جرم ضعیفی کی سزا
- ہفتہ 26 / جولائی / 2014
- 4554
اہل فلسطین کا مقدمہ پوری طرح ثابت ہے کہ انہیں جبری طور پر اپنی سرزمین سے بیدخل کیا گیا اور دنیا بھر سے یہودیوں کو اس خطے میں آباد کیا گیا۔ اسرائیل کے وجود کو جائز ماننے والے بھی اس امر کے منکر نہیں ہو سکتے۔
قانونی اور اخلاقی اعتبار سے فلسطینی اس خطہ ارض کے مالک و مختار ہیں۔ یہ مقدمہ واضح ہونے کے باوجود مسلم امہ یہ مسئلہ حل کرنے سے قاصر بلکہ مفلوج نظر آ رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ مسلم دنیا میں قیادت کا فقدان اور مسلکی بنیادوں پر ہماری تقسیم ہے۔ بے پناہ وسائل اور افرادی قوت رکھنے کے باوجود مسلمانوں ہر جگہ مار کھا رہے ہیں کیونکہ :
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
اہل باطل آج متحد اور طاقتور ہیں جبکہ عالم اسلام اگر خودکفیل ہے تو وہ صرف ایک چیز میں ہے، دہشت گردی اور عسکریت پسندی۔ شدت پسند تنظیمیں کہیں خلافت، کہیں اسلامی نظام کے نفاذ اور کہیں مملکت خراسان کے قیام کے لئے اپنی دانست میں عظیم جہاد کر رہی ہیں۔ القاعدہ نے پورے عالم اسلام کو سامراجی طاقتوں کا مرغوب شکار بنا دیا ۔ تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ہی 60 ہزار مسلمان بھائیوں کا خون بہایا۔ عراق میں داعش کے مظالم عروج پر ہیں۔ اتنی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی میں مسلمانوں کو کسی دشمن کی ضرورت تو نہیں لیکن اگر ایسی صورتحال سے ہمارا دشمن فائدہ نہ اٹھائے تو وہ بے وقوف ہی ہوگا اور ہمارا دشمن ہرگز بیوقوف نہیں ہے اور مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے بھرپور استفادہ بھی کر رہا ہے۔
اہل فلسطین پر اسرائیلی بربریت، دہشت گردی اور مظالم ایک نئی خونچکاں تاریخ لکھ رہے ہیں۔ خون کی ندیاں بہانے کے باوجود صیہونیوں کی ابھی تک تشفی نہیں ہو رہی۔ اہل دل اور باضمیر لوگ دنیا کے جس کونے میں بھی بستے ہیں اسرائیلی مظالم پر سراپا احتجاج ہیں۔ معصوم بچوں ، لاچار خواتین ، ضعیف العمر افراد اور نوجوانوں کی خون میں ڈوبی ہوئی لاشیں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں مگر غزہ میں ہر طرف بکھری ہوئی لاشیں قیامت صغریٰ کے جو مناظر پیش کر رہی ہیں انہیں نہ تو انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں دیکھ رہی ہیں، نہ ہی بڑی طاقتوں کے بین الاقوامی قوانین ان پر لاگو ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ منظم سازش کے تحت نہتے فلسطینیوں کو پوری دنیا نے شکار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل کی پشت پر تمام طاغوتی طاقتیں جمع ہیں اور انسانیت سوز مظالم کا نظارہ کر رہی ہیں۔
مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے ’’آپریشن پروٹیکٹوایج‘‘ کا آغاز 8 جولائی 2014ء کو ہؤا۔ آپریشن کا آغاز گولہ باری اور ہوائی حملوں سے ہؤا۔ صرف پہلے دن اسرائیل نے 220 مقامات کو نشانہ بنایا اور ایک دن میں 24 فلسطینیوں کو لقمہ اجل بنا دیا۔ اس دن سے اب تک تواتر کے ساتھ حملے جاری ہیں۔ روزانہ ہولناک بمباری کی جا رہی ہے۔ بیسیوں عمارات زمیں بوس ہو چکی ہیں جن سے اب عارضی جنگ بندی کے بعد بے گناہ لوگوں کی لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں جن کے علاج معالجے کے لئے آنے والوں پر اسپتالوں پر بھی گولہ باری کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی عمارتوں میں پناہ گزین مظلوموں پر بھی بم گرائے جا رہے ہیں ۔ شہدا کی تعداد 1000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تمام حملوں کا شکار عام اور نہتے شہری رہے جن کی مدد کسی طرف سے بھی نہیں ہو رہی۔ علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔ ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لئے وسائل نہیں۔ غرض مظلوم فلسطینی اس قدر بے بس اور لاچار ہیں کہ اس کی نظیر تاریخ انسانی میں ملنا محال ہے۔
گزشتہ دنوں ترکی کے ایک عالم دین نے کہا کہ دنیا بھر میں روزانہ ایک ہزار مسلمان قتل ہوتے ہیں اور ان کو قتل کرنے والے بھی مسلمان ہی ہیں۔ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ قاتل و مقتول دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر مہمت گوہز نے بتایا کہ شام، مصر، عراق، پاکستان، افریقہ سمیت کئی جگہ قاتل بھی مسلمان ہیں اور مقتول بھی مسلمان۔ انہوں نے تحریک طالبان طالبان ، بوکو حرام، آئی ایس آئی ایس طرز کی نام نہاد مذہبی تنظیموں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی گمراہ تنظیمیں اور نظریات اسلامی تہذیب کی روشن روایات کو داغدار کر رہی ہیں۔
مسلم امہ کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مسائل کو از سر نو سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنے کی جانب عازم سفر ہونا ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمان مسلکی ، قوم پرستی اور دیگر اختلافات سے بالا ہو کر متحد ہو جائیں۔ آج بالخصوص سعودی عرب کو اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پالیسیاں تبدیل کرنے کی خاص طور پر ضرورت ہے۔ پس پردہ رہ کر اسرائیل کی حمایت اسے بہت مہنگی پڑے گی کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ یہودی و نصاریٰ آپ کے دوست نہیں ہو سکتے۔ وقتی مفادات اور فوائد حاصل کرنے کے لئے مظلوموں کا خون بہانے کی اجازت دینا کسی طرح جائز نہیں ہے۔