پاکستان کرکٹ بورڈ اور قومی کاز
- اتوار 20 / جولائی / 2014
- 4536
شاہد آفریدی کو خالق کائنات نے عزت ، دولت ، شہرت کے ساتھ محبت بھی اتنی دی کہ جس کی باقی لوگ صرف تمنا ہی کر سکتے ہیں۔ 35 برس کے اس کھلاڑی نے کئی مشکل میچوں میں اپنی آل راؤنڈکارکردگی سے پاکستان کی جیت کو آسان بنایا ۔ شاہد پر کھیل کے میدان میں آنے والے عروج و زوال آج کا ہمارا موضوع نہیں ہیں۔
اس نے خود کے نام پر ایک این جی او کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کے تحت کوہاٹ میں اپنے والد صاحبزادہ فضل رحمن میموریل اسپتال قائم کیا۔ اپنی این جی او کی افتتاحی تقریب کے موقع پر شاہد آفریدی نے فوجی آپریشن ضرب عضب کے باعث گھر چھوڑنے پر مجبور 10لاکھ کے قریب آئی ڈی پیز کی مدد کا اعلان کیا ہے ۔ اب تک کی خبروں کے مطابق اس نے عمیر ثنا اور الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت کئی سو خاندانوں میں راشن و دیگر اشیاء تقسیم کیں۔ لیکن اس کا یہ عمل بھی آج زیر بحث نہیں۔
بات تو دراصل پاکستان کرکٹ بورڈ پر کرنی ہے۔ جس نے ہر سطح پر ہماری جگ ہنسائی کو اپنا طرہ امتیاز بنانے کی ٹھان لی ہے۔اس قبل کے ہم آپ کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔ آپ کو 1996ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے ایام کی طرف لیئے چلتے ہیں ۔اس ورلڈ ورکپ کی میزبانی پاکستان ، انڈیا اور سری لنکا کے حصے میں آئی تھی۔ان دنوں سری لنکا میں حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان شہروں اور مضافات میں گھمسان کی جنگ چل رہی تھی ۔ جس کے باعث آسٹر یلیا اور ویسٹ انڈیز نے اپنے لیگ میچز سری لنکا میں نہیں کھیلے۔ لیکن اس کے باوجود چند ٹیموں نے وہاں اپنے میچ کھیلے اور تمام با خیرو عافیت واپس لوٹ آئیں۔
کیا ہمارے شہروں میں گزشتہ 13برس میں باغیوں اور حکومت کے درمیان ایسی ہی گھمسان کی جنگ چھڑی ہے؟۔ نہیں اس کے باوجود ہمارے یہاں کوئی غیر ملکی ٹیم کھیلنے کو نہیں آتی۔ پاکستان میں کھیلوں کے لئے ساز گار ماحول پیدا کرنا اگرصرف حکومت کی ذمہ داری ہے تو کیا مختلف کھیلوں کے بورڈز اور فیڈریشن کا کام صرف ادارتی سطح کی سیاسی کھچڑی پکانا ہے؟۔ اس عمل نے ہماری کھیل کے میدانوں ہی ویران نہیں کیا بلکہ اسکوائش، ہاکی اور اب کرکٹ کی چودھراہٹ بھی ہم سے چھین لی ہے۔
ان سب باتوں کے باوجود اصل خبر یہ ہے کہ شاہد آفریدی نے وزیرستان کے متاثرین کی امدادی رقم جمع کرنے کیلئے ایک ٹی 20میچ کھیلنے کا اعلان کیا تھا ۔اس کیلئے آل راؤنڈر نے دو سیاسی رقیبوں وزیر اعظم نواز شریف اور عمران خان کے ساتھ تمام سابق کپتانوں اور دیگر معروف کھلاڑیوں کو میچ میں شرکت کیلئے راضی بھی کرلیا تھا ۔ان کی خواہش تھی کہ زیادہ رقم جمع کرنے کیلئے میچ 60ہزار سے زائد افراد کی گنجائش والے قذافی اسٹیڈیم میں کھیالا جائے۔ جس سے کروڑوں کی آمدنی متوقع تھی ۔اس کیلئے پی سی بی کے حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے میچ کیلئے اسٹیڈیم دینے سے صرف اس لئے انکار کردیا کہ میدان میں مرمت کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ میچ 6 سے30اگست تک کے دوران پاکستان سری لنکا سیریز کے اختتام پر رکھا جائے۔ کرکٹ کنٹرول بورڈ کے اس اس روئیے کی وجہ سے میچ ملتوی ہی ہونا تھا جو ہو گیا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ پی سی بی اسٹیڈیم میں کس نوعیت کا تعمیر و مرمت کام کروارہی ہے ، جو قومی کاز میں حصہ ڈالنے کے لیے چند دن کیلئے مؤخر نہیں ہوسکتا؟۔ کیا اگلے ماہ انڈیا، آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں نے ہاتھ باندھ کر پاکستان آنے کی ہامی بھر لی ہے جس کی وجہ سے گھروں سے دور بیٹھے متاثرین وزیرستان کی امداد کیلئے ہونے والے میچ کیلئے اسٹیڈیم خالی نہیں مل سکتا؟۔ کیا ان کی امداد کا ٹھیکہ صرف حکومت اور پاکستانی این جی اوز نے ہی اٹھا رکھا ہے۔ اس میں پی سی بی اپنا حصہ نہیں ڈال سکتی۔
نجم سیٹھی اور ذکاء اشرف اور اس سے پہلے کے کرتا دھرتاؤں کی میوزیکل چیئر کی جنگ نے کھیل کو تباہ و برباد کردیا ہے ۔ بورڈ ز کی نااہلی کے باعث کرکٹ پر آسٹریلیا ، انگلینڈ اور بھارت کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے ۔ اب تو لگتا ہے کہ ہم ہاکی اور اسکوائش کی طرح کرکٹ کی ترقی اور ترویج کی آرزو پر بھی فاتحہ ہی پڑھ لیں۔