الطاف حسین سے توقع
- سوموار 04 / اگست / 2014
- 4097
آپ پاکستانی ہیں، تو آپ باآسانی پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ، تحریک انصاف ، متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی اور حکمران مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتوں سے جمہوریت سے متعلق سوال کرسکتے ہیں۔ یہ تمام جماعتیں تمام نظریاتی وسیاسی اختلافات کے باوجود جمہوری نظام پر متفق ہیں۔ کوئی بھی جماعت 67برس کی ملکی تاریخ کے بعد اب آمریت کی گود میں بیٹھنے کو تیار نہیں۔
جوں جوں 14اگست کا دن قریب آرہا ہے سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔ تحریک انصاف نے اراکین اسمبلی سے استعفے مانگ کر اور عوامی تحریک نے ق لیگ ، شیخ رشید و دیگر کو ساتھ ملا کر سیاسی داؤ کھیلنا شروع کردئیے ہیں۔ ملک میں ایک طرف آپریشن چل رہا ہے جس میں 20لاکھ سے زائد عوام کی دیکھ بھال کی اضافی ذمہ داری حکومت پر آن پڑی ہے۔ اوپر سے سیاسی گرما گرمی ۔
ایسے میں پہلے متحدہ قومی موومنٹ کا وفد طاہر القادری سے مل کر قائد تحریک الطاف حسین کا پیغام پہنچاتا اور تعاون کا یقین دلاتا ہے۔اس کے اگلے ہی دن الطاف حسین صاحب اپنے ہنگامی بیان میں منتخب وزیر اعظم نواز شریف سے کہتے ہیں کہ وہ “ ہر چھوٹی بڑی محاذ آرائی جس سے جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہو، اس سے ہر ممکن اجتناب کریں۔ نواز شریف آگے بڑھ کر کسی اور کو وزیر اعظم بنادیں “۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی بھی جمہوری حکومت نے لوکل باڈیز الیکشن نہیں کرائے جبکہ چند فریق جمہوریت کے نام نہاد چمپئن بن کر دوسروں پر طعنہ زن ہیں “۔
الطاف حسین کو اپنی جماعت کے اندر سیاسی قائد ہی نہیں بلکہ مدبر ، رہبر اور ٹیچر کا درجہ بھی حاصل ہے۔ ان کے بیان کے دوسرے حصے کو ہر جمہوریت پسند درست قرار دے گا ۔ مگر سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا مشورہ دے کر کون سی جمہوریت کی خدمت کی جارہی ہے۔ مان لیتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، کئی جماعتوں کے اہم رہنما شکست کھا گئے ہیں، جس پر واویلا ہورہا ہے۔ 1970 ء کے سوا کونسا الیکشن ہے جس میں دھاندلی کا سب ہی جماعتیں اقرار نہیں کرتیں۔ جو ایک الیکشن شفاف ہؤا ، اس کے بعد ملک بھی دو لخت ہوگیا۔
خود پیپلز پارٹی ، اے این پی ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی بھی متحدہ قومی موومنٹ پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ انتخابی نظام میں خامیاں تو ہیں، انہیں دور کرنے کیلئے بہرحال قانون سازی و اصلاح کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑیگا۔ صورتحال جو بھی ہو، اس سب کے باوجود تمام ہی جماعتیں کہتی ہیں کہ ملک کی خیر خواہی جمہوریت ہی سے وابستہ ہے۔ نظام کو چلتے رہنے دینے سے ہی سے بہتری کی امیدیں ہیں۔ ورنہ “ فرشتوں کا عذاب ، سیاسی گنہگاروں پر ہی نہیں عوام پر بھی نازل ہو گا “۔
الطاف حسین جیسے سیاسی مدبر سے مجھے بہرحال ایسے “ ہنگامی بیان “ کی ہر گز توقع نہیں تھی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ طاہر القادری کی طرف بھیجے گئے وفد اور میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دے سکتے تھے کہ “ جمہوری نظام کو چلنے دیا جائے، منتخب وزیر اعظم کو پانچ برس پورے کرنا چاہئیں، منتخب نمائندوں کو گھر بھیج کر جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان اور طاہر القادری میری ( الطاف حسین کی) طرح جمہوری و تحریکی جدوجہد کے ذریعے انقلاب یا سونامی جو کچھ بھی لانا چاہتے ہیں لے آئیں۔ اس سے اچھی بات اور راستہ کوئی نہیں “۔ ان کے ایسے بیانات کا ہر جمہوریت پسند خیر مقدم کرتا۔
الطاف حسین جیسے اصول پرست رہنما سے ہم اب بھی یہ توقع تو رکھ سکتے ہیں کہ وہ گزشتہ 12برس سے ملک میں قائم جمہوری نظام کو مزید مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے۔ کیونکہ عمران خان اور طاہر القادری کے مطالبات کتنے ہی مبنی برحق ہوں ، مگر ان کا حل نظام کو گرا کر تو ہر گز نہیں نکلتا۔ نظام کی مضبوطی سے سب ہی یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ دیر آید درست آید کی مصداق تمام ہی مسائل اور معاملات خوش اسلوبی سے حل ضرور ہوجائیں گے ۔
پانی رواں رہے تو پیاس بجھاتا ہے ورنہ مچھر، مکھیاں، دلدل ، کائی اور بدبو ماحول کا مقدر بن جاتی ہے۔ بات تو یہی ہے کاش ہم سب کی سمجھ میں آجائے۔