خواہشات سے لڑنے کا مہینہ

  • سوموار 21 / جولائی / 2014
  • 4362

ایک بار میں نے اذان کی آواز آنے سے پہلے گھڑی دیکھ کر افطار کر لیا۔ کئی لوگ سنجیدگی سے اس شبہ میں پڑ گئے کہ میرا روزہ نہیں ہؤا۔ آج کل روزہ داروں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کا سخت اہتمام کریں گے کہ طلوع سحر سے کچھ منٹ پہلے کھانا پینا بند کر دیں اور غروب آفتاب کے کچھ منٹ بعد افطار کریں۔ اس کا نام انہوں نے ” احتیاط “ رکھا ہؤا ہے۔ اس احتیاط کی زد میں عید کا چاند بھی آیا ہؤا ہے۔

روزہ ، جس کو عربی میں صوم ، انگریزی میں فاسٹنگ اور ہندی میں برت کہتے ہیں، ہر مذہب میں کسی نہ کسی طور پایا جاتا ہے۔ اگرچہ اسکی مدت اور اس کی شکل میں ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان اختلاف ہے۔ مگر وہ ایک یا دوسری صورت میں ہر جگہ موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ نفس کو کنٹرول میں لانے کی تربیت ہے اور نفس پرکنٹرول ( یا نفس کشی) کو ہر مذہب میں خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔

مذہب جس قسم کے انسان بنانا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کا نفس اس کی عقل کے قبضہ میں ہو اور روزہ دار آدمی کو اسی کے لئے تیار کرتا ہے۔ آدمی دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔ جسم اور روح۔ جسم مادی اور کثیف ہے۔ روح غیر مادی اور لطیف۔ اگر ہم جسم کی ہر خواہش کو بے روک و ٹوک پورے کرتے رہیں تو جسم زور آور بن جائے گا اور وہ روح کے اوپر غالب آ جائے گا۔ روزہ اسی آزادی پر پابندی لگانے کا دوسرا نام ہے۔ روزہ آدمی کے جسم کو ایک حد کے اندر رکھ کر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کے جسم کے اوپر حکمرانی کرے۔ اس کے لطیف وجود اس کے کثیف وجود کو اپنے قبضہ میں رکھے۔

میرے حساب میں روزہ اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا پینا بند رکھے تو بس اس کا روزہ ہو گیا۔ روزہ کی یہ ظاہر صورت ایک علامت ہے اور اس کے ذریعہ ایک خاص روحانی اور اخلاقی سبق دینا مقصود ہے اور وہ سبق یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو چاہئے کہ وہ صحیح اور غلط اور جائز اور ناجائز میں فرق کرے۔ وہ صحیح اور جائز کو لے لے اور غلط اور ناجائز سے اپنے آپ کو بچائے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے وہ نجات کی راہ پا سکتا ہے۔

رمضان کے مہینہ کو حدیث میں ” صبر کا مہینہ “ (شہر ابصر) کہا گیا ہے۔ صبر و استقامت بلاشبہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔ یہی تمام فتوحات اور کامیابیوں کا راز ہے۔ حقیقی روزہ صبر کی صفت پیدا کرتا ہے اور صبر ہی وہ چیز ہے جو تمام اعلیٰ کامیابیوں کا دروازہ ہے۔ روزہ کے لئے عربی لفظ صوم کے اصل معنی ہے رکنا۔ صائم کے معنی ہیں رکنے والا۔ زمانہ قدیم میں مشکل اوقات میں گھوڑا انسان کا سب سے بڑا ساتھی تھا۔ جنگ اور دشوار قسم کے سفر میں وہ انسان کے کام آتا تھا۔ اس مقصد کے لئے تربیت دینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ گھوڑے کو محدود مدت کے لئے بھوکا پیاسا رکھا جائے تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ سختی کو برداشت کر سکے۔

اس طرح کے تربیت یافتہ گھوڑے کو خیل صائم ( روزہ دار گھوڑا) کہتے تھے۔ اس طرح صائم سے مراد وہ انسان ہے جو کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے وقتی طور پر رک جائے۔ یہ رکنا اور پرہیز کرنا آدمی کے اندر برداشت کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ جب سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں تو وہ ان کے مقابلہ میں پوری طرح جم سکے۔ رمضان کا مہینہ آدمی کے لئے اپنے نفس اور اپنی خواہشات سے لڑنے کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب انسان برائی کی طاقتوں کو زیر کر کے ان کے اوپر قابو پاتا ہے اور دوبارہ خدا کے نیک بندہ کے عزم لے کر نئے سال میں داخل ہوتا ہے۔

تاریخ حیرت انگیز طور پر روزہ کی اس خصوصیت کی تصدیق کرتی ہے۔ چنانچہ روحانی مقابلہ کا یہ مہینہ اسلام کی تاریخ میں فوجی مقابلہ کا مہینہ بھی رہا ہے۔ اسلام اور غیر اسلام کے کئی بڑے بڑے معرکے اسی مہینہ میں پیش آئے ہیں۔ مثال کے طور ان میں سے چند معرکوں کا ذکر کرتا ہوں۔

1۔ جنگ بدر رمضان 2ھ جبکہ رسولﷺ اور اصحاب رسولﷺ کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔

2۔ فتح مکہ رمضان 8ھ ۔ جس نے پورے عرب پر اسلام کو غالب کر دیا۔

3۔ فلسطین۔ رمضان 15ھ۔ عمرو بن العاص نے فلسطین کو فتح کر کے بیت المقدس کو اسلام کی درود سلطنت میں شامل کیا۔

5۔ معرکہ اسپین رمضان 91ھ۔ جبکہ طارق بن زیاد نے اسپین میں کامیاب پیش قدمی کی۔

6۔ سندھ ۔ رمضان 96ھ۔ محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہؤا اور وہاں اسلام کو پھیلایا۔

7۔ اندلس۔ رمضان 138ھ۔ عبدالرحمن الداخل اندلس میں داخل ہؤا اور وہاں باقاعدہ سلطنت امویہ قائم کی۔

8۔ صقلیہ۔ رمضان 212ھ۔ زیاد بن الاغلب نے جریزہ صقلیہ کو فتح کیا۔

9۔ حرب صلیبیہ۔ رمضان 584ھ۔ صلیبی جنگ میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی طاقتوں کو شکست دی۔

10۔ معرکہ عین جالوت۔ رمضان 658ھ۔ جس نے تاتاریوں کو شکست دے کر مسلم دنیا میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔

11۔ جنگ سوئز۔ رمضان 1392ھ۔ جب کہ مصری فوجوں نے اسرائیلی فوجوں کو شکست دے کر نہر سوئز پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

اس قسم کے تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جدوجہد میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ روزہ کی مشقت آدمی کو کمزور نہیں کرتی بلکہ وہ اس کو اس قابل بناتی ہے کہ زندگی کے معرکہ میں وہ زیادہ قوت اور طاقت کے ساتھ حصہ لے سکے۔

(یہ مضمون کاروان اور جنگ میں بیک وقت شائع ہؤا ہے)