نظریاتی سرحدیں اور میڈیا کی آزادی (1)

  • سوموار 11 / اگست / 2014
  • 4711

سید مجاہد علی کی حالیہ کتاب ’’میڈیا بر سر پیکار’’ کاروان میں انکے شائع شدہ مختلف مضامین کے مجموعہ پر مشتمل ہے۔ جس میں پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے کردار اور آزادئ صحافت کو درپیش چیلنجوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ میڈیا مالکان، صحافیوں اور اینکرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، غیر جانب داری، اختیارات سے تجاوز اور میڈیا ہاوسز کی باہمی چپقلش پر سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مضامین میں پاکستان کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

پاکستانی میڈیا کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے سید مجاہد علی کے مضامین میں پاکستانی ورکنگ جرنلسٹوں کے غوروخوض کے لیے کافی مواد موجود ہے جس سے انہیں جدید جمہوری معاشروں میں آزاد صحافت کے پیشہ وارانہ معیار، صحافیوں کے حقوق اور فرائض کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔  میں سمجھتا ہوں سید مجاہد علی کے مضامین پاکستان میں آزادئ صحافت، آزادئ تحریروتقریر اور آزادئ اظہار خیال کے سلسلہ میں کی جانے والی کاوشوں میں ایک مثبت اور مثالی اضافہ ثابت ہوں گئے۔

اس مختصر آرٹیکل میں میڈیا ہاوسز کے کمرشل مفادات کی محتاج میڈیا پالیسی، بغیر تحقیق کئے بریکینگ نیوز کی بھرمار اور اس پر بلا سوچے سمجھے تبصرے، رپورٹنگ سٹاف کی ناتجربہ کاری، غیر پیشہ وارانہ، سطحی اور سبجیکٹیو رپورٹنگ کو زیر بحث نیہں لایا گیا، نہ ہی اینکر پرسنز کی جانبداری، غیر صحافیانہ طرز عمل اور سیاسی ٹاک شوز میں سنسنی پیدا کر کے اور سیاستدانوں میں جھگڑا کرواکے چینل کی ریٹینگ بڑھانے والے منفی طرز عمل پر تبصرہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو درپیش گمبھیر مسائل پر سید مجاہد علی کے تجزیوں پر تبصرہ کرنا بھی اس مختصر مضمون میں ممکن نیہں ہے۔ اس لئے اس آرٹیکل کو میڈیا کی آزادی کے نظریاتی پہلوں تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔   

کیا پاکستان کے نجی الیکٹرونک میڈیا کو آزاد، خودمختار اور غیر جانبدار کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک اہم اور بنیادی سوال ہے جس پر سید مجاہد علی کے مضامین کے تناظر میں گفتگو کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی  ہے۔
دنیا میں ہر ملک کی جغرافیائی سرحدیں ہوتی ہیں جو ملک کے آزاد وجود کی گواہی دیتی ہیں۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنا ملک کے ہر شہری اور مسلح افواج کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ پاکستان دنیا کا شائد وہ واحد ملک ہے جس کی حکمران اشرافیہ نے ایک تصوراتی نظریہ تخلیق کر رکھا ہے جسے وہ نظریاتی سرحدوں کا نام دیتے ہیں۔ نظریاتی سرحدوں کے نام نہاد حفاظت کی آڑ میں حکمران اشرافیہ اور ریاستی اداروں نےآزادئ اظہار کو کئی قسم کی پابندیوں کا اسیر کر رکھا ہے۔

ملک کو درپیش سیاسی، سماجی اور ثقافتی مسائل کا غیر جانبدارانہ تنقیدی جائزہ لینا یا تبصرہ کرنا تو دور کی بات۔ ان مسائل کی نشاندہی پر ہی کفر کے فتوے لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔ بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا شدہ سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل کا ذکر کرنا خدائی اختیار میں دخل اندازی کہہ کر فتوے بازی شروع کر دی جاتی  ہے۔ عورت کی آزادی، معاشی عمل میں شرکت اور اسے اپنی زندگی کے معاملات خود طے کرنے کے قابل بنانے والوں کو مغرب زدہ کہہ کر لعن طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سکولوں اور مدرسوں کے نصاب سے فرسودہ اور نفرت انگیز مواد خارج کرنے اور تعلیمی نصاب کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو اسلام اور نظریہ پاکستان کا دشمن قرار دینا ایک رسم بن چکی ہے۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کی خا طرہمسایہ ممالک خصوصا انڈیا سے امن اور دوستی کے تعلقات قائم کرنے کی بات کرنے والوں کو اعلانیہ دشمن کا ایجنٹ اور ملک کا دشمن بنا دیا جاتا ہے۔ معاشی انصاف اور انسانی برابری کے اصولوں کے مطابق ملکی نظام میں تبدیلی کی بات کرنے والوں کو اسلام کے لئے خطرہ کہا جاتا ہے۔ یہ سچائی کیسے چھپائی جا سکتی ہے کہ اسلام، قومی سلامتی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت جیسے نعروں کی گونج میں ملک پر ایک نظریاتی آمریت مسلط کر دی گئی ہے۔ عقل، دلیل، مکا لمہ اور جدیدیت کے دروازوں پر نام نہاد نظریاتی سرحدوں کے پہرہ دار بٹھا کر جہالت، منافقت، شدت پسندی اور عدم برداشت کو پنپنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ ایسی صورت حال میں میں آزادئ  تحریر و تقریر، آزادئ  اظہار یعنی فریڈم آف تھاٹ کے اعلی جمہوری اصولوں پر کس قدر اور کیسےعملدرآمد ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے۔  

ملک میں آزادئ اظہار کو عقیدہ، مذہبی قوانین، مذہبی گروہوں کے دباو، سیکورٹی اداروں اور حکمرانوں کے مفادات کے تابع کر کے وہاں فریڈم آف تھاٹ مشروط اور محدود کر دی گئی ہے۔ 

ملکی مسائل، ریاستی اداروں اور انکی پالیسیوں پر عقیدہ اور تقد س کا غلاف چڑھا کر دلیل اور مکالمہ کے دروازے بند کر دئے گیے ہیں۔ جبکہ عوام کا ذہنی ارتقا اور شعور مشروط نظریاتی دائروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جہاں مسخ شدہ اور یکطرفہ اطلاعات کی بھرمار نے سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنا مشکل بنا دیا ہے، وہیں عوام کو ذہنی انتشار، کنفیوژن، انتہا پسندی،عدم برداشت اور جذباتی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ھے۔ پاکستان کے عوام نام نہاد نظریاتی سرحدوں کے تصور، مسخ شدہ حقائق اور غلط اطلاعات کی فراہمی کی وجہ سے کنفیوژن کے سمندر میں غوطہ زن ہیں۔

پاکستان میں بعض قوانین اور ریاستی اداروں کو مقدس سمجھا جاتا ہے، جمہوری اصولوں کے مطابق اداروں کی کارکردگی پر تنقید کرنا، حالات کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں اصلاح کی تجویز پیش کرنا، کفر اور غداری سے کم تصورنیہں کیا جاتا۔ ملکی قوانین میں اصلاح اور ان کے غلط استعمال پرتنقید کرنے والوں کو قتل کرنا، قتل کی دھمکیاں دینا،  فرقہ پرست مذہبی گروہوں کے دباو پر ناجایئز مقدمات قائم کرنا عین اسلامی فرض سمجھا جاتا ہے۔  مختلف عقیدہ رکھنے والے، یہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، کی عبادت گاہوں اور گھروں پر حملے کرنا، انکا وحشیانہ قتل کرنا، فرقہ پرستوں نے مقدس مذہبی فریضہ بنا رکھا ہے۔ اہل تشیع، احمدی، مسیحی اور ہندووں کی بستیوں اور عبادت گاہوں پر حملے کئے جاتے ہیں۔ کویٹہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالہ، گوجرہ اور دہگر مقامات پر نہتے اور معصوم عوام کا مذہبی فرقہ پرستوں کے ہاتھوں وحشیانہ قتل کوئی ڈھکی چھپی بات نیہں ہے۔ مذہبی انتہا پسند کئی مزارات کو بموں سے اڑا چکے ہیں۔ بریلوی مکتبہ فکر اور اہل تشیع کے کئی علماٰٗء کا بے رحمانہ قتل کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کے ایک بڑے اسلامی سکالر جناب جاوید احمد غامدی کو مذہبی انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد ملک بدر ہونا پڑا۔ وہ انتہا پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لئے بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ حکومت، میڈیا، سیاسی جماعتیں، دانشور اور صحافی ان طاقتور انتہا پسند مذ ہبی گروہوں کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ بلکہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ان انتہا پسند مذہبی گروہوں کو خفیہ ایجنسیوں نے پالا پوسا اور اب بھی ان کو خفیہ ہاتھوں کی تایئد اور حمائت حاصل ہے۔ 

(ارشد بٹ ویژن فورم اوسلو کے صدر ہیں۔ انہوں نے یہ مقالہ 9 اگست کو اوسلو میں سید مجاہد علی کی کتاب “ میڈیا برسر پیکار “ کی تعارفی تقریب کے موقع پر پڑھا تھا۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس مقالہ کو یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مقالہ کی طوالت کی وجہ سے اس کی دوسری قسط کل شائع کی جائے گی۔ تعارفی تقریب کا اہتمام اوسلو کے پاکستان فیملی نیٹ ورک نے کیا تھا۔)