مسلم لیگ (ن) کہاں ہے؟
- بدھ 23 / جولائی / 2014
- 4434
لاہور ہمیشہ سے سیاست کا مرکز رہا ہے۔ اس شہر کی سیاسی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کی قرار داد اسی شہرمیں منظور ہوئی۔ جماعت اسلامی کا قیام اسی شہر میں عمل میں آیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد اسی شہر میں رکھی گئی۔ مسلم لیگ ہم خیال اور مسلم لیگ (ق) کی صورت گری بھی اسی شہر میں ہوئی۔
یہاں سے اٹھنے والی تحریکیں ملک میں تبدیلی کی وجہ بنیں کہ یہ شہر پورے پنجاب کی نمائندگی کرتا ہے اور پنجاب کے پیچھے پورا ملک چل پڑتا ہے۔ آج تاریخی وسیاسی اہمیت کے حامل اس شہر میں ایک سوال کیا جا رہا ہے یہ سوال دانشور طبقے بھی کر رہے ہیں، سیاسی کارکن بھی کر رہے ہیں اور سیاست کے ماہرین اور طلبا کی زبانوں پر بھی یہ سوال بار بار آ رہا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ پاکستان اور پنجاب پر حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ (ن) کہاں ہے۔ اس پارٹی کا وجود تو اس شہر میں کہیں نظر نہیں آ رہا حالانکہ یہ اس پارٹی کا سیاسی گڑھ ہے۔ جہاں گزشتہ انتخابات میں اسے سوفیصد کامیابی ملی تھی۔ 2008ء کے انتخابات میں بھی اس پارٹی کو زبردست کامیابی ملی تھی ۔1977ء کے بعد سے یہ شہر عملاً مسلم لیگ (ن) کا شہر کہلاتا ہے۔ یہ سوال تو عام سیاسی کارکنوں اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کا ہے۔
سیاسی دانشوروں کا سوال اس سے بھی زیادہ تلخ اور پریشان کن ہے۔ وہ لاہور کی علمی وسیاسی مجلسوں میں یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ 11مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کہاں ہے۔ کیا اس سیاسی جماعت کا وجود پورے ملک میں کہیں ہے۔ کیونکہ انتخابات کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور پنجاب حکومتیں تو لوگوں کو بری بھلی نظر آ رہی ہیں، لیکن پارٹی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ یہ آخری بار 11مئی 2013ء کو رات 11بج کر 23منٹ پر نظر آئی تھی۔ جب پارٹی کے سربراہ نواز شریف نے پارٹی سیکرٹریٹ180ایچ ماڈل ٹاؤن لاہور میں جمع ہونے والے کارکنوں سے وہ متنازع خطاب کیا تھا جس کا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بار بار تذکرہ کرتے ہیں۔ اور الزام لگاتے ہیں کہ اس تقریر کے ذریعے نواز شریف نے ریٹرننگ افسران کو یہ پیغام دیا تھا کہ انہیں ہر صورت اکثریت دلائی جائے۔ تاکہ وہ حکومت سازی کے لیے کسی کے محتاج نہ رہیں۔
ان دانشوروں کے مطابق11مئی کے اس خطاب کے بعد نواز شریف نے 15مئی کو الحمرا ہال لاہور میں نو منتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور پارٹی لیڈروں سے خطاب کیا تھا اور آئندہ حکومت کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی تھی۔ لیکن 600افراد کی گنجائش والے اس ہال میں ارکان اسمبلی، سرکاری افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کے بعد مسلم لیگی کارکنوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی تھی۔ اس لئے جو کارکن اپنے قائد کی تقریر سننے وہاں پہنچے تھے انہیں مایوس لوٹنا پڑا تھا۔
اس کے بعد سے آج تک مسلم لیگ (ن) کی نہ تو سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا کوئی اجلاس ہؤا ہے، نہ پنجاب مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کا کوئی اجلاس ہو سکا ہے اور نہ ہی دوسرے صوبوں اور اضلاع کی پارٹی کے عہدیداداروں کا کوئی باقاعدہ اجلاس ہؤا ہے۔ اس دوران پارٹی نے عوامی سطح پر بھی کوئی پروگرام نہیں کیا۔ نہ کوئی جلسہ نہ جلوس۔ نہ مظاہرہ نہ اجتماع۔ حد یہ ہے کہ پارٹی امور پر پریس کانفرنس بھی وزرا کر رہے ہیں پارٹی عہدیدار نہیں۔ شاید وہ سرکاری خرچ پر یہ فریضہ بہتر انداز میں ادا کر سکنے کی رائے رکھتے ہوں۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ واقع ماڈل ٹاؤن لاہور، میں عملاً تالے پڑے ہوئے ہیں۔ وہاں صرف وزیر اعلیٰ بعض سرکاری میٹنگز لیتے ہیں۔ پارٹی عہدیدوارں اور کارکنوں کا یہاں داخلہ بھی ممنوع ہے۔ یہاں انتخابات کے دوران جو میڈیا سیل قائم ہؤا تھا وہاں اب صرف کمپیوٹر اور مشینری باقی رہ گئی ہے۔ اسحاق ڈار اور انوشہ رحمان کے دفاتر جو پارٹی کے لیے کچھ کام کرتے تھے اب ان کے ساتھ اسلام آباد چلے گئے ہیں، جہاں یہ دونوں افراد صرف وزارتیں چلا رہے ہیں۔ پارٹی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔
مریم نواز جس پارٹی ونگ کی سربراہ تھیں، وہ کب کا ختم ہو چکا اور وہ اب اسلام آباد بیٹھ کر یوتھ بزنس لون سکیم چلا رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری اقبال ظفر جھگڑا آج کل علیل ہیں لیکن حکومت بننے کے بعد جب وہ صحت مند تھے تب بھی پارٹی ان سے کوئی کام نہیں لے رہی تھی ۔ سینیٹر طارق عظیم جنہوں نے کامیابی سے انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کا میڈیا سیل چلایا تھا اب صرف پارٹی امور پر کڑھتے نظر آتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری راجہ اشفاق سرور ہیں مگر کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل ہیں۔ ان کے پاس بھی پارٹی کا کوئی کام نہیں ہے۔
مسلم لیگ (ن) خواتین ونگ کی سربراہ سینیٹر مسز صادق کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ اب کہاں ہیں۔ پارٹی سیکرٹریٹ میں ہر وقت متحرک کرنل (ر) سیف آج کل وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر پرویز ملک ایم این اے اور سیکرٹری جنرل خواجہ نذیر ایم پی اے ہیں۔ مگر ان کی بھی کوئی پارٹی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ لگتا یہ ہے کہ پارٹی کو وزرا اور بیورکریسی نے ہائی جیک کر لیا ہے۔
دوسری جانب باقی تمام سیاسی جماعتیں ملک بھر میں سرگرم ہیں۔ تحریک انصاف تو ہر روز سرگرم نظر آتی ہے۔ طاہر القادری کی عوامی تحریک نے بھی کافی غلغلہ مچا رکھا ہے۔ پیپلزپارٹی بھی مہنگائی کے خلاف اکا دکا مظاہروں کے علاوہ 5جولائی اور اپنے قائدین کے دن منا لیتی ہے۔ جماعت اسلامی حال ہی میں اپنے انتخابات مکمل کر اچکی ہے۔ ایم کیو ایم دوسرے تیسرے دن فوج کی حمایت میں مظاہرے کررہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان کے بھی اجلاسوں کی خبریں اور مختلف امور پر ان کا رد عمل نظر آجاتا ہے۔ البتہ اے این پی کی سرگرمیاں کم کم ہی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ غیر سرگرم مسلم لیگ (ن) ہے۔ اگر بلدیاتی انتخابات ہو جاتے تو شاید پارٹی کے تنِ مردہ میں کوئی جان پڑ جاتی۔ لیکن ایسا شہباز شریف اور ان کے خوفزدہ حواریوں نے یہ ہونے نہیں دیا۔
اس ماحول میں دانشوروں کا کہنا ہے کہ پارٹی سے حکومت ہوتی ہے۔ حکومت سے پارٹی نہیں ہوتی۔ جتنی پارٹیاں حکومتوں نے بنائیں وہ سب کی سب حکومتیں ختم ہوتے ہی قصہ پارینہ بن گئیں۔ کنونشن مسلم لیگ، جونیجو لیگ، ہم خیال مسلم لیگ اور مسلم لیگ (ق) اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ اگر نواز شریف اور پارٹی عہدیداران نے اس طرف توجہ نہ دی اور پارٹی کو وزرا اوربیوکریسی کے چنگل سے نہ نکالا تو جلد مسلم لیگ (ن) بھی اس صف میں شامل ہو جائے گی۔
دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اور پارٹی ذمہ دار اس طرف توجہ دیتے ہیں یا وقت کے بے رحم فیصلے کا انتظار کرتے ہیں۔