موروثی مسائل کی مجاوری
- سوموار 21 / جولائی / 2014
- 4377
پاکستان اور اسرائیل لگ بھگ ہم عمر ہیں ۔
جب اُنیس سو چھ میں کل ہند مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تو اُس وقت اسرائیل کے قیام کا تو کسی کو اندازہ تک نہیں تھا ۔ مسلم لیگ کے قیام سے برطانوی ہند میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی بات چل نکلی تھی۔ ادھر اُنیس سو سترہ میں تاجِ برطانیہ کے فارن سیکریٹری آرتھر جیمز بالفور نے برطانوی یہودی کمیونٹی کے نمائندہ بیرن روتھشلڈ کو ، جو برطانیہ اور آئر لینڈ کی صیہونی فیڈریشن کے رہنما تھے ، مطلع کیا کہ تاجِ برطانیہ یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک ریاست کے قیام کی حامی ہے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن مدد کرے گی اور فلسطین کی غیر یہودی آبادی سے کوئی شہری یا مذہبی تعصب روا نہیں رکھا جائے گا ۔
دریں اثنا اگست انیس سو سنتالیس میں پاکستان بن گیا مگر اسرائیل کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر انیس سو سنتالیس کو ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت عربوں اور یہودیوں کی دو الگ الگ ریاستیں وجود میں لانا قرار پایا ۔
اس کے بعد کیا ہؤا ؟
اسرائیل تو وجود میں آ گیا، چھا گیا اور پھیلتا چلا گیا جب کہ فلسطین کا نام تو موجود رہا مگرفلسطین تا حال کہیں نہیں ہے ۔
انیس سو سنتالیس سے یہ دو ریاستیں پاکستان اور فلسطین اپنے اپنے وجود اور وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
فلسطین جو پچھلے سرسٹھ سال سے حیات و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے ، بالخصوص اپنی اُن ہمسایہ مسلمان عرب ریاستوں کی بے حسی اور غیریت کاشکار ہے ، جو اس مسئلے کے حل کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ اگر ہوتیں تو چھہ دہائیوں میں یہ مسئلہ کسی طور حل ہو ہی جاتا۔ مگرپاکستان اور اسرائیل کی بد قسمتی کہ بد امنی ، مصائب اور غیر یقینی صورتِ حال دونوں ملکوں میں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ یہ مسائل نسل در نسل ورثے میں چلے آتے ہیں جو ایک سیاسی قیادت سے دوسری کو منتقل ہوتے رہتے ہیں اور شیطان کی آنت کی طرح کسی صورت نہ ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی اُن کا کوئی شافی حل ہی سامنے آتا ہے ۔
پاکستان کی ہر حکومت بر سرِ اقتدار آتے ہی سابقہ حکومت کی طرف سے وراثت میں ملے مسائل کا رونا رونے لگتی ہے ۔ اور روتےروتے حکومت کی ہچکی بندھ جاتی ہے ، اپوزیشن ہچکی کی شکایت کرنے لگتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ حکمرانوں کی جگہ ہچکی اسے لگ جائے ۔ وہ حکومت کی ٹانگ کھینچتی ہے ، کان مروڑتی ہے اور حکمرانوں کے کان میں مونہہ سے بھونپو بجا کر اسے ڈرانے کی کوشش کرتی رہتی ہے تاکہ حکومت مسائل چھوڑ کر بھاگ جائے اور مسائل پر رونے کا موقع اُنہیں مل جائے ۔
موجودہ حکومت کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف ہے۔ پرویز مشرف نے ملک کا آئین توڑا اور اب اسی ٹوٹے ہوئے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت عدالت کی پیشیاں بھگتنے پر تعینات ہے جو وہ بھگتتا کم ہے مگر حکمرانوں کو زیادہ بھگتواتا ہے ۔
در اصل آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت تو اور بھی کئی جرنیل قابلِ مواخذہ ہیں مگر مشرف کا معاملہ اور ہے کہ اس نے موجودہ حکمران جماعت کی جمہوریت کو کرسی سے نیچے گرا دیا تھا اور وزیر اعظم کو اس کے اہلِ خانہ اور سیاسی لاؤ لشکر سمیت جدہ رسید کروا دیا تھا یا کر دیا تھا ۔ وزیر اعظم کو یہ بات نہیں بھولتی کہ اُنہیں کس بے دردی سے معزول کر کے ملک بدری کی سزا دی گئی تھی اور اب اس کا بدلہ پرویز مشرف سے لینا عین انصاف ہے ۔
پرویز مشرف کے خلاف یہ مقدمہ ذاتی انتقام کا مقدمہ ہے ۔ اور یہ بات متعدد سیاسی ، صحافتی اور قانون دان اداروں کی طرف سے متعدد بار کہی گئی ہے کہ آئین شکنی کے مرتکب صرف پرویز مشرف ہی نہیں ہوئے، ایوب خان ، یحیٰ خان اور جنرل محمد ضیا ء الحق بھی ہوئے ہیں۔ لیکن اس جرم میں ماخوذ صرف جنرل پرویز مشرف ہی کیوں ہیں؟
یہ نقطہ اپنی جگہ کتنا بھی وزنی سہی ، حکومت اس کو در خورِ اعتنا سمجھنا ہی نہیں چاہتی ۔ حکومت کے لیے پرویز مشرف کا ٹرائل انا کا مسئلہ بنا ہؤا ہے اور ارباِب اختیار یہ تخمینہ لگانا ہی نہیں چاہتے کہ اس سے خود انہیں کیا نقصان ہنچ رہا ہے ۔
متحدہ قومی تحریک کے رہنما الطاف حسین بھی کہ چکے ہیں کہ جب نواز شریف کی پچھلی حکومت کا تختہ اُلٹا گیا تو اس وقت پرویز مشرف تو ہوائی جہاز میں تھے ، لہٰذا جن لوگوں نے حکومت کے خلاف کاروائی کی ، اُن کو بھی اس مقدمے میں ملوث کیا جائے ، جس کی طرف نہ عدالت توجہ دیتی ہے اور نہ ہی استغاثہ کے کان پر جوں رینگتی ہے ۔
اس مقدمے کا سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ شیخ رشید اور اُن کے ہم فکر اور ہم نظریہ قسم کے لوگ کسی نہ کسی طرح فوج کی غیرت اور مردانگی کو للکارتے رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح نواز شریف حکومت کا خاتمہ ممکن ہو، خواہ پانچویں بار مارشل لاء ہی کیوں نہ لگ جائے ۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ مقدمہ حکومت کے سر پر خطرے کی تلوار کی طرح لٹک رہا ہے ۔
دوسری طرف لاہور میں ماڈل ٹاؤن سانحہ حکومت کے حق میں فالِ بد ثابت ہؤا ہے اور لگتا ہے حکومت نے اپنے پاؤں ہر خود ہی کلہاڑی مار لی ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت مسئلے حل کرنے کے بجائے مزید مسئلے ایجاد کرتی چلی جا رہی ہے ۔ اور پرویز مشرف کیس اس مسئلہ سازی کی ایک واضح مثال ہے ۔ اور جب اگلی حکومت آئے گی تو اسے یہ سارے مسائل اُسے منتقل ہوں گے اور پھر سے وہی بیانات شروع ہو جائیں کہ یہ مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں ۔