فلسطین ۔ ایک شکار گاہ
- اتوار 20 / جولائی / 2014
- 4490
فلسطین کو اسرائیلیوں کیلئے شکار گاہ بنے ہوئے دہائیاں ہونے کو آئی ہیں۔ قتل و غارت گری کا بازار ایک بار پھر گرم ہے مگر مسلم حکمران خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ شام ہو یا لیبیا، مصر ہو یا عراق، لبنان ہو یا کشمیر ، افغانستان ہو یا فلسطین یا پھر پاکستان، تمام مسلم ممالک دہشتگردی کیخلاف جنگ کی چکی میں پس رہے ہیں۔ مسلم ممالک میں انسان جنگوں، بدامنی، دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کے ہاتھوں مر رہے ہیں یا پھر مارے جا رہے ہیں۔ فلسطینیوں کےخلاف اسرائیلی مظالم پر دنیا نے بے حسی کی روئی کانوں میں ٹھونس لی ہے۔
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس کے خلاف زمینی کارروائی کا دائرہ بڑھا دیا ہے جبکہ 13دنوں میں شہادتوں کی کل تعداد 400 سے تجاوزکر گئی ہے۔ جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ غزہ میں فلسطینی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے تیرہویں روز اسرائیل کی جانب سے کی جانی والی بمباری اب تک کی شدید ترین بمباری ہے۔ اتنے معصوم جانیں چلی گئیں ۔ اسرائیل نے بلا تخصیص خواتین ، بچوں ، بزرگوں اور جوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے۔ ہر طرف ایک کہرام مچا ہے مگر مسلم امہ بدستور خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے۔
ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے کے لیے مزید فوجیں بھیجی گئی ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا تھا وہ شمالی غزہ کی پٹی میں موجود زیر زمین سرنگیں تباہ کرنے کیلئے اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام نے دعویٰ کیا انہوں نے علاقے میں حماس کے انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔اسرائیلی جارحیت اور بین الاقوامی محاصرے کے شکار شہر کا 70 فیصد حصہ اندھیرے میں ڈوب چکا ہے کیونکہ 8 جولائی کو شہر میں شروع ہونے والی جارحیت کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کو بجلی کی فراہمی منقطع کردی ہے۔ ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے وہ غزہ کی پٹی پر زمینی حملہ روک دے کیونکہ اس سے مزید خونریزی ہوگی اور تنازعے کے حل اور اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے کوششیں پیچیدگی کا شکار ہوجائیں گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر اسرائیل کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے جاری ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون ثالثی کرانے کے لئے علاقے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ بان کی مون خلیجی ملک قطر پہنچ رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ وہ قطری حکام کی مدد سے حماس کے ساتھ غزہ میں قیام امن کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی آمد بھی قطر میں متوقع ہے۔ یاد رہے کہ حماس کے رہنما خالد مشعال قطر میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ا قوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بان کی مون کے خطے میں جانے کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کو تشدد روکنے پر آمادہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں زمینی پیش قدمی کے بعد پناہ گزین فلسطینیوں کی تعداد ایک دن میں تقریباً دگنی ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جب اسرائیلی فوج کے پیادہ دستے اور ٹینک، غزہ میں داخل ہوئے تو لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر پناہ گاہوں کا رخ کیا۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً دگنی ہو کر 40000 تک پہنچ چکی ہے۔ ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے اسرائیل غزہ میں بائیولوجیکل ہتھیار استعمال کررہا ہے۔اہم امر یہ ہے کہ بھارتی قیادت تک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر بمباری بندکرے۔ بھارتی وزارت خارجہ و دفاع نے مشترکہ اجلاس میں اسرائیل کے ملٹری اتاشی کو طلب کر کے اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔
غیر جانبدار حلقوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے وحشیانہ اور جارحانہ رویے کا ذمہ دار امریکہ ہے جس نے شرق اوسط میں اسرائیل کو پولیس مین کا منصب سونپ رکھا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ امریکہ دنیا کے لئے گریٹر اسرائیل اور اسرائیل مشرق وسطیٰ میں منی امریکہ کی حیثیت رکھتاہے ۔ اسرائیل تنازع کے پر امن حل کے لئے امریکہ کو اپنا طرزِ فکر تبدیل کرنا ہو گا۔
1948ء میں بے دخل کئے جانے والے مظلوم فلسطینیوں کو واپسی کے حق سے محروم کرنا سخت ناانصافی ہے جبکہ نسلی امتیاز کی بنیاد پر ایک خطہ ارض پر قبضہ اور وہاں کے اصل باشندوں کی وہاں سے بے دخلی بدترین فسطائیت ہے۔ امریکہ کو اپنی اسرائیل پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ جب تک اسرائیل کو معقولیت کی راہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا، مسلم دنیا اور مغربی دنیا کے مابین خلیج حائل رہے گی۔
آج مغربی میڈیا اور متعصب لوگ اس لڑائی کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرا رہے ہیں۔ مگر یہ کسی کو یاد نہیں کہ جب حماس نہیں تھی تب کیا اسرائیل نے عربوں کے لئے زندگی کو گلزار بنایا ہؤا تھا۔ تب کیا معصوموں کا خون نہیں بہایا گیا۔ اس پر بھی تو غور کیجئے کہ جب حماس راکٹ نہیں چلاتی تب غزہ میں زندگی کیسے گزرتی ہے؟ غزہ ایک ایسا جیل خانہ بن چکا ہے جس کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں۔
ہر چیز کو اس کے سیاق و سباق میں دیکھا جاتا ہے مگر مغربی صحافت کا یہ اصرار ہے کہ ہر وقت مسلمانوں کو لعن طعن کیا جائے۔ ظالم کو ظالم کہنے پر کوئی تیار نہیں کیونکہ اس سے مفادات پر زک پڑتی ہے۔