بھارت پالیسیاں بدلے
- اتوار 13 / جولائی / 2014
- 4220
نریندر مودی سے قبل تک بھارت کی خارجہ پالیسی بھی بڑی دلچسپ رہی ہے۔ اس کے سرحدوں سے متصل تمام ممالک پاکستان، نیپال ، بنگلہ دیش ، بھوٹان اور سری لنکا سے تنازعے اور ان سب ممالک کے پڑوسیوں سے “ دوستانہ “ ہی بھارت کی خارجہ پالیسی کی تاریخ ہے۔
اس سے پہلے کے ہم اس موضوع پر رام کتھا کا مختصر ایڈیشن شروع کریں، ایک خبر پر بات کرلیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک ٹربیونل نے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تین دہائیوں سے جاری25ہزار کلو میٹر طویل سمندری علاقے کے تنازع کا مسئلہ حل کردیا ہے ۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کے حصے میں19ہزار 5سو اور بھارت کے حصے میں صرف 6کلو میٹر کا علاقہ آیا ہے ۔ یہ وہی خلیج بنگال کا علاقہ ہے جہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائز ہیں۔ بڑا علاقہ ملنے پر بنگالیوں کی خوشی تو سمجھ میں آتی ہے مگر بھارت نے بھی فیصلے کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ہے اور اسے پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کی طرف پیش قدمی قرار دیا ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ مودی سرکار کے آنے کے بعد کیا واقعی بھارتی خارجہ پالیسی میں تبدیلی آئی ہے؟ یا پھر معاملہ ہاتھی کے کھانے اور دکھانے کے دانتوں والا ہے؟۔ خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں معاملہ کیا بنے گا؟
چلئے پہلے دو نیو کلیئر پاور کے باہمی تنازع کو سمجھتے ہیں۔ کشمیر، سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیاں، دہشتگردی، سرکریک اور سیاچن کی حدود کا تعین اور افغانستان میں اثر رسوخ بڑھانے کی جنگ نے دونوں ممالک کی ترقی کو روک رکھا ہے۔ ویسے تو اس فہرست میں 1947ء میں مسلمانوں کاقتل عام ،71ء میں پاکستان توڑنے کی کامیاب سازش اور آج کل بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد بھی شامل کرسکتے ہیں۔ بھارت کو خطے کا “ چوہدری “ بنانا عالمی کرتا دھرتاؤں کی خواہش ہے۔ جو کہ بھارت کی معاشی ترقی کے بغیربے تعبیر خواب ہی رہ سکتاہے۔ اور ہو سکتا ہے بنگلہ دیش کے ساتھ 30برس قبل کا تنازع اسی سوچ کے ساتھ حل کرایا گیا ہو۔ بات جو بھی ہو پر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کو یہ بات تو بہرحال سمجھ آگئی ہوگی کہ ان سب ایشوز کو مزید لٹکائے رکھنے سے انہیں تباہی و بربادی تو مل سکتی ہے، تعمیر و ترقی بالکل بھی نہیں۔
بھارت کیونکہ بڑا بھی اور چوہدری بھی بننا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ چھوٹے ممالک کی جانب سے لگنے والے الزامات کو سنجیدگی سے لے۔ دونوں ہی ممالک بنگلہ دیش کی طرز پر سرکریک ( کراچی اور ممبئی کے درمیان ساحلی حد بندی) کا معاملہ پہلے حل کر لیں تاکہ ساحلی پٹی پر موجود تیل اور گیس کے ذخائز کی تلاش شروع کرکے ترقی کے سفر کابہتر آغاز کیاجاسکتا ہے۔ پھر“ بھارتی آبی جارحیت “ ۔۔۔ میں یہ لفظ اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنا کر خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔ جب پاکستانی فصلوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت پانی روک لیتا ہے اور جب فصل تیار ہوجاتی ہے تو پانی چھوڑ کر ملک میں تباہ کن سیلاب کی صورتحال پیدا کردیتا ہے۔ یہ عمل کسی اچھے پڑوسی ہو ہی نہیں سکتا۔
بھارت کے پالیسی ساز اور عالمی کرتا دھرتا بھی جانتے ہیں کہ کسی ریاست کو سات ، آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے اپنا نہیں بنایا جاسکتا ۔اور وہ بھی ایسی فوج جس پر گزشتہ 30برس میں98ہزار سے زائد کشمیریوں کو جان سے مارنے کا الزام ہو۔ افغانستان میں جو آج کل عالمی چراگاہ بنا ہؤا ہے، امریکہ اور اتحادی افواج کے مکمل انخلا کے بعد بھارتی مفاد بھی مستحکم پاکستان سے وابستہ ہے۔ بصورت دیگر نان اسٹیٹ ایکٹرز نے جو حال امریکہ، اتحادی افواج اور آج کل پاکستان کا کر رکھا ہے اس سے بھارت آخر کب تک بچ سکتا ہے؟
اب بھارت کو خود کو بڑا ثابت کرنے کے لئے کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ اچھا کرنا پڑے گا ۔اگروہ واقعی پڑوسی سے اچھے تعلقات کی خارجہ پالیسی اختیار کرنا چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے حوالے سے انتقام در انتقام کی سازشی پالیسی سے باہر نکلنا ہو گا۔ اب دیکھتے ہیں مودی سرکار، شال اور خیر وعافیت کے خط کی ڈپلومیسی تک محدود رہتی ہے یا پھر معاملات میں حقیقی نوعیت کی تبدیلیاں رونما بھی ہوتی ہیں؟۔