اصولوں کے پہاڑے اور بے اصولے

  • سوموار 14 / جولائی / 2014
  • 4404

ہالینڈ کے ایک مؤقر جریدے نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران بعض افریقی ممالک سے یورینیم کی بھاری مقدار درآمد کر چکا ہے یا کرنا چاہتا ہے یہ ویسا ہی یورینیم ہے جو دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرایا جانے والا بم بنانے کے لئے استعمال کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ یورینیم 238 “ کی بھاری مقدار تنزانیہ کے کسٹم حکام نے قبضہ میں لے لی تھی جو کہ کانگو کی کانوں سے اسمگل کر کے لایا جا رہا تھا۔ تنزانیہ کے حکام نے اخبار سنڈے ٹائمز کو بتایا تھا کہ یہ یورینیم ایرانی بندرگاہ بندر عباس پہنچایا جا رہا تھا جو کسٹم حکام نے روک لیا۔

اس انکشاف کے بعد مغرب کے اس خوف میں اضافہ ہو گیا ہے جو اسے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں لاحق ہے۔ اسی خوف کی وجہ  ایران کی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں، یہودیوں کا صفایا اور ایران کی طرف سے حزب اللہ کو فراہم کی جانے والی امداد و حمایت بھی ہے۔ یہ رپورٹ اس موقع پر منظر عام پر آئی ہے یا لائی گئی ہے جب ایران نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں کی دھمکی کے باوجود یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرے گا۔ جبکہ ایرانی ایٹمی مذاکرات کے نمائندے نے سلامتی کونسل کی طرف سے یورینیم کی افزودگی روکنے کی اپیل یکسر مسترد کر دی ہے۔

ایران نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ اس نے 164 سینٹری فیوجز کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی ہے جبکہ جلد ہی سینٹری فیوجز کی تعداد 3 سو تک بڑھا دی جائے گی۔ جس کے بعد ایک سال کی مدت ( قلیل یا طویل) میں ایٹمی ہتھیار تیار کئے جا سکتے ہیں۔

ادھر ایران کے معتبر اخبار گہیان نے خبر دی ہے کہ ایرانی سائنسدانوں نے ایک نئے مقام پر یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نئے مقام پر کوئی فضائی حملہ مدد گار ثابت نہیں ہو سکتا کہ یہ جگہ ایسی سرنگ میں واقع ہے جس پر کوئی بم بھی اثر نہیں کر سکتا۔ لیکن میرے حساب سے ایران کو امریکی جنرل مارٹن ڈیمپسی کی یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ امریکہ نے اگر اس کے جوہری پروگرام پر حملہ کیا تو ایران کا یہ جوہری اثاثہ بالکل ختم ہو جائے گا۔  امریکہ کو یقین ہے کہ ابھی تک ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے شروع نہیں کئے۔ ابھی ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے لئے راہ ہموار کر رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی امریکہ اور یورپی یونین سلامتی کونسل کی وساطت سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لئے سفارتی اور معاشی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم امریکہ ایران کی ایٹمی تگ و دو سے غافل بھی نہیں ہے۔

امریکہ نے ایران کے نیو کلیئر سائٹس پر امکانی حملہ کی ہنگامی منصوبہ سازی کے طور پر “ بسٹر بم “ کی تیاری کی کوششوں کو تیز تر کر دیا ہے۔ اس نے اپنے سب سے بڑے روایتی ہتھیار 13.6 ٹن وزنی “ بنکر بسٹر بم “ کی تیاریوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ یہ بم ایران کے زیر زمین نیو کلیئر مراکز کو تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ کچھ فوجی ماہرین کے مطابق ایسا بم تیار ہو چکا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بسٹر بم کو قلعہ نما اور انتہائی مضبوط حصار کے بیچ واقع ایرانی مراکز کو تباہ کرنے کے لئے بطور خاص تیار کیا گیا ہے۔ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو ایک کنٹریکٹ دیا گیا تھا جو امریکی فضائیہ کے B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارہ میں کلسٹر بم فٹ کرنے سے متعلق تھا۔ امریکی وزیر دفاع نے حالیہ دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ زمین کے اندر کافی گہرائی میں موجود بعض ایرانی بنکرز کو موجودہ کلسٹر بم پوری طرح تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اس اعتبار سے اس بم میں “ خامیاں “ ( کم انسانی جانیں لینے کی خامیاں) ہیں۔ جن کو دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزیر دفاع نے توقع ظاہر کی کہ 82 ملین ڈالر کی رقم سے مزید طاقتور بنکر بسٹر بم جلد تیار ہو جائے گا جو ایران کے افزودگی پلانٹ جیسے مراکز کے خلاف زیادہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔ ایران کا یہ پلانٹ ایک پہاڑی کمپلیکس میں زمین کے اندر کافی گہرائی میں ہے۔ جسے زبردست قلعہ نما انتظامات کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔ قلعہ بندیوں کے بیچ ایسے مراکز ایران اور شمالی کوریا نے اپنے نیو کلیئر پروگرام کی حفاظت کے لئے تیار کئے ہیں۔ پہاڑی کمپلیکس کے اطراف بھاری اور جدید طیارہ شکن توپیں لگائی گئی ہیں۔ یہ پلانٹ امام خمینی کے مسکن اور مقدس شہر قم کے قریب واقع ہے۔

امریکی فضائیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 2- فٹ طویل بنکر بسٹر بم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ساتھ 5300 پونڈز وزنی دھماکہ خیز مٹیریل ہے ۔  امریکی اسلحہ کے ذخیرہ میں سب سے زیادہ طاقتور ہتھیاروں کے ذریعے ہی ایسے پلانٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بسٹر بم زمین کے اندر 200 فٹ گہرائی میں داخل ہونے کے بعد دھماکہ کرتا ہے جس سے زمین کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں۔ یہ بم یہی مقصد حاصل کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ افزودگی پلانٹ کم از کم 212 فٹ بلند ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی بے حد ضروری ہے کہ دنیا میں امریکہ کے بعد اسرائیل ہی وہ واحد ملک ہے جس کے پاس ایسے بم موجود ہیں۔ اب جب اتنا کچھ بتا دیا ہے تو یہ بھی سن لیجئے کہ کالم کے آغاز میں میں نے تنزانیہ سے اسمگل ہو کر آنے والے جس یورینیم کا ذکر کیا تھا یہ بم بنانے کے علاوہ سیل فون کے چپ بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس یورینیم 238 کو ایٹمی ری ایکٹر میں پلاٹونیم میں تبدیل کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے  ایٹمی ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔ ( اسکی تمام تفصیلات انٹرنیٹ پر موجود ہیں)۔

ایٹم بم کی تیاری کا “ نسخہ کیمیا “ انٹرنیٹ پر موجود ہونے کے باوجود میرے حساب سے ابھی کافی عرصہ تک امریکہ ہی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت رہے گا اور صدر اوباما کی طرف سے آئندہ دہائی کے دوران اپنے ارب ہا ڈالرز کے بجٹ خسارے کو کم کرنے کے سلسلے میں 487 بلین ڈالر کے مختلف دفاعی پروجیکٹوں کو ختم کرنے کی تجویز اور فوجی اخراجات میں کمی کے امریکی ارادوں کا غلط نتیجہ نہ نکالا جائے۔ امریکہ آج بھی گیارہ منٹ میں آدھی دنیا تباہ و برباد کر سکتا ہے۔

اب رہ گیا ایران پر حملہ کا خدشہ۔ تو میں ایران پر حملہ کو خارج از امکان قرار دیتا ہوں کہ ایران کو نیو کلیئر بم بنانے سے روکنے کے لئے اس پر حملہ کی جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اس وجہ سے ایران بم بنانے سے گریز کرے گا ۔ یہ دھمکیاں اور سفارتی و معاشی اقدامات ہی ہیں جو ایران کو نیو کلیئر بم بنانے کی خواہش کے باوجود بم بنانے سے روکتی ہیں۔ ادھر ایران کا ایٹمی پروگرام کے تعلق سے کچھ عجیب سا ماحول ہے۔ بعض اوقات دھماکے ہوتے ہیں، کبھی سنتے ہیں وائرس کے سبب عمل روک دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا بتاتا ہے کہ گزشتہ تین برس سے ایرانی نیو کلیئر پلانٹ طرح طرح کے حادثوں کا شکار ہو رہا ہے۔

کیا حقیقتاً ایسا ہی ہے ........ ؟