نظریاتی سرحدیں اور میڈیا کی آزادی (2)
- منگل 12 / اگست / 2014
- 5659
صحافیوں کو قتل کرنا، قتل کی دھمکیاں دینا اور اغوا جیسے بہیمانہ مظالم سے ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صحافیوں کے قتل، قاتلانہ حملوں اور اغوا کے بعض واقعات میں خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بیان کرنا بے جا نہ ہو گا کہ صحافیوں کے لیے پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں کیا جاتا ہے۔ اور گذشتہ سالوں میں کئی صحافی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
سید مجاہد علی ایک جگہ لکھتے ہیں۔
’’ بد نصیبی سے مختلف النوع دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کے علاوہ خفیہ ایجنسیاں اور جرائیم پیشہ عناصر بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صحافیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ حامد میر پر حملہ کے بعد ان کے خاندان کی طرف سے اس حملہ کا الزام آئی ایس آئی کے سربراہ پر عائد کیا گیا۔’’
سید مجاہد علی ایک اور جگہ لکھتے ہیں۔
’’ توہین مذہب سے متعلق شقوں میں 295 سی پہلے دن سے ہی متنازع رہی ہے۔ اس شق کے تحت جن لوگوں کے خلاف مقدمہ قائم ہوا انہیں عدالتی فیصلے آنے سے پہلے ہی مجرم قرار دے کر نفرت اور حملہ کا نشانہ بنایا جا تا ہے۔۔۔۔ شیخو پورہ میں ایک نوجوان لڑکے نے پولیس اسٹیشن میں گھس کر ایک 65 سالہ احمدی کو قتل کر دیا۔ یہ شخص توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔ ۔۔۔۔ ملتان میں ایک ممتاز وکیل راشد رحمان کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے معاملہ میں ملوث ایک یونیورسٹی پروفیسر کے مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے۔ اس سے قبل پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی کو توہین مذہب کے قوانین میں مناسب تبدیلیاں کرنے کی بات کرنے پر قتل کیا جا چکا ہے۔ ۔۔۔۔ توہین مذہب کے قوانین گزشتہ دو دہایئوں کے دوران نا انصافی پر منتج ہو رہے ہیں۔’’
پاکستان میں علامہ اقبال کے سحر انگیز نوسٹیلجیا نے لوگوں کو تفاخرانہ خواب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کا شکار لوگ پدرم سلطان بود بن کر خود کو محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد سے کم تر نیہں سمجھتے۔ جہاد کا نعرہ بلند کرتے ھوئے لال قلعہ دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے خواب دیکھنا انکا محبوب مشغلہ ہے۔ دنیا کے حقائق سے بے خبر یہ لوگ ساری دنیا پر اپنے ذہن میں تخلیق کردہ من پسند اسلامی خلافت بزور طاقت ملسط کرنے کی نظریاتی تاویلیں گھڑتے رہتے ہیں۔ جیسے علامہ اقبال کا ایک شعر ہے۔
چین و عرب ھمارا ھندوستاں ھمارا ۰ مسلم ہیں ھم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
میرے خیال میں ایسی نظریاتی مخموری کا عالم اور خوابیدہ کیفیت شائد دنیا کے کسی اور ملک کے مسلمان میں نیہں پائی جاتی۔ لوگوں کو ماضی پرستی کے خواب سے جگانے کی کوشش کرنا اور سچائی کا آئینہ دکھانا نہ صرف اپنے خلاف کفر کے فتوے کو دعوت دینا بلکہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ بعض دانشور، صحافی، سیاستدان، مذہبی راہنما اور ریاستی ادارے ملکی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر نام نہاد نظریات کی آڑ میں سچائی اور حقایق کو مسخ کرکے پیش کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے زریعے ہمہ وقت یکطرفہ پراپیگنڈا کر کےعوام کے ذہنوں کو نطریاتی انتشار اور کنفیوژن سے پراگنداہ کرتے رہتے ہیں۔ نطریاتی قدغن، کمرشل مفادات اور خوف کی وجہ سے میڈیا، سچائی کو عوام تک پہنچانے سے گریز کرتا ہے۔
معروف صحافی سلیم صافی 29جولائی 2014 کے روزنامہ جنگ میں اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔
“انٹلیکچوئیل کرپشن کو معیار بنایا جائے تو مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ سب سے زیادہ کرپٹ ہم اہل صحافت ہیں۔ ہم سچ نیہں بول سکتے ہیں لیکن روز بولتے رہتے ہیں۔ اور سچ نیہں لکھ سکتے ہیں لیکن روز لکھتے رہتے ہیں۔ ہم نے قوم کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا ہے کہ اسے ہم پل پل کی خبر دیتے ہیں حالانکہ ہم اہم ترین اشوز سے متعلق باخبر کرنے کی بجائے ہم اسے بے خبر یا کنفیوژ کر دیتے ہیں۔
ھم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ اصلاٌ ملک کون چلا رہا ہے مگر ہماری تحریروں، تقریروں اور ٹاک شوز میں توپوں کا رخ کسی اور جانب ہوتا ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو ان دنوں ہمارے ٹی وی ٹاک شوز اس انٹیلکچوئیل کرپشن کے گندے تالاب کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ جس میں روزانہ بعض اینکرز، دانشور اور سینکڑوں سیاستدان نہاتے رہتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ ان ٹاک شوز کے ضمن میں پہلی فرصت میں تو ہم کسی حساس موضوع کا انتخاب نیہں کر سکتے۔ اور اگر کر لیں تو اس سے متعلق سچ نیہں بول سکتے۔ “
مگر سلیم صافی اس کالم میں یہ نشاندہی کرنے سے قاصر رہے یا یہ سچ اخبار میں چھپ نہیں سکتا تھا کہ وہ کون سی قوتیں، قوانین یا مفادات ہیں جو پرنٹ یا الیکٹرک میڈیا میں سچ لکھنے اور سچ بولنے سے روکتی ہیں۔ اور جن کی وجہ سے عوام کو بے خبر رکھنے یا کنفیوژ کرنے کا جرم کیا جا تا ہے۔ سلیم صافی جسے انٹلیکچویل کرپشن کہتے ہیں وہ دراصل نظریاتی پابندیاں اور طاقتور ریاستی اداروں کی مداخلت اور خوف ہے جو سچ لکھنے اور بولنے میں مانع ہیں۔ یہ بات اظہرمن الا لشمس ہے کہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا نعرہ، بعض مذہبی قوانین، ریاستی اداروں کا جبراور انتہا پسند مذہبی گروہوں کی شدت پسندی سچ لکھنے اور بولنے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بن چکی ہیں۔ جبکہ میڈیا مالکان کے معاشی مفادات، صحافیوں یا اینکرز کی جانبداری اور موقعہ پرستی سچائی بیان نہ کرنے اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے کے ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔
نجی میڈیا جس دلیری سے جمہوریت اور سیاست دانوں کی نا اہلی اور کرپشن پر شدید تنقید کرتا ہے، اسی قدر خوف اور جانبداری سے طاقت کے اصل مراکز ریاستی اداوں کو مقدس لبادہ پہنا کر انکی کارگزاریوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ یہاں یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی ہرج نیہں کہ طاقتور ریاستی اداروں پر جائز تنقید کا جمہوری حق استعمال کرنے سے چینلز کی بندش، اشتہارات کے محدود یا بند ہونے سے مالکان کو شدید معاشی نقصانات کا اندیشہ دامن گیر رہتا ہے۔ جبکہ صحافیوں کے اغوا، قتل یا قاتلانہ حملے جیسے مجرمانہ فعل سے دوچار ہونے کے امکانات کو بھی رد نیہں کیا جا سکتا۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نیہں ہے کہ میڈیا طاقتور انتہا پسند مذہبی فرقہ پرست گروہوں اور کراچی کی ایک سیاسی جماعت پر کھل کر تنقید کرنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتا۔ حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد جیو گروپ نے نہ صرف طاقت آزمائی کی سزابھگتی بلکہ اسے بے بسی اور عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ دیگر کئی چینلز نے کھل کر خفیہ ریاستی ادارے کی بیجا حمایت کرکے اور جیو کے خلاف محاذ آرائی شروع کرکے یہ ثابت کر دیا کہ نجی میڈیا ریاستی اداروں کے کتنا زیر اثر ہے اور ان کے خوف سے کس قدر آزاد ہے۔
بیان کئے گئے تمام تر حالات و واقعات کے باوجود نجی الیکٹرونک میڈیا کے اہم کردار سے انکار نیہں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں ایک وقت وہ بھی تھا جب اخبارات سنسر کی قینچی سے نیہں بچ سکتے تھے جبکہ صرف ایک سرکاری چینل پی ٹی وی ہر وقت سرکار کی ڈفلی بجاتا رہتا تھا اور عوام صرف اسے دیکھنے پر مجبور تھے۔
جدیدعلوم، سائنس اور ٹیکنولوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں ذہنی آزادی، فریڈم آف ایکسپریشن اینڈ تھاٹ پر قدغنیں مخصوص حالات یا وقت تک تو کارگر ثابت ہوسکتی ہیں مگر ایک غیرمعینہ طویل عرصہ تک یہ سلسلہ نیہں چل سکے گا کیونکہ جدید ٹیکنولوجی نے نہ صرف دنیا کے مواصلاتی فاصلے مختصر کر دئے ہیں بلکہ انہیں مٹا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عام لوگوں کی شعوری سطع، سوچنے سمجھنے اور حقائق کا کھوج لگانے کی صلاحیتوں میں بے مثال اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان سیاسی اور جمہوری عمل کی وجہ سے معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کے عوام فوجی آمریتوں کے خلاف جمہوری جدوجہد کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ ملک پر مسلط کردہ عقیدتی اور نطریاتی حدود کے باوجود باشعورعوام، دانشور، پیشہ ور صحافی، سول سوسائیٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ملک میں اظہار خیال پر عائد نظریاتی قدغنوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ریاسی جبر اور انتہا پسند مذہبی گروہوں کے خوف کے باوجود یہ آوازیں دن بدن توانا ہوتی جارہی ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری حقوق ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ اور یہ بات امید سے کہی جا سکتی ہے کہ میڈیا کے باشعورعناصر، صحافی اور انکی تنظیمیں ملک میں سچائی کو سامنے لانے اور آزادئ اظہار کے حقیقی حصول تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گئے۔ امید کی جانی چاہئے کہ جمہوری سیاسی جماعتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی بھی اپنا فرض بخوبی ادا کرتے رہیں گے۔
(ارشد بٹ ویژن فورم اوسلو کے صدر ہیں۔ انہوں نے یہ مقالہ 9 اگست کو اوسلو میں سید مجاہد علی کی کتاب میڈیا برسر پیکار کی تعارفی تقریب کے موقع پر پڑھا تھا۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس مقالہ کو یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مقالہ کی طوالت کی وجہ سے اسے دو اقساط میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کی پہلی قسط کل شائع کی گئی تھی۔ تعارفی تقریب کا اہتمام اوسلو کے پاکستان فیملی نیٹ ورک نے کیا تھا۔)