حکومت جانے کے دن

  • ہفتہ 09 / اگست / 2014
  • 4062

جی کا جانا ٹھہر گیا ہے
صبح گیا یا شام گیا
میر تقی میر کا یہ شعر پاکستانی سیاست میں جس قدر تواتر اور بہتات کے ساتھ استعمال ہؤا ہے، کسی اور شعر کو کم کم ہی یہ موقع نصیب ہؤا ہو گا۔غالباً پاکستانی سیاست میں اس شعر کو متعارف کرانے اور مقبول بنانے کا سہرا نوابزادہ نصر اللہ کے سر ہے۔ جنہوں نے 23 مارچ 1962ء کو جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملک سے مارشل لاء اٹھایا تھا اسی روز لاہور کے باغ بیرون موچی دروازہ میں متحدہ اپوزیشن کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بار یہ شعر اپنے مخصوص انداز میں پڑھا تھا۔

گو اس صبح شام کے لیے قوم کو 7 سال انتظار کرنا پڑا کہ ا یوب خان کی اقتدار سے رخصتی 1969ء میں ہوئی۔ لیکن 23 مارچ 1962ء کو جب نواب زادہ صاحب یہ شعر پڑھ رہے تھے، اس وقت آمریت کی رخصتی کا آغاز ضرور ہو گیا تھا۔ بعد میں ہر حکومت کے آنے کے سال دو سال بعد یہ شعر ہر ایرے غیرے نے بلا سوچے سمجھے پڑھا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ شعر ہر حکومت کے بارے میں پڑھا گیا۔

البتہ نواز شریف کی تیسری حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے اقتدار کے صرف ایک سال کے اندرہی  یہ شعر عام شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے لبوں پر آ گیا ہے اور اب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں اس حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جانے لگی ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے تو اس سلسلے میں اگست کی ڈیڈ لائن بھی دے دی ہے۔ ان کا سیاسی اور روحانی دعویٰ ہے کے یہ حکومت اس اگست کے بعد نہیں رہے گی۔

تحریک انصاف کے عمران خان نے اگرچہ ابھی کوئی تاریخ تو نہیں دی مگر ان کا اعلان ہے کہ 14 اگست کو جب وہ اسلام آباد آئیں گے تو وہاں سے کچھ لے کر ہی اٹھیں گے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی یہ دعوے تو کر رہی ہے کہ وہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دے گی لیکن اس کا ماضی کچھ اور چغلی کھاتا ہے۔ آصف زرداری کا نواز شریف کو یہ مشورہ کہ وہ وزیر اعظم بنیں شہنشاہ نہ بنیں۔ اور چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے عمران خان کے مطالبہ کی تائید پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں مستقبل کی منصوبہ بندی کا پتہ دے رہی ہے۔

اب ایک طرف خورشید شاہ وزیر اعظم سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف قمر الزمان کائرہ کہہ رہے ہیں کہ انتخابی عذرداریوں میں مسلم لیگ (ن) کے سب سے زیادہ ارکان کا نااہل ہونا انتخابات میں دھاندلی کی دلیل ہے اور اس سے عمران خان کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ حکومت انتخابی ٹربیونلز میں سپیڈی ٹرائل کروائے اور انتخابی اصلاحات کے لیے قائم کر دہ پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی عمران خان کے حوالے کر دے ۔

اس ساری صورتحال پر جہاں مخالفین صبح گیا یا شام گیا کا مصرعہ گنگناتے پھر رہے ہیں۔ وہاں حکومت وقت بھی صورتحال سے پریشان دکھائی دیتی ہے۔ وہ منہاج القرآن لاہور میں 16 افراد کے قتل کے بعد طاہر القادری سے بھی بات کرنا چاہتی ہے اور عمران خان سے بھی براہ راست رابطے کی کوششیں کر رہی ہے۔ مگر دونوں افراد اور ان کی جماعتیں اب حکومت سے بات چیت کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتیں۔

لاہور کے باخبر حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کے عمران خان اور طاہر القادری کی تحریک کو بعض مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ اسی لیے چودھری شجاعت طاہر القادری کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور عمران خان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ طاہر القادری کے جہاز کو اسلام آباد کے بجائے لاہور میں اتارنے کے بعد جب طاہر القادری نے طیارہ چھوڑنے سے انکار کیا تو حکومت ایلیٹ فورس کے آپریشن کے ذریعے طیارہ چھڑوانے کا منصوبہ بنا رہی تھی، جس پر بعض مقتدر حلقوں نے مداخلت کی اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے ذریعے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو یہ فریضہ سونپا گیا جو طاہر القادری کو بخفاظت ماڈل ٹاؤن چھوڑ آئے۔

موجودہ صورتحال کو ڈی فیوز کرنے کے لیے حکومت نے ایک طرف تو اگست کا پورا مہینہ “ یوم آزادی “  کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ تاحال جھنڈوں اور بینروں کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آیا۔ البتہ اس مد میں حکومت  “ جیو ٹی وی “ کو ایسے اشتہارات دے رہی ہے جو بظاہر تو جیو ٹی وی کے اپنے اشتہارات ہیں لیکن اس کی ادائیگی حکومت کرے گی۔ دوسری جانب حامد میر کے دوبارہ پروگرام شروع ہونے سے بھی کچھ غلط فہمیاں بڑھی ہیں۔ کیونکہ دبئی میں شکیل الرحمن پرویز رشید ملاقات میں یہ طے پایا تھا کہ حامد میر کا پروگرام بند رہے گا اور ان کے کالم بھی کم کم ہی نظر آئیں گے۔ لیکن اب حامد میر ایک بار پھر کھل کر میدان میں ہیں جس کو یقیناً بعض حلقے پسند نہیں کر رہے۔

حکومت صورتحال کی بہتری کے لیے ایسے سیاسی لیڈروں سے بھی رابطے کر رہی ہے جن کے گزشتہ ایک سال کے دوران وزیر اعظم اور دوسرے وزراء فون بھی نہیں سن رہے تھے۔ اور ا پنی ہی بلائی ہوئی اے پی سی میں طالبان سے مذاکرات کے فیصلے پر حکومت نے کسی مشاورت کے بغیر جو یوٹرن لیا ہے اسے سیاسی جماعتیں اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہیں۔ چنانچہ ایم کیو ایم کے قائد کا یہ مطالبہ کہ وزیر اعظم نواز شریف  خود اقتدار سے الگ ہو کر اپنی پارٹی کے کسی اور شخص کو اس عہدے کے لیے نامزد کر دیں، بڑا اہم اور تشویشناک ہے۔ یہ کسی کی دی ہوئی لائن لگتی ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں اردو زبان کے خلاف ماروی میمن کا بل مسترد ہونا حکومت کی بڑی پارلیمانی شکست ہے۔ کہ اس بل کے ایک محرک وزیر اعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر بھی تھے۔ حکومت کو آئندہ چند دنوں میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں مزید پسپائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ طاہر القادری کا احتجاج اور عمران خان کا دھرنا کیا رنگ دکھاتا ہے۔

حکومت پریشان تو ہے لیکن اس کے تدارک کے لیے دانشمندانہ حکمت عملی نہیں اپنا رہی۔ اس لیے سیاسی حلقے کہہ رہے ہیں کہ اگست حکومت کی رخصتی کا آخری مہینہ تو شاید نہ بن سکے لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ حکومت کی رخصتی کا نقطہ آغاز ضرور بن جائے گا۔ اسی لیے یار لوگ شاید درست گنگنا رہے ہیں:
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے
صبح گیا یا شام گیا