میڈیا بر سرِ پیکار ۔ ایک آئینہ

  • بدھ 23 / جولائی / 2014
  • 4587

لاہور کے بازارِ حسن میں ا یک دوکان ہوتی تھی ’’ پھجے دے پائے ‘‘ ۔ اب تو خیر نہ وہ بازارِحسن رہا نہ اس دوکان کی وہ رونق رہی۔ سْنا ہے اس کی اور بھی شاخیں کھل گئی ہیں۔ مگر اب وہ پہلی والی میاں مدن کی بات نہیں ۔ یہ صبح تین بجے کھلتی وہ اودھم مچتا کہ لگتاآج لاہور میں پائے نہیں یا اس کے کھانے والے نہیں۔ برتن پہ برتن بج رہے ہیں، پہلے مجھے پہلے ، کی گردان کا وہ شور ہوتا کہ کچھ سْنائی نہ دیتا۔ مگر صاحب دس بجے اسی دوکان پہ وہ سناٹا ہوتا کہ لگتا کبھی یہاں صدیوں سے کوئی دوکان تھی ہی نہیں۔ پھر رات دس بجے جب یہ بازار جاگتا یہ دوکان بھی جاگ پڑتی۔

پاکستان بھی بازارِ حسن کے ’ ’ پھجے دے پائے ‘‘ کی دوکان ہے۔ ایک خبر آتی ہے، پورا پاکستان اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر ہوجاتا لگتا ہے ۔ اب کچھ ہونے والا ہے۔ اب اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ جس اخبار پر نظر ڈالو اس خبر سے بھرے پڑے ہیں۔ جس چائے خانے میں جاؤ کسیلی چائے کہ ساتھ اس خبر پر تبصرے ہو رہے ہیں ، تجزیے ہورہے ہیں ، پیشین گوئیاں ہو رہی ہیں ۔ کچھ ہونے کے تاریخیں دی جا رہی ہیں ۔ شرطیں لگ رہی ہیں ۔ مگر صاحب دو دن بعد یہ خبر اخبارات اور چائے خانوں سے ایسی غائب ہوتی ہے جیسے غلام عباس کے افسانے ’’ آنندی‘‘ میں صدیوں سے شہر میں قائم بازارِ حسن میونسپل کارپوریشن کے اجلاس کے فیصلے کے بعد راتوں رات غائب کر دیا گیا تھا۔

چند ماہ پہلے پاکستان کے مشہور صحافی حامد میر پہ قاتلانہ حملے پر جیو نیوز کے چینل سے چلنے والی خبر نے ۔۔۔ جس میں حامد میر کے بھائی نے اس قاتلانہ حملے کا ذمہ دار فوج کے ادارے آئی ایس آئی کو ٹھہرایا تھا، وہ طوفان کھڑا کیا تھا کہ کچھ نہ پوچھیں۔ لگتا تھا فوج آئی کہ آئی۔ یا یہ حکومت گئی کہ گئی۔ شہر شہر اس ایجنسی کے حق میں جلوس نکل رہے ہیں، مسجدوں میں لوگ کو اس چینل کے خلاف اْٹھ کھڑے ہونے کے خطبے دئیے جارہے ہیں ۔ حسبِ راویت اس خبر کے غیر ملکی سازش کے ثبوت دئیے جا رہے ہیں۔ چینل کے بنک اکاؤنٹ میں غیر ممالک سے آنے والے سرمائے کے فوٹو کاپیاں دیکھائی جارہی ہیں۔

ادھر چند حکومتی وزیر اپنے وزیر اعظم کے راگ سے راگ ملاکرحامدمیراور اس چینل کی تعریف کے نغمے کورس کی شکل میں دن رات گاتے پھرتے تھے۔ صحافی تنظیمیں کھل کر دو  مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئیں۔ عدالتوں میں اس چینل کو بند کرنے اور اس میں کام کرنے والوں پر غداری کے مقدمے چلانے کی درخواستیں دی گئیں۔ مگر .... مگر آج کسی اور خبر نے اہمیت لے لی ہے۔ اب بھی اخبارکے کسی کونے میں، کسی چینل میں اس خبر کی بازگشت سنائی دیتی ہے مگر وہ میاں مدن والی بات نہیں رہی ۔

دنیا بھر میں جب کوئی ملک ایسی صورتِ حال سے دوچار ہوتا ہے تو وقتی کالموں تجزیوں کے علاوہ اس ملک کے دانشور ، صحافی اور مفکر اپنے اپنے تھیسس لکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہؤا ۔ اس کی کیا وجوہات ہیں۔ اس کے کیا نقصانات ہوئے اور اگر آئیند ایسا ہؤا تو کیا کیا ہوسکتا ہے۔ مگر پاکستان میں ایسے کالم لکھے گئے اور ایسے بیانات دئیے گئے جیسے لوگ تازہ تازہ تلے پکوڑے شوق سے کھاتے ہیں مگر شام کو باسی ہوئے ان پکوڑوں کو انہی کالموں والے اخبار سمیت سڑک پر یا نالی میں پھینک دیتے ہیں۔

ناروے سے نکلنے والے آن لائن اخبار ’’ کاروان ‘‘ کے ایڈیٹر سید مجاہد علی نے جو کہ ایک بڑے معتبر صحافی ہیں، نہ صرف اس واقعہ پر ان دنوں بڑے فکر انگیز مضامین لکھے بلکہ ان سب کو کتابی شکل دے کر ’’ میڈیا برسرِ پیکار ‘‘ کے نام سے شائع بھی کرا دیا ۔ اکثر ہوتاہے کہ لوگ ایسے بحران پر کالم یا مضامین لکھتے ہیں اور کوئی دس بیس سال بعد کہیں جا کر اس کو کتابی شکل کی صورت چھاپتے ہیں۔ اس وقت تک لوگ اس بحران کو بھول چکے ہوتے ہیں۔

سید مجاہد علی صاحب نے نہ صرف اس صحافتی بحران پر لکھا بلکہ صحافت سے منسلک زندگی کے ہر شعبہ کا تجزیہ بھی بہت دیانتداری سے اس کتاب میں کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ ایسا  ناروے میں رہ کر یہاں کی روایات اور قوانین کو سمجھنے اور ان کو سیکھنے کے وجہ سے ہی کر پائے ہیں۔ جس کا اظہار انھوں نے اس کتاب میں کیا بھی ہے۔ کہ کیسے یہاں کا ادارہ اس قسم کے بحران کو حل کرنے میں مدد یتا ہے ۔

کتاب میں مجاہد علی جی نے جہاں صحافت کے لیے پاکستان کے صحافیوں کی بے مثال قربانیوں کا ذکر کیا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم کی جد و جہد کی تاریخ بتائی ، وہیں انہوں نے صحافیوں میں آئی خود غرضی ، مفاد پرستی اور دولت کے لالچ کی بھی نشاندہی کی ہے۔ جہاں انہوں نے اخباری مالکان کی صحافتی شعبہ کے لئے انتھک جدو جہد اور محنت کا ذکر کیا ہے، وہیں انہوں نے آج کے اخباروں اور چینلوں کے مالکان کی میڈیا کے ذریعے زیادہ  سے زیادہ سرمایہ بنانے اور پہلے سے موجود اور نئے سرمائے کو محفوظ بنانے کے پلان کو بھی بے نقاب کیا ہے ۔ ایسے مالکان بھی کی نشاندہی کے ہے جو خودصحافی نہ ہونے کے باوجود بھی اس شعبے سے نسل در نسل چلے آنے سے یا سال ہا سال سے اس شعبہ سے وابستہ ہونے کے وجہ سے اس کے تمام رموز کو سمجھتے ہیں اور ایسے مالکان بھی نشاندہی کی ہے جو دال تیل بیچتے بیچتے اٹھ کر اخبار کے پیشانی پر ایڈیٹر بن گئے۔ جن کا مقصد خبر نہیں، خبر کے پیچھے دوڑا آتا سرمایہ ہے ۔ جس کے لیے وہ اخبار میں ایسے صحافی اور چینل میں ایسے اینکر بھاری بھاری معاوضے دے کر بھرتی کرتے ہیں جو کسی زمانے میں انہی کی دال تیل والی دوکان کے قریب دوسری تیسری دوکان پر سیلز مین ہوتے تھے ۔ جہاں انہوں نے بعض صحافیوں کی بھاری بھاری جیبیں ، قیمتی گھڑیاں اور پجارو دکھائی ہیں، وہیں انتہائی پڑھے لکھے تجربہ کار غربت کی چکی میں پستے صحافی بھی دکھائے ہیں جن کو یہ مالکان عارضی ملازمت پر رکھ کر ان کا استحصال کرتے ہیں اور ہر وقت ان کے گردن پر بر طرفی کی تیز دھار تلوار رکھے رہتے ہیں۔

انہوں نے اپنی اس کتاب میں خصوصی طور پر ایک اور مسئلہ کے طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ کس طرح مالکان نے اس دفعہ اپنی مالکانہ مفاد کی لڑائی میں اپنے صحافی کارکنوں کو بھی شامل کر لیا ہے، جو پاکستان میں پہلے نہیں ہؤا تھا ۔ صحافت کے شعبہ میں انہوں نے مذہب کے استعمال کی بھی نشاندہی کی ہے ۔ جہاں انہوں نے صحافت، صحافی کارکن ، اور مالکان کے کردار پر روشنی ڈالی، وہیں انہوں نے حکومت اور حکومتی اداروں پربھی روشنی ڈالی ہے ، عدلیہ کے کردار پرتفصیل سے لکھا ہے اور ملک کی سیاسی صورتِ حال اور سیاسی جماعتوں اور سیاسی و مذہبی لیڈروں کے کردار پہ کھل کر بحث کی ہے۔

ایک سو چھتیس صفحوں کی اس کتاب میں جو لاہور کے ’’ جمہوری پبلیکیشنز ‘‘ نے چھاپی ہے، مجاہد جی نے چھبیس مضامین میں اس صحافتی مسئلے اور اس سے جڑے مسائل پربہت کھل کر اور ایمانداری سے لکھا ہے۔ ایسا شحص جس کو پاکستان کے سیاسی اور صحافتی نظام سے دلچسپی ہے، اس کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ۔ کتاب کی چھپائی اور جلد بہت خوبصورت ہے اس لحاظ سے کتاب کی قیمت تین سو پچاس روپے مناسب ہے۔ میرا اس کتاب پہ ایک اعتراض ہے، مگر وہ میں ان کو ذاتی طور پربتاؤں گا۔

اب ذرا کچھ باتیں سید مجاہد علی جی کے بارے میں۔ کوئی پندرہ بیس سال پہلے کے بات ہے سویڈن کے شہر سٹاک ہولم میں مشتاق احمد سائیں سچا کے گھر ان سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اس کے بعد اب فیس بک کے ذریعے ان سے دوبارہ رابطہ ہؤا ہے ۔ مجاہد علی جی کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے ۔ جہاں وہ جسارت اور مشرق میں کام کرتے رہے ہیں۔ مگر 1975 سے ناروے میں مقیم ہیں۔ انہوں نے ناروے میں بڑے یادگار مشاعرے کرائے ہیں ۔ ناروے میں بھی یہ صحافت سے منسلک ہیں۔ ریڈیو ناروے کی اردو سروس میں بھی کام کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ستر کے دہائی میں ناروے کے مختلف اخبارات میں مضامین لکھتے رہے ہیں ۔1981 سے 1997 تک یہ ماہنامہ ’’ کاروان ‘‘ نکالتے رہے ہیں ۔ انٹر نیٹ پر آن لائن کاروان اسی ماہنامہ کی موجودہ شکل ہے۔