پاکستان کا مسائلستان

  • اتوار 10 / اگست / 2014
  • 4991

ہم آپ چاہتے ہیں کہ آزادی مارچ ہو، تو اسے ہونا چاہیے۔ یوم شہداء انقلاب اور انقلاب مارچ ہو،لاہور غزہ اور کربلا نہ بنے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزیراعظم نواز شریف ، عمران خان، طاہر القادری اور پاک فوج ملکی مسائل سے بالکل بے پروا ہوجائے۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ سیاسی و انتخابی نظام میں خامیاں ہیں۔ ہر بار کرپٹ ٹولہ یا میرے عزیز ہم وطنو اقتدار کا حصہ بنتے رہے ہیں۔  ان دونوں کی سیاسی جوڑ توڑ ، مک مکاؤ اور چل چلاؤ کی پالیسی نے پاکستان کو مسائلستان بنادیا ہے ۔

بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کو کل تک پوری قوم رو رہی تھی۔ دہشتگردی کا ناسور بھی جڑ پکڑ گیا ہے، اس کیخلا ف بار بار آپریشن ہؤا ۔ کس کی ایما پر ہؤا یہ آج کا موضوع نہیں۔ اب  دس یا بیس لاکھ آئی ڈی پیز ، امن و امان، بے روزگاری ، مہنگائی کئی اور ایشوز ہیں جنہیں حل کئے بغیر انتخابی نظام درست کرنا، دھاندلی روکنا، انقلاب لانا، فوج کو بلانا اور ظلم کی دوہائیاں دینا سب بے کار ہے۔

مگر کیا کریں عمران خان ، طاہر القادری اور وزیر اعظم نواز شریف سمیت ساری سیاسی قیادت ان بنیادی مسائل کے حل کا درست راستہ بتانے کے بجائے کئی دیگر معاملات پر بات کررہے ہیں۔ ان مسائل کو  ذاتی انا سے تھوڑا سا اوپراٹھ کر اسمبلیوں کے اندر ہی باآسانی حل کیا جاسکتا ہے۔ معاف کیجئے گا ، لیکن کیا کریں ہماری سیاسی و فوجی قیادت کو بھی ایڈونچر ازم کا چسکا لگ گیا ہے۔

یہ بات اب درست ہے کہ عمران خان کا انتخابی نظام کی درستی کے سوا کوئی اور مطالبہ اس لائق نہیں کہ اس کی موجودہ جمہوری نظام میں گنجائش ہو۔ الیکشن ٹربیونلز نے120دن میں نہ سہی450دنوں میں ہی80فیصد سے زائد کیسز نمٹا دئیے ہیں۔ اور بات عمران خان کے 4حلقوں تک بھی جلد آہی جائے گی ۔ میں حیران ہوں وفاقی اور پنجاب حکومت اتنے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیوں نہیں کررہی جتنا سابق صدر زرداری نے اپنے دور میں بڑے بڑے معاملات میں کیا ۔

نوازاور شہباز شریف صاحب کو یہ بات یقیناًمعلوم ہوگی کہ کنٹینر رکھنے، مختلف دفعات لگانے ، مقدمات بنانے، گرفتاریوں اور نظربندیوں سے رٹ تو بحال کی جاسکتی ہے، دل نہیں جیتے جاسکتے۔ دل فتح کرنے کیلئے دل کی کشادگی لازم ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں طاہر القادری صاحب اسٹبلشمنٹ کے اچھوتے اقدامات ، چوہدری بردارن اور شیخ رشید کی باتوں کے باعث مشتعل نہ ہوجائیں۔ اور کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھیں جس کے نتیجے میں ان کے کارکنان کو ، جمہوریت کو اور ان کی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچے۔

عمران خان ، طاہر القادری اور نواز شریف صاحبان سے میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی تمام ’’ آنیاں اور جانیاں ‘‘ جمہوریت ہی کے دم سے ہیں۔ انہیں کسی بھی آمر کے دور میں برقرار رکھنا ممکن تو نہیں ہوگا ۔ بس آپ کے جو بھی مطالبے ہوں مگر اس بات کو یقینی بنائیں کہ جمہوری نظام کو آپ کی وجہ سے سے کاری ضرب نہ لگے۔ ورنہ یہ قوم بھی، جمہوری سیاستدان ، دانشور آپ کو زندگی بھر آمر یت کو بلاوا دینے کا طعنہ دیتے رہینگے۔

وہ قوم اور عوام جن کے دکھ و درد کا مداوا کرنے کیلئے آپ دو یا تین دہائیوں سے سیاست کررہے ہیں، ان کے مسائل جو جوں کے توں رہ جائینگے ہو سکتا ہے ان میں سے چند ایک آپ سب کو وہ کچھ بھی کہہ دیں جس کے بعد دوبارہ اٹھنا کسی کے بس کی بات نہیں ۔
میں یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہا ہوں،عزیز ہم وطنو یا فرشتوں کے آنے سے صرف آپ لوگ ہی محدود نہیں ہونگے،آپ کے لوگوں کی وفا داریاں ہی خریدی نہیں جائینگی بلکہ وکلا اور صحافیوں اور میڈیا کے اداروں کی سرگرمیاں ایک دائرے میں آجائینگی ۔آپ کی آواز وہ گھن گھرج دب جائے گی جوآج میڈیا کی آزادی کے دور میں موجود ہے۔کیوں کہ جو لوگ موجودہ جمہوری دور میں بھی کئی میڈیا ہاؤسز کیلئے حدود کا تعین کرسکتے ہیں وہ اب کی بار اقتدار کی غلام گردشوں کا حصہ بننے کے بعد سیاستدانوں ، صحافیوں اور وکلا ء کے ساتھ کیا کرینگے۔ اس پر ہم سب الامان الحفیظ ہی کہہ سکتے ہیں۔میرا خیال بات ہم سب کی سمجھ میں آگئی ہوگی۔کیوں؟درست کہنا نہ