انسانیت کی قینچی

  • بدھ 30 / جولائی / 2014
  • 5090

پچھلے دنوں میری بھتیجی عذین نے کہا، ’’ انکل! ایک سوال بہت دنوں سے کھٹکتا ہے کہ جس قوم کے پاس زکوٰۃ جیسا سسٹم موجود ہے میں نہیں سمجھ پاتی کہ وہ قوم غریب کیوں ہے؟ کیونکہ میرا مطالعہ تو یہ ہے کہ زکوٰۃ جس قوم کے پاس ہو وہ غریب نہیں رہنی چاہئے۔ تمہارے پاس اس کا تشفی بخش کیا جواب ہے.....؟‘‘

میں نے عذین کوبتایا کہ جس طرح ادھار محبت کی قینچی ہے اسی طرح دولت انسانیت کی قینچی ہے۔ علم دین کا تعلق جب تک روٹی روزی سے نہ جڑے گا انسان علم دین سے غافل ہی رہے گا کہ بیشتر لوگ اپنے مفادات کیلئے مذہب کو تو مانتے ہیں لیکن مذہب کی بات کو نہیں مانتے۔ موجودہ زمانے میں علم دین کے شعبے میں مادی فوائد بہت کم ہو گئے ہیں اس کے بجائے دنیوی اور مادی شعبوں میں مالی فوائد بے پناہ حد تک بڑھ گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ اعلیٰ ذہن اور اعلیٰ صلاحیت کے لوگ غیر دینی شعبوں کی طرف بھاگ گئے اور دینی شعبوں میں کام کرنے کیلئے صرف تیسرے درجے یا رائج الوقت اصطلاح میں دو نمبر کے لوگ باقی رہے۔

میں نے اس طویل تمہید کے بعد عذین کو بتایا کہ نظام زکوٰۃ اسلام کا وہ مستحکم نظام ہے جس کے صحیح طور پر رائج ہونے سے پورے مسلم معاشرے کی معاشی حالت درست ہو سکتی ہے اور مسلمان مالی پسماندگی سے اوپر اٹھ سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلم معاشرے میں زکوٰۃ کا نظام مکمل طور پر رائج نہیں ہے۔ بہت سے صاحب ثروت اور صاحب نصاب زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور جو لوگ زکوٰۃ ادا کرتے بھی ہیں ان کا مصرف مناسب نہیں ہوتا۔ اس لئے جو زکوٰۃ کی رقومات نکلتی بھی ہیں، ان کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ ملک عزیز میں اجتماعی زکوٰۃ کے نظام پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

میرے حساب سے بہت سے صاحب نصاب تو زکوٰۃ کے مسائل سے بھی ناواقف ہیں۔ میں نے مزید تفصیلات میں جاتے ہوئے اسے بتایا کہ زکوٰۃ ہر مسلم پر فرض ہے۔ جس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو، زکوٰۃ کا نصاب 87گرام (480ملی گرام) سونا یا اس کی قیمت کے بقدر چاندی، رقم یا سامان تجارت ہے۔ ایسا نصاب جب سال بھر کسی ملکیت میں رہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔ صاحب نصاب اگر کسی سال کی زکوٰۃ پیشگی دے دے تو یہ بھی جائز ہے البتہ اگر بعد میں سال پورا ہونے سے پہلے مال بڑھ گیا تو اس اضافی مال کی زکوٰۃ بھی دینا ہوگی۔ جس قدر مال ہے اس کا 40واں حصہ دینا فرض ہے۔ یعنی ڈھائی فیصد۔ سونے یا چاندی یا جس مال تجارت پر زکوٰۃ فرض ہے اس کا 40واں حصہ دینا بھی صحیح ہے مگر قیمت خرید نہ لگے گی بلکہ زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد بازار میں جو قیمت ہو گی اس کا 40واں حصہ دینا ہو گا۔

کسی فقیر کو اتنا مال دے دینا کہ جتنے مال پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مکروہ ہے، مقروض کو اس کے قرضہ کے بقدر یعنی جس سے اس کا قرض ادا ہو سکتا ہے دینا جائز ہے خواہ قرض کتنا ہی ہو۔ زکوٰۃ ادا کرنے کیلئے (یا ہونے کیلئے) پہلی شرط یہ ہے کہ جو رقم کسی مستحق زکوٰۃ کو دی جائے وہ اس کی کسی خدمت یا عمل کے معاوضہ میں نہ ہو صرف اللہ کیلئے ہو۔ ایسا کر کے آدمی اپنے دل سے مال کی محبت کو نکالتا ہے وہ اس یقین کو تازہ کرتا ہے کہ اس کے پاس جو مال ہے وہ خدا اور اس کے بندوں کی امانت ہے، نہ کہ اس کی ذاتی ملکیت۔ اس طرح وہ اپنے اندر اس احساس کو جگاتا ہے کہ اس کے اوپر دوسروں کا حق ہے۔

زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مستحق زکوٰۃ کو مالکانہ حق طورپر دی جائے۔ جس پر اس کو ہر طرح کا اختیار ہو، اس کے مالکانہ قبضے کے بغیر زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔ جب ایک آدمی زکوٰۃ کے تحت کسی کو کچھ دیتاہے تو بظاہر وہ کسی غیر کو دے رہا ہوتا ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کا رخ خود دینے والے کی طرف ہوتا ہے۔ دوسروں کو دے کر آدمی خود اپنی مدد کا اہتمام کرتا ہے۔ زیور، برتن، فرنیچر حتیٰ کہ سچا گوٹہ و اصل زری کا کام (چاہے کپڑوں پر لگے ہوں) سونے چاندی کے بٹن اور انگوٹھی وغیرہ پر بھی فرض ہے۔ کسی کے پاس کچھ روپیہ، کچھ سونا، کچھ چاندی اور کچھ مال تجارت ہے مگر علیحدہ علیحدہ، ان میں سے کوئی بھی بقدر نصاب نہیں ہے تو سب کو ملا کر دیکھیں گے اگر مجموعی قیمت 612گرام چاندی کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ فرض ہو جائے گی اور اگر اس سے کم رہے گی تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ یاد رہے کہ نصاب میں چاندی کا اعتبار کیا گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت اسلامیہ میں زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کا تصور نہیں ہے۔ اس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زکوٰۃ کی رقومات سے جن بڑے اور قابل قدر منصبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے وہ تکمیل کے مراحل تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ جب تک زکوٰۃ کا اجتماعی نظام اپنی جڑیں نہیں پھیلائے گا ہمیں کامیابی کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ ہر صاحب نصاب کو سب سے پہلے یہ سوچنے اور اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ زکوٰۃ کا اسلامی نظام کتنا جامع اور شہہ گر ہے اور ا س سے ملت مسلمہ کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے۔

کشور حسین شادباد میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مسلمانوں کی تعداد 19کروڑ سے زائد ہے۔ اگر ان19کروڑ میں سے صرف ایک کروڑ مسلمان بھی زکوٰۃ ادا کرتے ہوں اور ان کی زکوٰۃ اوسطاً دو ہزار روپے بھی ہوتی ہو تو یہ سمجھ لیجئے کہ ہر سال ہمارے پاس دو ہزار کروڑ جیسی خطیر رقم جمع ہو سکتی ہے (جبکہ یہ محض ایک مثال ہے میرے حساب سے اس سے کئی گنا زیادہ رقم بطور زکوٰۃ نکالی جاتی ہے) ذرا سوچئے کہ یہ کتنی بڑی رقم ہے اور اگر یہ رقم ہمارے سامنے ہو تو ہم اسے صحیح گننا تو درکنار آنکھ بھر کر دیکھ بھی نہ پائیں گے۔

اب یہ سوچئے کہ اگر اتنی خطیر رقم (جبکہ 18کروڑ مسلمانوں کو ابھی چھؤا بھی نہیں گیا) جو کہ صرف ایک کروڑ مسلمانوں کی ادائیگی زکوٰۃ کی مد میں اکٹھی ہوئی اس سے مسلمانوں کی معاشی حالت کوبہتر بنانے کے کتنے اور کیسے حیرت انگیز کام کئے جا سکتے ہیں؟ آج مسلمان غریب اس لئے ہے کہ اس کے پاس روزگار نہیں ہے، علم نہیں ہے۔ روزگار اور علم حاصل کرنے کیلئے اسے در درکی ٹھوکریں بھی کھانی پڑتی ہیں اور ذلت و خواری کے مسائل سے بھی گزرنا پڑتاہے۔ میں جانتا ہوں مسائل کا رونا رونا ایک بات ہے اور مسائل کو پہچاننا اور انہیں بروئے کار لانا دوسری بات ہے۔ ملک شادباد کے باسی 67 سال سے مسائل کا رونا ہی روتے آئے ہیں اور وسائل کی تنظیم کی طرف کبھی راغب نہیں ہوئے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے.....!

کررہا ہوں میں ایک پھول پر تمام

روز ایک پنکھڑی بناتا ہوں!