عورت پر ظلم کیسے ختم ہو
- سوموار 14 / جولائی / 2014
- 4659
ہندوستانی معاشرہ میں خصوصاً اور عموماً تمام ہی معاشروں میں عورت کی عزت نفس سے کھلواڑاور مسلسل ہو نے والے ظلم و زیادتیوں کے پیچھے غالباً تین بنیادی نظریات وتصورات کارفرما ہیں۔i) معاشرتی اعتبار سے عورت کمتر ہے ii) مرد کی شہوانی خواہش کے پیش نظر ہر ممکن طریقہ سے عورت کا استحصال کیا جاسکتا ہے۔iii) خاندان کی عزت مقدم ہے، لہذا عورت کی جانب سے ہر اس عمل کے خلاف جو معاشرہ میں خاندان کو بدنام کرنے کا ذریعہ بنے،غیرت کے نام پر عورت پر تمام طرح کی بندشیں لگائی جا سکتی ہیں یہاں تک کہ قتل (honour killing) کا جواز بھی بنتا ہے۔
ان تین بنیادی تصورات پر مبنی معاشرہ میں قوانین کے رکھوالے، صنف نازک پر جاری ظلم وستم کی روک تھام میں کس حد تک اپنا کردار ادا کریں گے، اس کا اندازہ متذکرہ تصورات کی روشنی میں بخوبی لگایاجا سکتا ہے۔ درحقیقت ہندوستانی معاشرہ میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو ضروری ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ شہروں میں موجود “ روشن خیالوں “ نے خواتین کے حقوق کی آڑ میں اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے میں بھی کسی قسم کی قباحت محسوس نہیں کی ہے۔ یہ وہ دو مختلف الانواع گروہ ہیں جنھوں نے خواتین و بچیوں کو معاشرہ میں حد درجہ کنفیوژ کیا ہےاور صحیح و غلط کی تمیز میں بھی رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ نتیجتاً فحاشی و عریانیت کو فروغ ملا اور اخلاقی زوال نے فرد واحد کے ساتھ ساتھ خاندان اور معاشرہ میں بے شمار مسائل پیدا کیے ہیں۔
عورت کو قدیم زمانے سے ظلم و استحصال کا شکار بنایا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف ادور میں عورت کی صورت حال کا مطالعہ عبرت ناک ہے۔ یونانی تاریخ میں مرد نے عورت کو صرف اپنی نفسانی تسکین و مسرت کا ذریعہ اور آلہ کار سمجھا۔ یونانیوں کے نزدیک عورت “ شجرۃ مسمومۃ “ ایک زہر آلود درخت اور “ رجس من عمل الشیطان “ کے مطابق عورت شیطان سے زیادہ ناپاک سمجھی جاتی تھی۔ رومن قانون آج بھی دنیا کے مختلف ممالک کے قوانین کا سنگِ بنیاد ہے۔ اس اعلیٰ ترین قانون میں عورت کی حیثیت پست و کمزور تھی اور ان کا عقیدہ تھا کہ عورت کے لئے کوئی روح نہیں بلکہ وہ عذاب کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ عورت شادی کے بعد شوہر کی زرخرید غلام ہو جاتی تھی۔
فارس کی تہذیب بہت پرانی ہے۔ یہاں بھی عورت کی وہی زبوں حالی تھی۔ باپ کا بیٹی اور بھائی کا بہن کو اپنی زوجیت میں لینا وہاں کوئی غیر موزوں بات نہ سمجھی جاتی تھی۔ شوہر اپنی بیوی پر موت کا حکم لگا سکتا تھا۔ اسے اپنی عیش و عشرت کیلئے استعمال کرنا وہاں کے بادشاہوں اور صاحب ثروت کا محبوب مشغلہ تھا۔ عیسائیوں میں رہبانیت کی تعلیم کا اثر یہ ہؤا کہ عیسائی عورت کو قابل نفرت سمجھنے لگے۔ طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے ۔ یہاں تک کہ عورت کے وجود کو تسلیم کرنا بھی اْن کے نزدیک گناہ سمجھا جانے لگا۔ حتی کہ 576ء میں فرانسیسیوں نے ایک کانفرنس صرف اس مسئلہ کے حل کے لئے منعقد کی کہ عورت میں روح ہے یا نہیں؟
دور جاہلیت میں لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کی دی گئی تعلیمات کو فراموش کرکے مختلف قسم کی برائیوں میں ملوث تھے۔عربوں میں مرد کے لیے عورتوں کی کوئی قید نہ تھی۔ بھیڑ بکریوں کی طرح جتنی چاہتے، عورتوں کو شادی کے بندھن میں باندھ لیتے۔ عربوں میں عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں کا نظریہ تھا کہ میراث کا حق صرف ان مردوں کو پہنچتا ہے جو لڑنے اور کنبے کی حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے وارثوں میں جو زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوتا تھا وہ بلاتامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا۔
1980کی دہائی میں وقوع پذیرہونے والی اصطلاح گلوبلائزیش کے علمبرداروں کایہ خیال تھا کہ اس کے ذریعہ دنیا میں دوریاں ختم ہوں گی اورتمام ممالک تیزی سے بہتری وترقی کی جانب گامزن ہوں گے۔اس حوالے سے یہ خیالِ عام بھی تھاجوبہت حد تک آج بھی موجود ہے کہ اس کے ذریعہ بین الاقوامی مسائل پر گرفت کرتے ہوئے فرد اور معاشرے کو آسانیاں بہم پہنچائی جا سکیں گی۔
گزشتہ دنوں بھارت میں قومی خواتین کمیشن کی ایک رپورٹ میں عورتوں پر دن بدن بڑھتی ہوئی زیادتی کیلئے گلوبلائزیشن اور کھلی اقتصادیات کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس دور میں عورتوں کی خرید وفروخت کا بازار تیزی سے بڑھا ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان میں سیاح جسم فروشی کے کاروبار میں نہ صرف تعاون بلکہ فروغ کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں ۔ کمیشن نے پچھلے کچھ برسوں میں مردوں کے مقابلہ عورتوں کی آبادی کا تناسب کم ہونے اور عورتوں کے خلاف جرائم مثلاً عصمت دری، اغوا، چھیڑ چھاڑ وغیرہ کی وارداتوں میں اضافہ پر تشویش ظاہر کی ہے۔
کمیشن کا تجزیہ ہے کہ اس کی بنیادی وجہ اقتصادی طور پر متمول ہونے کیلئے دیہاتوں ، قصبوں اور چھوٹے شہروں سے کافی تعداد میں مواقع کی تلاش میں عورتوں کی بڑے شہروں کی طرف منتقلی ہے۔ اس کے علاوہ آبادی میں لڑکیوں کے تناسب میں کمی اور گلوبلائزیشن کی پالیسی کے نتیجہ میں ایک نیا اقتصادی رجحان سامنے آیا ہے، جہاں عورتوں کو صرف استعمال کی شئے تصور کیا جارہا ہے۔ ہندوستان میں اقتصادی آزاد روی کے نافذ ہونے کے دو دہائیوں بعد عورتوں کے حوالے سے گلوبلائزیشن اور کھلی اقتصادیات کے بارے میں کیا گیا یہ تبصرہ نہ صرف قابلِ غور بلکہ تشویشناک بھی ہے۔
قومی خواتین کمیشن کی مذکورہ رپورٹ میں گلوبلائزیشن کے اس دور میں آدیباسی خواتین کے جنسی استحصال، تامل ناڈو، آندھرا اور کرناٹک ریاستوں میں جسم فروشی کی بڑھتی ہوئی لعنت اور پورے ملک میں عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف جرائم کے گراف میں غیر معمولی اضافہ پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ہر ذات اور قبائل کے لوگوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کیلئے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کا انتظام موجودہے۔ تاہم آدیباسی اکثریت کے حامل جھارکھنڈ میں تقریباً پچاس فیصد نوکر پیشہ آدیباسی خواتین کام کرنے کے مقامات پر اپنے افسر کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ یہ خبریں بھی قابل تشویش ہیں۔
یہ وہ موجودہ صورتحال ہے جو سماج کے سوچنے سمجھنے والوں کو نہ صرف تشویش میں مبتلا کررہی ہے بلکہ مستقبل قریب کے حالات کی بھی ایک منفی تصویر پیش کرتی ہے۔اس پورے پس منظر میں اگر فرد اور سماج ، اس صوتحال اور عورت کے تعلق سے خود ساختہ افکار و نظریات پر مبنی نظام کی تبدیلی کا خواہاں ہے تو لازم ہے کہ متبادل نظام کے لیے منظم سعی و جہد کی جائے۔ ایک ایسی تبدیلی کا آغاز جہاں نہ صرف عورت بلکہ ایک مثالی خاندان بھی وجود میں آئے۔ مثالی خاندان کے نتیجہ میں مسائل پر گرفت حاصل کی جا سکے گی ،ملک میں امن و امان قائم ہوگااور عورت کو بھی ایک بار پھر وہ عزت و شرف حاصل ہوگا جو اس کا حق ہے۔
تبدیلی کے آغاز میں جہاں ایک جانب سرکردہ افراد کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، وہیں میڈیا جو عوام کی رائے تبدیل کرنے کا اہم ذریعہ ہے، اسے بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔