کے لئے انہوں نے خوابوں کی ہری ہری گھاس کی ایک گدی اسکی آنکھوں کے آگے دو ہاتھ کے فاصلے پر با ندھ دی ہے جسے پانے کے لالچ میں یہ گذشتہ سڑسٹھ برس سے گرتے پڑتے اس کا تعاقب کیئے چلے جاتے ہیں۔ اور نہ جانے کب تک کرتے رہیں گے۔
اور اب اس سارے ہنگام میں کچھ نئے چابک سوار میدان میں اترنے لگے ہیں ، پرانے کوچوانوں کے لئے اس نوید کے ساتھ کہ ۔۔۔ ظالمو انقلاب آ رہا ہے !
تو اے بندگان مملکت خداداد ! ہوشیار باش۔ انقلاب نے رخت سفر باندھ لیا ہے اور اب کارواں سالار کے اشارہ ابرو کا منتظر ہے۔ بس پھر ہری ہری چراگاہیں ہوں گی اور ہم ہوں گے اور راوی چین ہی چین لکھے گا۔
اور ہاں ! پچھلے دنوں داعیان انقلاب کی بلائی جانے والی چوکور کانفرنس میں جگمگاتے چہرے تو آپ نے دیکھ ہی لیئے ہوں گے۔
کیسے کیسے نابغہ روزگار اہل بصیر ت و عقل و دانش و اہل درد ایک ہی صف میں شانہ بشانہ بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔ کیسے کیسے خواب تھے جو دکھائے جا رہے تھے ۔ جو بیسیوں مرتبہ پہلے بھی دکھائے جا چکے ہیں۔ جن کی تعبیر کا یہ ایڑیاں رگڑتا ہجوم برسوں سے منتظر ہے۔
ان میں آپ کو کوئی ڈیفالٹر ، بینکوں سے اربوں روپے قرضے لے کر واپس نہ دینے والاتو دکھائی نہیں دیا۔ جہالت اور نااہلیت کی انتہا پر رقص کرتا کوئی منہ پھٹ بڑ بولا۔ کوئی بھانڈ۔ ڈکٹیٹروں کی گود میں اٹھکیلیاں کرتا کوئی سابق وزیر۔
نہیں دکھائی دیا ناں۔ تو بس پھر سمجھیں کہ انقلاب آیا سو آیا۔
رہے نام اللہ کا۔