منافقت کی سیاست

  • منگل 05 / اگست / 2014
  • 4181

پاکستان اس وقت ایک دوراہے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف اندرونی محاذ پر مسلح افواج دہشت گردی کی لعنت سے نبرد آزما ہیں تو دوسری طرف بیرونی محاذ پر بھی وطن عزیز کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ وزیر ستان آپریشن جاری ہے۔ شورش زدہ علاقوں میں مسلح افواج اپنی پوری طاقت کے ساتھ ملک دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی کراچی میں بھی حالات دگرگوں ہیں۔

آئے دن اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ کالعدم تنظیمیں اس صنعتی لحاظ سے اہم شہر میں اپنے قدم مضبوط کر رہی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ یا اگر مسلح ونگ نہیں تو کم از کم مسلح جتھے بھی اس شہر میں سکون غارت کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس شہر میں بھی رینجرز ، اور امن و امان قائم کرنے والے دیگر ادارے ایک غیر اعلانیہ آپریشن میں مصروف ہیں۔ سیاسی جماعتیں تو سوائے اس شہر کو اپنی ملکیت سمجھنے کے اور کوئی قابل تعریف کارنامہ سر انجام نہیں دیتیں۔ پنجاب میں کالعدم تنظیمیں کافی مضبوط ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کو اس وقت جس سب سے بڑے مسلہ کا سامنا ہے وہ بے روزگاری کا ہے۔ خیبر پختونخواہ تو ہے ہی آگ کے دہانے پر۔ یہ ہمیشہ سے دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف رہا ہے۔

اس وقت وہاں ایک ایسی جماعت کی حکومت قائم ہے جو وفاق میں اپوزیشن بینچوں پر ہے لہذا خیبر پختونخواہ کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ بلوچستان کی صورت حال تو ایک اوپن سیکرٹ ہے۔ عملاً حکومت کی عمل داری کوئٹہ سے باہر بہت کم نظر آتی ہے۔ ریکوڈک سکینڈل بلوچستان حکومت کے گلے پڑتا نظر آ رہا ہے ۔ اب تو اس سکینڈل کی بازگشت وفاق میں بھی سنی جا رہی ہے۔ یعنی اس کے اثرات بلوچستان کے علاوہ پورے پاکستان پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ گلگت بلتستان کی طرف نگاہ دوڑائیں تو فرقہ واریت کا جن منہ کھولے اس خوبصورت خطے کو نگلنے کو تیار بیٹھا ہے۔ لیکن ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

یہ وطن عزیز کے مسائل پر ایک طائرانہ نظر ہے ورنہ حالات شاید اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ وطن عزیز کے " ہر دلعزیز" سیاستدانوں کی طرف نگاہ دوڑائیں تو نیا ہی منظر ہے۔ شہباز شریف صاحب چین سے لوٹتے ہیں تو ترکی کے لیے جہاز تیار کھڑا ہوتاہے۔ ان کے لیے پنجاب کے بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار دینے سے زیادہ اہم کام شاید میٹروبس دینا تھا۔ شہروں کے سینوں پر لوہے کے پہاڑ کھڑے کرنا شاید بے روزگاری ختم کرنے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سے زیادہ اہم کام تھے۔راولپنڈی جیسے گنجان آباد شہر میں میٹروبس کا منصوبہ شروع کرتے وقت انہیں متبادل انتظامات کرنے کا خیال ہی نہیں رہا۔ اپنے جوش خطابت میں وہ یہ بھول گئے کہ جس مرکزی شاہراہ پر یہ منصوبہ زیر تعمیر ہے اس سے کم و بیش دس مرکزی ہسپتال منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی ہسپتالوں کا قریب ترین راستہ بھی یہی شاہراہ(مری روڈ) تھی۔ جو کہ اب نہیں ہے۔ اور ممکن ہے کے مزید 7 سے 8 ماہ کے لیے یہ شاہراہ سفر کے قابل نہیں ہو سکے گی ۔
حیران کن طور پر یہ شاہراہ مکمل بند نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک ہیجان کی سی کیفیت ہے۔ کوئی متبادل راستہ فراہم کرنے کے لیے راہنمائی موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے پہلے سے موجود سکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کے بجائے اربوں روپے صرف لیپ ٹاپ پر صرف کیے جا رہے ہیں۔ شاید ہم تعلیم کی بنیاد کو اہم سمجھتے ہی نہیں۔

سندھ کا جائزہ لیجیے ۔ تھر کے عوام کی سسکیوں پر وزیر اعلیٰ کا ردعمل یہ تھا کہ ہلاکتیں تو ہر سال ہوتی ہیں ۔ اس سال بس میڈیا کے ہاتھ یہ موضوع لگ گیا ہے۔ شاہ جی نے IDPs کے حوالے سے تو انتہا ہی کر دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی صورت ان کو سندھ داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جیسے سندھ ان کی ذاتی جاگیر ہے یا کوئی گدی ہے جس کے وہ سجادہ نشین ہیں۔ بلوچستان میں ڈاکٹر صاحب کو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ کرنا کیا ہے۔ ریکوڈک ہو یاتفتان شاہراہ کی سیکورٹی ان کو کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اپنی دانست میں ان کے لیے شاید کوئٹہ ہی کل کائنات ہے۔ خیبر پختونخواہ میں تو جب سے حکومت بنی ہے وزارتوں کی ہی اکھاڑ پچھاڑ جاری ہے۔

اس ملک کے سیاستدانوں کے لیے یہ اہم نہیں کہ بجلی کی قیمتیں عوام کے لیے ایک عذاب ہیں۔ ان کے لیے تو یہ اہم ہے کہ طاہر القادری اور خان صاحب کا لانگ مارچ کیسے روکا جائے۔ کیوں کہ یہ جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔ میاں صاحب اس وقت اپنی ساری توانائیاں عمران خان کو 14 اگست کے مارچ سے روکنے پر صرف کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے طارق جمیل صاحب جیسے عالم کو بھی سیاست میں ملوث کر لیاہے شہبازِ پنجاب کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ رمضان کے سستے بازاروں میں تیسرے درجے کی چیزیں عوام تک پہنچیں۔ عید پر بھی یہی صورت حال قائم رہی بلکہ انہیں تو زیادہ اہم نثار و نواز کی صلح کرواناتھا جس میں وہ سرخرو رہے۔ لہذا وہ اسی میں مصروف ہیں۔

ارسلان افتخار صاحب نے جب دیکھا کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ممکن نہیں رہا تو لٹھ لے کے خان صاحب کے پیچھے پڑ گئے کیوں کہ انہوں نے ہی واویلا کیا تھا۔ اور خان صاحب نے کہاں پیچھے رہنا تھا ان کے حواری بڑے میاں صاحب کو نا اہل کروانے پر تل گئے۔اس کے علاوہ لانگ مارچ کی تلوار بھی تیز کی جا رہی ہے۔ کوئی ارسلان صاحب سے پوچھے کہ جناب اگر آپ نے عوامی مفاد میں استعفیٰ دیا تو پھر اب سیاست میں کیوں خود کو رگید رہے ہیں۔ اور خان صاحب ڈیڑھ سال چپ رہنے کے بعد اب بڑے میاں صاحب کی نا اہلی کا شور مچانے لگے ہیں۔ اگر واقعی وہ ملک کے ساتھ مخلص تھے اور ان کی بات میں سچائی ہے تو اتنا عرصہ چپ کیوں رہے۔

عوام کی بات تو ہے ہی نرالی۔ وہ قادری صاحب کے کہنے پر گولیاں کھا سکتے ہیں۔ خان صاحب کے کہنے پر مارچ کے لیے نکل سکتے ہیں۔ میاں صاحب کی حمایت میں تو باہر آ سکتے ہیں ۔ لیکن اپنے حقوق کے لیے احتجاج نہیں کر سکتے ۔ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تجویز ہے لیکن عوام پھر بھی نہیں بولے گی۔ یہ آپس میں ایک دوسرے پر اپنا غصہ نکالتے ہیں لیکن سیاستدانوں کا گریباں نہیں پکڑتے ۔ حیرت ہوتی ہے وطن عزیز کے سیاستدانوں پرجو امریکہ و اسرائیل کو اپنا دشمن گردانتے ہیں لیکن غزہ میں بہنے والے خون پر منافقانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ انسانی حقوق کے علمبردار تو کہلواتے ہیں لیکن تین سالہ بچی کا ریپ ہو جائے تو ان کی طرف سے ایک بیان تک سامنے نہیں آتا۔

وطن عزیز کی سیاست کے عجیب رنگ ہیں۔ اگر یہی سیاست اور سیاسی روش اس ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھائے گی تو پھر ایسی جمہوریت کا کیا حال ہو گا۔ یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں اگر سیاستدانوں کی نا اہلی شامل ہے تو عوام بھی برابر کے حصے دار ہیں۔ جنہوں نے بس خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اور یہ منافقت کا لبادہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر یکساں طور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ قوم یہ لبادہ اتار نہیں پھینکتی اور برے کو برا اور اچھے کو اچھا کہنے کی جرات نہیں کرتی تب تک نہ تو ہم اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں نہ ہی سیاستدان اپنے فرائض ایمانداری سے نبھائیں گے۔