میڈیا فحاشی پھیلانے کا سبب

  • منگل 12 / اگست / 2014
  • 5127

بھارت میں منشیات کا کاروبار حکومت کی سر پرستی میں جاری ہے۔ اسی طرح فحاشی و عریانیت بھی عروج پر ہے۔اس کے باوجود نہ اہل اقتدار اور نہ ہی سرکردہ حضرات اس ناسور کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔رہے وہ بے یارومددگار افراد و گروہ جو اس کے خلاف آواز اٹھاتے بھی ہیں تو ایک طرف میڈیا ان کی زبانوں پر تالے لگادیتا ہے یا پھر مہذب افراد و گرو ہ بھی ان کی کبھی صاف انداز میں اور کبھی ڈھکے چھپے انداز سے مخالفت ہی کرتے نظر آتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میڈیا جو عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتا ہے،رائے عامہ ہموار کرنے اور کرانے میں اپنا موثر کردار ادا کرتا ہے، سرمایہ داروں کے غلط رویوں پر لگام کستا ہے، ملک اور معاشرہ کو صحیح بنیادوں پر استحکام بخشتا ہے ۔۔۔ وہی میڈیا فحاشی و عریانیت کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد ک ی حوصلہ افزائی کرتا تو یہ آواز نہ صرف دیگر لوگوں کو بھی متوجہ کرتی بلکہ ان غیر اخلاقی وغیر قانونی کاموں میں میں رکاوٹ بنتی۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف میڈیا سماج میں پھیلتے اس ناسور کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی مطلوبہ حد تک مدد نہیں کرتا بلکہ اس غیر اخلاقی عمل کے فروغ میں وہ بھی خود شریک ہے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ فحاشی و عریانیت کے بڑھتے سیلاب پر روک لگائی جا سکے؟

قابل توجہ اور عبرتناک پہلو یہ بھی ہے کہ آج اس غیر اخلاقی،غیر سماجی اور غیر انسانی عمل کو وہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا تعاون فراہم کر رہا ہے جہاں نہ صرف قوم پرست ، سوشلسٹ،کمیونسٹ اورعام آدمی بلکہ ملک کے تقریباً تمام ہی افکار و نظریات سے وابستہ لوگ موجود ہیں۔ میڈیا اس ملک کا رجسٹرڈبلکہ لائسنس یافتہ بھی ہے۔ہماری مراد ملک کے انگلش اور ہندی زبانوں میں شائع ہونے والے روزناموں سے ہے ساتھ ہی وہ دیگر علاقائی زبانوں کے اخبارات ،جرائد،رسائل اور نیوز و انٹر ٹینمنٹ چینلز ہیں جو فحاشی کے فروغ میں ملوث ہیں۔ ان اداروں کو بھارت میں لائسنس یافتہ کی حیثیت سے قانونی جواز حاصل ہے۔

فحاشی و عریانیت سے سماج کا ہر طبقہ اورخصوصاً سماجی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور طبقہ متاثر ہے۔ہر دن اعمال بدکے مظاہرہ سامنے آتے ہیں۔چھوٹی بچیوں،جوان بہنوں اور ملک و معاشرہ کی ماؤں کے ساتھ گھناؤنا فعل انجام دیا جاتا ہے۔نتیجتاً ان کی عزت و وقار مجروح ہوتا ہے،ذہنی جسمانی اور معاشرتی سطح پر انہیں مختلف طرح کی اذیتیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہاں تک متاثرین کو زندگی گزارنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ان کی خوشیاں غارت اور ان کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔اس پس منظر میں میڈیا مضامین، تبصروں، جائزوں اور ٹی وی مباحث اس ناکامی پر سوال اٹھاتا ہے۔ تاہم جب وہ خود اس برائی کے فروغ میں حصہ دار ہو توکیونکر اسے سوال کرنے کا جواز مل سکتاہے؟معاملہ صرف میڈیا پر ہونے والی بحثوں پر نہیں رکتا بلکہ کبھی ایک حکومت دوسری حکومت کو(ریاستی حکومتیں تو کبھی مرکزی حکومت)کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے اور کبھی سرکردہ حضرات اور عوام بھی ایک دوسرے پر لعن طعن میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔اس پس منظر میں تصور فرمائیں کہ برائی کے خلاف فکری و نظریاتی اور عملی ذہن سازی کرنے والے (رائے عامہ ہموار کرنے والے )ادارے اگر خود ہی برائی کے فروغ کا ذریعہ بنیں تو پھر کون صحیح نہج پر معاشرہ اور عوام کی رہنمائی کر سکے گا؟

موجودہ دور میں خدمت کے کاموں نے کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔شایدیہی وجہ ہے کہ میڈیا جو کل تک خبر یعنی واقعہ کو غلط بیانی سے پاک کرتے ہوئے لوگوں کو حقیقت سے روشناس کرانے کی اہم ترین خدمت انجام دیتا تھا، آج اسی خدمت نے کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ آج برائیوں کے فروغ میں جن لوگوں کا سب سے بڑا حصہ کہا جا سکتا ہے ، یہ وہی ہیں جو سماجی خدمت کو پیشہ کے طور پر انجام دینے والے ہیں۔ اور میڈیا مالکان کہلاتے ہیں۔ باالفاظ دیگر یہ وہ سرمایہ دار ہیں جنہیں ہر خدمت خوبصورت ناموں سے فروخت کرنا آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انگلش زبان میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار"دی ٹائمز آف انڈیا"جب برائیوں کو بھی خبر کی شکل میں شائع کرنے لگے تویہ برائیاں گھروں میں پہنچ کرمعصوم ذہنوں کو پراگندہ کرتی ہیں۔

اگر آپ صرف اس ایک اخبار کی ویب سائٹ کا جائزہ لیں تو محسوس کریں گے کہ وہ تمام تصاویر،اسٹوریز،ویڈیوزی موجود ہوں گی جو معاشرہ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔اس کے علاوہ "دی ہندوستان ٹائمز" اور دیگر رجسٹرڈ انگلش اخبارات بھی کچھ کم نہیں۔ دوسری جانب ملک کی سرکاری زبان ہندی میں شائع ہونے والے اخبارات کے ذریعہ بھی برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔ ان پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔لہذا وہ بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں۔ فیشن،انٹرٹینمنٹ،فوٹوز،بالی ووڈ،اور اسی طرز کے دیگر صفحات میں وہ جس بے توجہی کے ساتھ تصاویر اور اسٹوریز لوڈ کرتے ہیں ، اس سے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اِن اخبارات کی کوئی اخلاقی حدود بھی ہیںیا اخبارات کے مالکان نے اپنے اخبار کے لیے کوئی اخلاقی ضابطہ بھی طے کیا ہے۔

ملک عزیز ہند میں زبان کی قید سے باہرجو اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں،اس سے ایک قدم آگے جب وہ اپنی ویب سائٹس بناتے ہیں اور متعلقہ صفحات پرچیزیں محفوظ بھی کرتے ہیں۔ شائع ہونے اخبارات کے مقابلہ آن لائن بھی اس معاملہ میں کوئی احتیاط ضروری نہیں سمجھتے۔ ہمارے وہ نیوز چینلس جو دن رات خبریں دکھاتے ہیں وہ بھی خبروں کے درمیان فحش و عریاں اشتہارات دکھاکر لوگوں کو گمراہ کرنے سے پرہیز نہیں کرتے۔اگر ان نیوز چینلس کی ویب سائٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں بھی مخصوص صفحات کسی پورنوگرافی ویب سائٹ سے کچھ کم نہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ غلاظت سے کراہیت اختیار کی جائے۔نہ کہ غلاظت کے ڈھیر پر زندگی بسر کرتے ہوئے خوشبو و بدبو اورگندگی و صفائی میں تمیز کرنا ہی بھول جائیں۔اس تعلق سے تبدیلی کے خواہاں،برائیوں سے بچنے اور زندگی کے ہر شعبہ میں اصلاح پسندوں کے لیے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کافی ہے جس میں برائی کے قریب بھی نہ جانے کی بات کہی گئی ہے اورجس کا اطلاق آج میڈیا پر بھی ہونا چاہیے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ دور حاضر میں انجام دی جانے والی بہت سی سرگرمیوں پر اصلاح پسندوں کا یعنی ان لوگوں کا جو برائی کو برائی سمجھتے ہیں،کاکنٹرول نہیں ہے۔

اس کے باوجود اپنی ذات پر لازماً ہمارا کنٹرول رہنا چاہیے۔ساتھ ہی اگر ہمیں یہ احساس بھی ہوجائے کہ ایک برائی نہ صرف ہماری ذات کو متاثر کرتی ہے بلکہ گھر،گلی ،محلہ اورسماج بھی اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔تو یہ احساس کافی ہے۔ اس طرح منفی رجحانات کے خلاف بند باندھا جا سکتا ہے ۔ فحاشی و عریانیت اور دیگر برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو مذہب اور دیگر سماجی و طبقاتی کشمکش اور اس کی جکڑبندیوں سے اوپر اٹھ کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے۔ تاکہ سماجی برائیوں کے خلاف مل کر کام کیا جا سکے۔