بگ تھری میں لڑائی اور مصالحت
- جمعہ 08 / اگست / 2014
- 3717
کرکٹ واحد کھیل نہیں، تقریبا تمام ہی کھیلوں میں کھلاڑیوں کے درمیان دوران میچ کسی چھوٹی یا بڑی بات پر تلخ کلامی، غصے اور مغلظات بکنے جیسا عمل ہوہی جاتا ہے۔اس عمل کو عموماً شائقین انجوائے کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے بھرپور تمام ہی میچوں میں کھلاڑیوں پر بھاری رقم کے ساتھ آئندہ میچوں پر پابندی جیسے جرمانے عائد کئے جاتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ اس عمل میں صرف ایشیائی کھلاڑی آگے ہوں ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ سمیت دیگرممالک کے کھلاڑیوں سے بھی ماضی میں ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور مستقبل میں ان کے مزید ہونے کے امکانات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اب تک کوئی معاملہ بھی اتنا خبروں کی زینت نہیں بنا جتنابرطانوی فاسٹ بالر جیمز اینڈرسن اور بھارتی آل راؤنڈر رویندر جڈیجا کا ایشو بناہے۔
اس معاملہ کو اور اس دوران بھارتی کرکٹ بورڈ کے رویے کو درست انداز سے سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم آپ کو انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطہ اخلاق سے آگاہ کرتے چلیں۔ آئی سی سی ہرٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچ کیلئے ریفری لگاتا ہے، جسے اختیار ہوتا ہے کہ دوران میچ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کرے۔ ضابطہ اخلاق میں میچ فکسنگ ، جھگڑے، جواری کھلاڑیوں کے متعلق رپورٹس کا جائزہ ، کھلاڑیوں کی دوران میچ کارکردگی اور بالنگ ایکشن وغیرہ شامل ہے۔
کس معاملے پر کون سا جرمانہ عائد کیا جائیگا، انہیں لیول ون، ٹو، تھری اور فور وغیرہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ لیول ون کے معاملات میں 50فیصد میچ فیس تک کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، لیول ٹو میں 100فیصد میچ فیس اور ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے میچوں کی پابندی عائد کردی جاتی ہے۔ لیول تھری میں کھلاڑی دو سے چار ٹیسٹ میچوں یا 4 سے 8 ون ڈے میچ کھیلنے سے محروم کردیا جاتا ہے اور لیول فور میں 5 ٹیسٹ، 20 ون ڈے یا تاحیات کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ معاملہ اگر صرف میچ فکسنگ کا ہو تو پابندی کا دورانیہ 12ماہ سے تاحیات بھی ہوسکتا ہے۔
بھارتی کرکٹ ٹیم آج کل دو ڈھائی ماہ کیلئے انگلش بورڈ کی مہمان ہے، پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز انگلش کھلاڑی جیمز اینڈرسن کے خلاف بھارتی ٹیم انتظامیہ نے لیول تھری کی خلاف ورزی کی شکایت درج کرائی۔ جس میں ان کا کہناتھا کہ برطانوی فاسٹ بولر نے بھارتی آل راؤنڈر رویندر جڈیجا کو پویلین لوٹتے وقت دھکا دیا اور مغلظات بکیں۔
یعنی اینڈرسن پر کم از کم 4ٹیسٹ میچوں کی پابندی کا معاملہ گرم ہوگیا تھا تو انگلش کرکٹ بورڈ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ اس نے بھی رویندر جڈیجا پر لیول تھری اور انگلش ٹیم کے منیجر فل نیل نے لیول ٹو کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر تفصیلات ریفری ڈیوڈ بون کے پاس جمع کرادیں۔ ویسے میل آن لائن پر موجود واقعے کی ویڈیو کے مطابق اینڈرسن نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔
اس پر بھارتی بورڈ کہاں خاموش رہنے والا تھا۔ اس نے معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور اثر و رسوخ استعمال کیا۔ جس پر ریفری ڈیوڈ بون نے خصوصی اختیار استعمال کئے اور بھارتی آل راؤنڈر پر لیول ٹو کے بجائے لیول ون کی تحت میچ فیس کا 50فیصد جرمانہ عائد کیا اوریوں وہ سیریز کے میچوں میں پابندی سے بچ گئے۔ ساتھ ہی انگلش کھلاڑی بھی میچ کی پابندی سے بچ گیا۔ مگر اس پر بھی بھارتی ٹیم مینجمنٹ کو تسلی نہ ہوئی اور اس نے فیصلے پر اعتراضات جڑ دئیے ۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا ہے اور شروع میں دھمکی دی کہ جوڈیشنل کمشنر گورڈن لیوس کا مکمل فیصلہ آنے کے بعد وہ اپیل کریگا۔ لیکن آخری فیصلہ آنے کے بعد اس کو آئی سی سی چیف ڈیو ڈ رچرڈ سن کی جانب سے درست قرار دئیے جانے پر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۔
بگ تھری کی دو بڑی ٹیموں کے درمیان لیول ٹو اور تھری کے معاملات کو کس شاندار انداز سے دبایا گیا اس کی نظیر آپ ڈھونڈنے سے بھی نہیں سکتی۔ اگر اس کی جگہ پاکستان، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ہوتے تو ان پر تمام لیول کی سزاؤں کا بڑی بے دردی سے اطلاق ہوتا۔ میرے اس جملے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ بین الاقوامی سطح پر ہمارے ساتھ خصوصی رعایت برتی جائے، بلکہ یہ ہے کہ فیصلے اصول کی بنیاد پر ہونا چاہئے اثر و رسوخ کی بنیاد پر نہیں۔
لیکن اگر یہ بات طے ہوگئی ہے بین الاقوامی سطح پر معاملات ایسے ہی چلیں گے تو پھر پی سی بی کو بھی سوچنا ہوگا کہ دنیا کی بہترین پانچ ٹیموں میں شامل اس کی ٹیم کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ آئیے آگے بڑھ کر اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ پر سب سے پہلے ملک میں کھیلوں کا معیار خراب کرتی سیاست سے جان چھڑائی جائے۔