تقریب یوم آذادی

  • جمعرات 24 / جولائی / 2014
  • 4413

افواج پاکستان سے میری محبت کی وجوہات کیا ہیں؟ اس ون ملین ڈالر سوال کا جب بھی جواب تلاش کرنا چاہا، دل اور دماغ جو بہت کم معاملات پر یکسو ہوتے ہیں، انہیں اس کے جواب پر ہمیشہ یکسو ہی پایا۔ 14 اگست ،23مارچ اور 6 ستمبر کی فوجی پریڈوں میں افواج کا نظم و ضبط،قوت اور وطن سے محبت کا اظہار،یکجہتی اور ملکی سلامتی کیلئے جان قربان کرنے کا عزم و ارادہ ۔

پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے یہ خوبصورت اور دلکش مناظر نے ہمیشہ روح کو چھوا،دل میں وطن سے محبت کی امنگ کو جلا بخشی ،لیکن پھر کیا ہوا۔نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کیا چھیڑی ۔ ہم سے تو امن و امان کی ابتر صورتحال دے کر یہ تقریب بھی چھین لی ۔ایوان صدر کی کشادہ سڑک پر ہونے والی یہ تقریب گزشتہ 13برس سے نہیں ہورہی تھی ۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ دہشتگردی کے بڑے حملے کے خوف کے باعث اس وقت کے آمر نے جذبوں کو توانائی بخشے والی تقریب کی جگہ کنونشن سینٹر میں چھوٹی سے محفل سجانے کا اعلان کیا تھا ۔ مگر ظفر اللہ جمالی،چوہدری شجاعت حسین،شوکت عزیز ، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے جمہوریت پسند وزیراعظموں نے بھی اس طرف کوئی توجہ نہ دی، ملک اور افواج پاکستان کے وقار کو بلند کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ اور یہ تقریب گزشتہ سال تک کنونشن سینٹر میں ہی ہوتی رہی ۔لگتا ہے یہ سب بھی دہشتگردوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔چلیں جو بھی تھا یہ جانیں اور ان کا رب جانے۔

آپ عمران خان سے سو اختلاف کریں،یہ آپ کا جمہوری اور آئینی حق ہے ۔مگر میں کپتان کی سیاست کا قائل ہوگیا ہوں۔جس تقریب کے نہ ہونے سے دل گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے تڑپتا تھا وہ اس کے 14اگست کو ڈی چوک پر جلسے کے اعلان کے بعد بحال ہوگئی۔ اگر اس کے جلسے میں 10لاکھ افراد نہ بھی آئیں تو بھی وہ کامیاب ہوگیا ۔ اس نے اہل وطن کو ان کی روایتی پریڈ قاپس دلوانے میں کلیدی کردار ادا کردیا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں،اگر یوم آزادی پر جلسے کا اعلان نہ ہوتا تو حکومت کنونشن سینٹر میں ہی تقریب کا اہتمام کرتی۔

نواز شریف کے ساتھی یوم آزادی کو متنازعہ بنانے کا کتنا ہی واویلا کرتے رہیں ، لیکن قوم کو وہ حاصل ہوگیاجو اس کا ہر اچھے اور برے وقت میں استحقاق تھا ، نواز شریف کی پارٹی نے سیاسی طور پر ہی سہی اعلان تو کیا ، وہ بھی ایسے وقت میں جب آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشتگرد تلملا اٹھے ہیں۔ انہیں بڑا جانی اور اسٹریٹجک نقصان ہوا ہے۔ ان حالات میں دہشتگردوں کی جانب سے بڑی کارروائی کے امکان کو کوئی ذی شعور نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ایسے میں اگر حکومت نے صرف عمران خان کو پسپاکرنے کیلئے ہی سہی یہ پتا پھینکا ہے مگر اس کا کریڈٹ تو کپتان کو ہی جائے گا ۔ خاص طور پر اس وقت جب یہ تقریب اور عمران کا جلسہ پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوگا ۔

حکومت اس وقت بڑی مشکلات میں پھنسی ہوئی ہے۔آپریشن ضرب عضب ، متاثرین وزیرستان ،کراچی کی بگڑتی صورتحال، بجلی پر وفاقی وزیر کی معافی،معاشی ترقی بذریعہ اعداد و شمار کی قلعی کا کھل جانا، سانحہ ماڈل ٹاؤن، قادری صاحب ، چوہدری برادارن کا انقلاب پر اسرار، عمران کا سونامی اور اس میں پی پی کا اعلان معاونت ۔۔۔ ان سب نے سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔اسے سمجھ نہیں آرہا ، اب کیا کیا جائے؟۔بہرحال جو کچھ بھی ہو، پاکستانیوں کو اپنے جذبہ حب الوطنی کو جلا بخشنے کا ایک موقع میسرآرہا ہے۔دوست اور دشمن پاکستانی افواج کی طاقت ،ہیبت اور جلال کا وہ منظر ضرور دیکھیں گے ،جس سے دشمن کے دل میں خوف اور دوست کے دل میں اعتماد اور امید کی کرن پیدا ہوتی ہے۔ حوصلہ بڑھتا اور کچھ کر گزرنے کی قوت ابھرتی ہے۔

اس ساری صورتحال میں عمران خان، نواز شریف ، قادری صاحب اور ان کے پشتی بانوں سے یہی کہوں گا ، سیاست دھواں دھار کریں یا پرامن کریں ، ملک کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے ہرصورت پرہیز کریں۔ ماضی کی طرح حکومتیں گرنے کے بعد بھی اگر فرشتوں نے قیادت و امامت سنبھال لی تو پھر یقیناًہم قرون اولیٰ کے دور میں لوٹ جائینگے۔ کیونکہ تاریخ نے ثابت کردیا کہ آمریت نے پاکستان کو خسارے کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ ایسا نہ ہو ان کی نادانیوں کے باعث جمہوریت کے استحکام کیلئے سیاسی جماعتوں اور عوام کی دی گئی قربانیاں ضائع ہوجائیں۔

یہ منظر نامہ خطے کی موجود ہ صورتحال میں بہرحال پاکستانیوں کے حق میں نہیں جائے گا۔آپ سابق صدر آصف علی زرداری صاحب کو جو مرضی کہہ لیں، مگر یہ ان ک حوصلہ ا تھا کہ انہوں نے اپنے دور کے بڑے معاملات کو ہنستے ، مسکراتے ، سب کچھ بانٹتے اور دل کی بیماری کے علاج کے دوروں کے ذریعے خوبصورتی سے ٹیکل کرلیا۔میاں صاحب آپ زرداری صاحب کی فرینڈلی اپوزیشن بنے،پی پی آج آپ کے خلاف ٹھنڈی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران بھی خاموش ہوجائے، شیخ رشید چپ کا روزہ رکھ لے،قادری صاحب آئین کے آرٹیکلز کا حوالہ دینا بند کریں۔تھوڑا برداشت کریں، اپنی حکومت کیلئے بھی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے بھی۔

اس ساری بات کے بعد میں نے تو طے کرلیا ، 14اگست پر ڈی چوک سے براہ راست نشر ہونے والی فوجی پریڈ دیکھوں گا ۔ اور اس دوران رب رحیم سے دل مسلم کو زندہ تمنا دینے کی دعا کروں گا تاکہ روح تڑ پ جائے ،جسم گرما جائے۔کیا آپ بھی خود میں یہ جذبہ پاتے ہیں؟۔ذرا سوچئے!