میڈیا بر سر پیکار
- اتوار 10 / اگست / 2014
- 5785
صنعتی ترقی کے نتیجے میں ہونے والی نئی نئی ایجادات اور مسلسل بہتر ہوتی تکنیکی سہولتیں جہاں روزمرہ زندگی کے دیگر تمام شعبوں کی تشکیل نو کرتی چلی جا رہی ہیں، وہیں صحافت پر بھی اسکے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ لہٰذاہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آج کی صحافتی اقدار اُن صحافتی اقدار سے قدرے مختلف ہیں جنہیں تیس چالیس برس قبل صحافت کے معیار کا پیمانہ سمجھا جاتا تھا۔
اور یہ کوئی ایسی تعجب خیز بات بھی نہیں۔ ہر دور اور وقت کی اپنی ترجیحات اور تقاضے ہوتے ہیں جو عصری اخلاقیات کی تشکیل و ترتیب میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ایک جاری و ساری عمل ہے جسکا راستہ چاہتے ہوئے بھی نہیں روکا جا سکتا۔
پاکستان میں صحافت آج جس مخمصے اور کنفیوژن کا شکار ہے، ہماری رائے میں اسکی بڑی وجہ تو یہی تکنیکی انقلاب ہے جس نے ذرائع ابلاغ کو اس حد تک اپنا محتاج بنا دیا ہے کہ بعض اوقات اسکے تقاضے پورے کرنے کی دوڑ میں صحافت کی بنیادی اخلاقیات کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ مثلاٌ ایک صحافی پر لازم ہے کہ وہ خبر کی سچائی کی جہاں تک ممکن ہو تصدیق کرنے کے بعد پوری دیانتداری کے ساتھ کلی طور پر اسے اپنے ناظرین، سامعین یا قارئین تک پہنچائے۔ صاحبان اقتدار یا ایسے طاقتور حلقوں کا آلہء کار بننے کی بجائے جو آزادئ اظہار کنٹرول کر سکنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں، ان لوگوں کی آواز بنے جو ممیانے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک صحافی کیلئے جو صحافت کا امین ہوتا ہے مکمل طور پر ٹرانسپیرنٹ ہونا بھی ضروری ہے۔
پاکستان میں آج میڈیا کی آزادی کا بڑا شہرہ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ برسوں آمریت کے جبر تلے دبے رہنے کے باوجود پاکستان کے با ضمیر صحافیوں نے ہر دور میں آزادئ اظہار کا پرچم بلند رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جب سیدھی بات کہنے کی گنجائش نہ چھوڑی گئی تو انہوں نے علامات کا سہارا لیا ۔ اپنی اس جہد میں یہ پابند سلاسل ہوئے، کوڑے کھائے، فاقے کیئے اور وہ تما م غیر انسانی صعوبتیں برداشت کیں جو ہر دور کے ڈکٹیٹروں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیئے ان پر توڑیں۔ لیکن جو ثابت قدم تھے وہ ہر دور میں ثابت قدم ہی رہے اور تاریخ میں اپنا نام چھوڑ گئے۔ ہاں ان کالی بھیڑوں کی تعداد بھی کبھی کم نہیں رہی جو ہمیشہ بکاؤ مال ہی رہے اور مراعات، تعلقات، دولت اور پلاٹوں کے عوض کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنا ضمیر بیچتے رہے۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ انہی کالی بھیڑوں کی باقیات آج بھی نہ صرف اپنی پرانی روش پر قائم ہے بلکہ بڑی ڈھٹائی سے خود کو صحافتی آزادی کا علمبردار کہلوانے پر بھی بضد ہے۔
اب یہاں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا پاکستان میں میڈیا واقعی آزاد ہو چکا ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اب یہ میڈیا مالکان کے مفادات کا طوق گلے میں ڈالے آزادی آزادی کے نعرے لگا رہا ہو۔
صحافت سے متعلق ان بنیادی باتوں کے علاوہ اسکے دیگر تقاضوں، ترجیحات اور پیچیدگیوں پر ہمارے سینیئر اور کہنہ مشق جرنلسٹ سید مجاہد علی نے اپنی کتاب ’’میڈیا بر سرپیکار‘‘ میں بھرپور اور سیر حاصل بحث کی ہے ۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہماری نظر میں یہ ہے کہ یہ ایک محدود مدت کے دوران پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعے اور اس پر ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس کے اولین ابواب میں اس واقعے سے متعلق کسی نئے نکتے کو بنیاد بناتے ہوئے تسلسل سے لکھے گئے کالمو ں میں صحافتی اقدار کا جائزہ لیا گیا ہے۔
سید مجاہد علی کی صحافتی زندگی کا آغاز پاکستان میں اس وقت سے ہوتا ہے جب خبر، بحث اور رائے عامہ کا سب سے بڑا زریعہ اخبار ہؤا کرتے تھے اور اخبار پڑھنے والوں کی وابستگی ان سے اس حد تک تھی کہ ہر ایک کا اپنا کوئی پسندیدہ اخبار ہوا کرتا تھا، جس سے اسکی سیاسی سوچ کی عکاسی بھی ہوتی تھی۔ ان میں لکھنے والے قلم اور لفظ کی حرمت سے آگاہ تھے اور اپنی چھوٹی چھوٹی تنخواہوں میں گزارہ کرتے تمام زندگی گزار دیتے تھے۔ لیکن جب ایک دفعہ یہ پیشہ اختیار کر لیتے تو پھر اسی کے ہو کر رہ جاتے اور بہت کم ایسے تھے جو پیسے کے لالچ میں اسے چھوڑنے پر تیار ہوتے۔
اس طرح سید مجاہد علی کا تعلق بھی انہی وضع دار صحافیوں کے قبیلے سے ہے کہ جب صحافت اختیا کر لی تو پھر اسی کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ پاکستان سے ناروے آئے تو یہاں بھی صحافت کی ایسی شمع روشن کی جسکی لو وقت کے ساتھ تیز تر ہی ہوتی چلی گئی۔ اس مختصر سے تعارف کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ سید مجاہد علی کی یہ کتاب ان کے چالیس سے زائد برسوں کے صحافتی تجربے کا نچوڑ ہے جو نہ صرف صحافت میں قدم رکھنے والوں کے لئے بلکہ اپنے تئیں صحافت کا استاد سمجھنے والوں کے لئے بھی معلومات کا خزانہ او بہترین رہنما ثابت ہو سکتی ہے۔
کتاب میں اگرچہ صحافت کے عمومی تقاضوں کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے، لیکن چونکہ اسکا موضوع پاکستان کی معروضی صحافت ہے ، لہٰذاہ اسکے کم و بیش سبھی پہلؤوں کا انتہائی مہارت اور دردمندی سے جائزہ لیتے ہوئے ان کوتاہیوں ، کمزوریوں اور منافقتوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جنہیں دور کیئے بغیر اسکی ساکھ نہ تو برقرار رکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی بحال کی جا سکتی ہے۔ معاملہ خواہ مالکان کے مفادات کا ہو یا میڈیا ہاؤسز کی ساخت کا، میڈیا کی آپس کی لڑائیوں کا ہو یا نان سٹیٹ ایکٹرز کی مداخلت کا، میڈیا بر سر پیکار میں تفصیل سے ان موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے اہم انکشاف بھی کیئے گئے ہیں۔
آج الیکٹرونک میڈیا کے دور میں کیمرے کے سامنے آنے والا کوئی بھی صحافی جو عام طور سے اینکر کہلاتا ہے، رائے عامہ بنانے میں اہم رول ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن جب صحافت کاروبار بن جائے اور ہدف ریٹنگ بڑھاتے ہوئے اشتہار بیچنا ہو تو پھر سنجیدہ صحافیوں کی بجائے چرب زبان مداریوں کے چہرے ہی سکرین پر دکھائی دیں گے جو قومی اہمیت کی بحثوں کو بھی بے ہنگم اچھل کود میں تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسکے عوض بھاری مشاہرے وصول کرتے ہیں۔
’’ پاکستان کا بیباک میڈیا ‘‘ کے عنوان سے شامل کیئے گئے چار ابواب میں مصنف نے بڑی گہرائی سے اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں گراس روٹ پر کام کرنے والے ان صحافیوں کی حالت زار پر گہرے کرب کا اظہار کیا ہے جو ان سٹار اینکرز اور میڈیا مالکان کے ہاتھوں مسلسل استحصال کا شکار ہونے کے باوجود خاموشی سے نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ اپنے حقوق کے لیئے کوئی آواز بلند کرنے کی صورت میں وہ روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ مصنف نے بجا کہا ہے کہ اس عدم مساوات کا جواب لاکھوں کروڑوں میں معاوضہ پانے والے اینکرز اور کالم نگاروں کو عوام کے علاوہ اپنے ضمیر کو بھی دینا چاہیئے۔
ایک اور بات جو ہماری نظر میں بہت اہم ہے وہ کسی بھی پروگرام کے لیئے موضوع اور زبان کے چناؤ کی آزادی ہے۔ سید مجاہد علی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ اینکرز اور پروگراموں تک اس چناؤ کی آزادی کو محدود کر دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’ تاہم کوئی اس بات پر غور کرنے کو تیار نہیں کہ نیوز روم میں کام کرنے والے ایک ورکنگ جرنلسٹ اور رپورٹر کو الفاظ اور موضوع کے چناؤ کی کس قدر آزادی حاصل ہے اور اسے اپنی مرضی کی خبر رپورٹ کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘
یہ بات درست ہے کہ خبر کی رسائی کے لئے صحافیوں کو ایوان اقتدار اور صاحبان اقتدار تک پہنچنا ہی پڑتا ہے۔ بس یہ تعلق اسی حد تک محدود ہونا چاہیئے۔ سید مجاہد علی لکھتے ہیں۔’’ تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ متعدد صحافی یہ حد قائم رکھنے میں ناکام رہتے ہیں ۔‘‘ انکا کہنا ہے کہ رفتہ رفتہ یہ لوگ ان کے ذاتی مصاحبین میں شامل ہو جاتے ہیں ا ور ایسے گہرے سماجی تعلقات کے ہوتے ہوئے انکی دیانتداری اور غیر جانبداری پر شبہ کرنا بالکل درست ہے۔
معتبر صحافت کے فروغ کیلئے سید مجاہد علی نے صحافیوں کو خود اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دیتے ہوئے کچھ تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان تجاویز کو ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار صحافی کا پر خلوص مشورہ قرار دیا جا سکتا ہے جس پر عمل کرنا یقیناٌ صحافیوں کے اپنے مفاد میں ہوگا۔ ہمارے خیال میں انکی پیش کردہ کم از کم ایک تجویز پر تو فوری ہی عمل ہونا چاہیئے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’چونکہ مالکان اور صحافیوں کے مفادات اور مقاصد مختلف ہوتے ہیں اس لئے بڑے میڈیا ہاوسز میں مالکان کا بطور ایڈیٹر مسلط رہنے کا اصرار ایک نا قابل قبول روش ہے۔ سب صحافیوں اور تنظیموں کو مل کر یہ رول جدا کرنے کے لئے جد وجہد کرنی چاہیئے۔‘‘
اس مختصر سی کتاب میں سید مجاہد علی نے پاکستان میں عصری صحافت کے تقریباٌ سبھی پہلوؤں کا جائزہ لے ڈالا ہے۔ اسکی جائز خدمات کا اعتراف کرنے کے ساتھ ہی ساتھ ان منفی اور منافقانہ رویوں کی قلعی بھی کھول دی ہے جو اس مقدس پیشے کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی صحافت میں قدم رکھنے والے ان تمام نوجوانوں کے لئے جو واقعی اسے مستقل پیشے کے طور پر اختیار کرنا چاہتے ہیں یہ کتاب صحافتی اقدار اور ضابطہ اخلاق کی گائیڈ بک کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے جس میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔
چونکہ اس کتاب کا مواد ان کالموں پر مشتمل ہے جو عام قاری کے لئے لکھے گئے تھے، لہٰذاہ اسکی زبان بھی سادہ، رواں اور غیر ضروری اور بھاری بھرکم اصطلاحات سے پاک ہے جس نے اسے اور بھی دلچسپ بنا دیا ہے۔
ناروے میں رہنے والے ہم سب پاکستانیوں کے لیئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ پاکستانی صحافت پر ایسی مدلل بحث کا آغاز اس کتاب کی صورت میں ناروے سے ہو رہا ہے۔ اور اسے لکھنے والا کون ہے۔ ایک جینوئن صحافی اور صحافت میں ایک بڑا نام جس کا قلم گذشتہ چار دہائیوں سے مسلسل رواں ہے۔
سید مجاہد علی کے کام کو دیکھ کر کبھی کبھی تو حیرت ہوتی ہے کہ شخص آرام کب کرتا ہوگا۔ کاروان کے لئے اوپر تلے اداریے، اردو انگریزی میں بلاگ، گفتگو ، خبریں ، مضامین، اخبار کی ذمہ داری اور پھر یہ سارا کام انجام دینے کے لئے حالات اور معاملات پر گہری نظر، مطالعہ ، تکنیکی کام وغیرہ وغیرہ۔
لیکن شاید جب فلاح عامہ کے لئے کوئی کام مشن سمجھ کر کیا جائے اور یہ زندگی کا مقصد بن جائے تو پھر انسان اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ سید مجاہد علی بھی ایسے ہی ایک بے لوث انسان ہیں۔ ہم انہیں انکی اس پہلی کتاب پر دلی مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ ہی ساتھ امید کرتے ہیں کہ ان کا قلم ایسے ہی رواں رہے گا اور ہم انکی تحریروں سے یونہی مستفید ہوتے رہیں گے۔
(ممتاز ناول نگار اور صحافی انیس احمد نے یہ مقالہ مدیر کاروان سید مجاہد علی کی کتاب “ میڈیا برسرپیکار “ کی تعارفی تقریب کے لئے لکھا تھا۔ یہ تقریب اوسلو میں پاکستان فیملی نیٹ ورک کے زیر اہتمام 9 اگست بروز ہفتہ منعقد ہوئی)