عید الفطر اور محصورینِ غزہ
- سوموار 28 / جولائی / 2014
- 4327
اِدھر وائس آف امریکہ کی خبر آئی کہ: “ اسرائیل اور حماس کے درمیان 12 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا آغاز ہوتے ہی ہفتہ کو غزہ میں لوگوں نے اپنے نقصانات کا اندازہ لگانے، اشیائے خورونوش جمع کرنے اور ہلاک ہونے والے عزیز رشتے داروں کی لاشیں اکٹھی کرنے کے لیے سڑکوں اور منہدم عمارتوں کا رخ کیا“ تودوسری طرف مرکز اطلاعات فلسطین کی ویب سائٹ کے مطابق: “ امریکہ کی اپیل پرآج ہفتے کو غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان 12 گھنٹے کی محدود جنگ بندی کے چند گھنٹے ہی گزرپائے تھے کہ صہیونی فوج کی جانب سے اس کی خلاف ورزی کردی گئی “۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں خان یونس کے مقام پر توپ خانے سے گولہ باری کی جس میں زخمیوں کو اسپتال لے جانے والی ایمبولینس تباہ ہوگئی۔خیال رہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی اپیل پر فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور اسرائیل نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر بارہ گھنٹے کے لیے محدود جنگ بندی پراتفاق کیا گیا تھا۔ عارضی جنگ بندی کا آغاز ہفتہ کو فلسطین کے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا۔ گیارہ بجے اسرائیلی فوج نے خان یونس میں وحشیانہ گولہ باری شروع کردی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ ہفتہ کو علی الصباح انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ریڈ کراس کی جانب سے شہداء کی تدفین کے لیے ان کے جسد ہائے خاکی گھروں سے قبرستانوں میں منتقل کیے جا رہے تھے کہ صہیونی فوج نے عالمی ادارے کی ایمبولینسوں پر گولہ باری شروع کردی۔ بمباری میں ایک ایمبولینس مکمل طورپر تباہ ہوگئی۔ بمباری کے بعد غزہ کی پٹی میں شہداء کی تدفین کا سلسلہ پھر سے معطل ہوگیا ہے۔البتہ فلسطینی میڈیکل عملہ ہفتے کو علی الصباح گذشتہ تین روز کے دوران بمباری میں شہید ہونے والے متعدد بچوں کو سپرد خاک کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم فلسطینی امدادی کارکن اپنی جانوں پر کھیل کر شہداء کی تدفین اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔یہ بات بھی ہمارے علم میں رہنی چاہیے کہ فلسطینی علاقے غزہ میں 19 روز سے جاری اسرائیلی کارروائی کی وجہ سے اب تک 1000 سے زیادہ فلسطینی اور 39 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔
موجودہ حالات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ عالم اسلام اور مسلمان آج ایک عجیب بے اطمینانی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔چہار جانب ظلم و زیادتیوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔مسلمان ہی مسلمان کے خون کا پیاسا ہوچکا ہے۔جان و مال اور عزت و آبرو داؤ پر لگ چکی ہے۔بااقتدار کمزوروں پر ظلم و زیادتیوں میں حدیں پار کرچکے ہیں۔ایک ہنگامہ عظیم ہے جو چہار جانب برپا ہے۔دنیا مسلمانوں پر ٹھیک اُسی طرح ٹوٹ پڑی ہے جیسے بھوکے دستر خوان پر۔ سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال کیونکر پیدا ہوئی؟ کیا اس صورتحال کا ذریعہ دیگر اقوام اور برسراقتدار گروہ ہیں یا اس صورتحال کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں؟
اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : عنقریب (گمراہ) قومیں تمہارے اوپر چڑھ دوڑنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جس طرح کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان کی طرف بلاتے ہیں۔کسی نے سوال کیا: کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ تم کثرت سے ہو گے لیکن تمہاری حیثیت پانی کے اوپر بہنے والے جھاگ کی مانند ہوگی۔ اللہ تعالی تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہارا رعب ختم کر دیں گے اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا فرما دیں گے۔سوال کیا:یا رسول اللہ وہن کا کیا مطلب ہے ؟فرمایا: دنیا سے محبت اور موت سے نفرت(ابو داؤد )۔
موجودہ حالات اور ان حالات میں غزہ جو خون میں لت پت ہے، جہاں معصوم بچے،ضعیف المعر افراد،باعفت بیٹیاں اور محترم مائیں نہ صرف شہید بلکہ ہر طرح کی آزمائش سے دوچار ہیں۔دنیا شاہد ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں کے لوگ “ وہن “ کی بیماری سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ برخلاف اس کے وہ بااقتدار مسلم ممالک جنہیں اللہ نے ہر طرح کی نعمتیں عطا کی ہیں،اپنے افکار،اعمال اور کردار سے واضح کر رہے ہیں کہ “وہن “ کی بیماری میں وہ حد درجہ مبتلا ہو چکے ہیں۔ بیماری کے نتیجہ میں ان کے اعصاب ناکارہ ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ ظلم کے خلاف ان کے سوچنے سمجھے اور بولنے تک کی صلاحیت ناپید ہو چکی ہے۔
درحقیقت یہ وہ زندہ لاشے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے تابوتوں میں خوب اچھی طرح ٹھونک کر بند کیے جا چکے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بلا مذہب و ملت مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے چہار طرفہ احتجاج ،ان کے حق اور آزادی کی اٹھنے والی آوازوں ،اور ظالم و جابر اسرائیل کی سفاکانہ بربریت کے خلاف متحد ہونے والے جمع غفیر اور ان کی بلند تکبیروں کو یہ بااقتدار مسلم حکمراں نہ محسوس کر سکتے ہیں،نہ سن سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھ سکتے ہیں۔اس موقع پر ظلم دیکھ خاموشی اختیار کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ درحقیقت اللہ اپنی رسی ڈھیلی چھوڑے ہوئے ہے لیکن کو ئی بھی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اللہ دنیا میں جاری فساد فی الارض سے غافل ہے۔ یہ بڑی تنبیہ ہے عقل والوں کے لیے۔
اس پس منظر میں یہ سوال بھی لازماً اٹھنا چاہیے کہ تفرقہ میں مبتلا افراد و گروہ اور ان کے درمیان جاری کشمکش توممکن ہے لیکن وہ افراد جو نہ بظاہر تفرقہ کا شکار ہیں، نہ غلطیوں اور کوتاہیوں میں ہی اس قدر مبتلا ہیں کہ ان پر اللہ گرفت فرمائے، پھر آخر کیوں یہ بے بس مسلمان ہی چہار جانب پسپا ہیں؟ اس کے جواب میں ایک جانب تو اللہ تعالیٰ صاف صاف فرماتا ہے کہ : “ تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے ، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے “۔ لیکن وہیں دوسری جانب اس آیت کی توضیح میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ جہاں تک مومن مخلص کا تعلق ہے اس کے لیے اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے۔اس پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں اور خطاؤں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔
لہذا آج خصوصاً مظلوم فلسطینی اور عام مسلمان جن آزمائشوں سے بھی دوچار ہیں،ان کا بہترین اجر ان کے رب کے یہاں تیار رکھا ہے۔ پھر جو شہدا ء رب کریم سے جا ملے وہ تو عزت و شرف سے دوچار ہو چکے ہیں اور جو ظلم کے خلاف ڈٹے ہیں، وہ عنقریب کامیاب ہونے والے ہیں(انشااللہ)۔
رمضان المبارک کے آخری لمحات میں دل کی گہرائیوں سے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوم و محصورین غزہ کی مدد فرمائے اور ان کو کامیابی و نصرت سے ہمکنار کرے(آمین)۔ نیز عید سعید کے اس موقع پر ہمیں اپنے اُن اسلامی بھائیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جوغزہ کے علاوہ دیگر مقامات پر تنگ دستی اور تشدد کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کا حامی و مدد گار ہواور ان کو دنیا ہی میں وہ کامیابی عطا کر دے جس کے بعد ان کا ہر غم ہلکا ہوجائے۔ عدل و انصاف قائم ہو اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔ ساتھ ہی ملت اسلامیہ کے وہ تمام لوگ جو کہیں بھی اور کسی بھی ملک میں اللہ کے دین کے قیام کی جدو جہد میں مصروفِ عمل ہیں اور باطل قوتیں ان کی سرکوبی میں لگی ہوئی ہیں، ایسے تمام لوگوں کے لیے بھی ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی سعی و جہد کو قبول فرمائے ۔
اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔