کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

  • بدھ 13 / اگست / 2014
  • 4823

ہم آزاد ہیں؟ یہ ایک ایسا فقرہ ہیں جو ہمیں اکثر ملی نغموں میں بھی سننے کو ملتا ہے اور مباحثوں میں بھی سننے کو ملتا ہے۔ کبھی حکومتی عہدیدار اپوزیشن کی تنقید کے جواب میںیہ راگ الاپ رہے ہوتے ہیں۔ اور کبھی اپوزیشن کے کرتا دھرتا حکومت کی ٹانگ کھینچنے کے لیے اس فقرے کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کسی نے آزادی کے اصل مفہوم کو سمجھنے کی زحمت نہیں کی۔ ہم ایک آزاد ملک تو کہلواتے ہیں لیکن آج تک ہم ایک آزاد قوم نہیں بن سکے۔ ہم اجتماعی طور پر آج بھی ان دیکھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہی زنجیریں انفرادی سطح پر بھی ہمیں اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔

مختلف ادوار میں آزادی کی مختلف تعریف کی گئی۔ آزادی کے لیے انگریزی زبان میں فریڈم کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے اور انڈیپنڈنس کا بھی۔ ان زبان کے قاعدوں کے حساب سے دیکھا جائے تو ان الفاظ میں کچھ فرق ہو سکتا ہے لیکن استعمال کے حوالے سے ان دونوں میں فرق بہت کم ہے یا کم محسوس کیا جاتا ہے۔ ان دونوں لفظوں کا جائزہ لیں تو فریڈم بظاہر ایک ایسی اصطلاح ہے جواس وقت استعمال میں لائی جا سکتی ہے جب کوئی فرد یا قوم کسی کے زیر تسلط ہو اور اس تسلط سے بزور طاقت یا دیگر ذرائع کی مدد سے آزادی حاصل کرے ۔ یا یوں کہہ لیں کہ ایک جابرانہ نظام سے نکلنے کو فریڈم کہا جا سکتا ہے۔ جب کہ انڈیپنڈنس کی اصطلاح کا ظاہری مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ سیاسی، سماجی یا معاشی حوالے سے کسی مخصوص گروہ یا ملک پر انحصار کر رہے ہیں اور پھر آپ خود کو اتنا مضبوط کر لیتے ہیں یہ انحصاری ختم کر دیتے ہیں۔ یعنی آپ مخصوص حوالوں سے کسی بھی گروہ یا ملک پر انحصار ختم کردیتے ہیں۔ اور خود انحصاری کی طرف قدم بڑھا تے ہیں۔

آزادی کے حصول میں بعض اوقات پرتشدد راستہ اپنانا پڑتا ہے اور کبھی پر امن طریقے سے ہی آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔ امریکہ کی 1775 سے 1783 تک آزادی کی جنگ پر تشدد جہدوجہد تھی جو جارج واشنگٹن کی سربراہی میں لڑی گئی۔ جدید دور کا جائزہ لیں توچین حقیقی آزادی کی روشن مثال ہے۔ 1949 ء سے چین نے آزادی کی دونوں اصطلاحوں کو حقیقی طور پر اپنایا۔ اسی طرح ملائشیانے 1957 ء میں آزادی کے بعد دنیا کو آزادی کی اصل تعریف بتائی کہ کیسے ایک تسلط سے آزادی کے ساتھ ساتھ خود انحصاری بھی اپنائی جاتی ہے۔

اب وطن عزیز کی صورت حال کا جائزہ لیجیے۔ ہم نے 1947ء میں ہندو قیادت کی مخالفت کے باوجود ایک الگ وطن حاصل کیا۔ محمد علی جناح اس جہدوجہد میں قائد اعظم بن کر ابھرے یعنی سب سے بڑے قائد اور انہوں نے اس لقب کی لاج بھی رکھی۔ اپنے ایک بزرگ سے جب آزادی کی تعریف پوچھی تو ان کا جواب تھا کہ “ جب میں گرداسپور سے اپنے والد کے کندھوں پر سوار ہو کر نئے وطن کی طرف آ رہا تھا تو راستے میں ہندوؤں اور سکھوں کے مسلح جتھوں نے ہمیں گھیر لیا اور ہمیں ایک دوسرے کی پشت کے پیچھے قطار میں کھڑا ہونے کو کہا ۔ اس سے ان کا مقصد گولیاں بچانا اور ایک گولی سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شہید کرنا تھا۔ اسی اثناء میں ایک سکھ ہمیں تلاشی کے بہانے قطار سے نکال کر لے گیا اور کچھ دور لے جا کر ہمیں بھاگ جانے کا کہا۔ اس طرح ہم موت کے سائے میں نئے وطن پہنچ گئے۔ میرے نزدیک یہ آزادی تھی۔“

ایک عام آدمی نے تو 1947ء میں آزادی حاصل کر لی لیکن ہماری حکومتیں اور سیاستدان آج تک بیرونی تسلط،اور دوسروں پر انحصار کرنے سے آزادی حاصل نہیں کر پائے۔ بلکہ ہم 1950ء میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(IMF) کے رکن بننے کے بعد 1958 میں 25 ملین امریکی ڈالر کے قرضے کامعاہدہ بھی کر بیٹھے۔ یعنی ہم نے ابتدائی دنوں سے ہی دوسروں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ ہم نے اپنی مملکت کو ایک آزادریاست بنانے کے بجائے خود کو ایک بلاک میں شامل کرنے کو ترجیح دی ۔اور ابتداء میں ہی خود کو امریکی بلاک میں شامل کر کے موجودہ روس کی مخالفت اپنا لی۔ جب کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے چین اور ملائشیا جیسے ملکوں نے خود کو ایک متوازن پالیسی پر رکھا اور عملی طور پر خود کو کسی بلاک کا حصہ نہیں بنایا۔لیکن ہم ایسا نہ کر سکے۔

قائد اعظم کو تو زندگی نے مہلت نہ دی ۔ قائد ملت بھی زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے۔ ان کے دورہ امریکہ کے بعد آنے والے سیاستدانوں نے بھی خود کو ایک خول میں رکھا۔ ایوب خان تک یہی صور ت حال رہی۔ایوب خان کے جانے کے بعد بھٹو آئے ۔ انہوں نے پاکستان کو اس مخصوص بلاک سے نکالنے کی کسی حد تک کوشش کی جس کا واضح ثبوت اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اور پاکستان سٹیل ملزکا قیام ہے۔ اس وقت کے سوویت یونین نے یہ عظیم منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پاکستان کی مدد کی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے خود کو ایک مخصوص بلاک سے قدرے الگ کیا۔ لیکن ہم زیادہ دیر تک خود کو ترقی کی راہ پر گامزن نہ رکھ سکے ۔ ضیاء صاحب کے آنے کے بعد ہم دوبارہ سے امریکی بلاک کی طرف لوٹ گئے۔ پھر میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہوا کردار تبدیل ہوتے رہے لیکن امریکی سائے میں ہی تبدیلی کا یہ کھیل جاری رہا۔ صرف ایک دفعہ 1998ء میں کچھ وقت کے لیے ہم امریکی دباؤ سے باہر نکلنے میں کسی حد تک کامیاب رہے اور ملک ایٹمی قوت بن گیا۔ لیکن یہ بہت تھوڑا عرصہ تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے ہم پھر امریکی تسلط میں آگئے۔ اور آج تک اسی تسلط میں ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہم نے خود کو کسی مخصوص عالمی بلاک یا ملک کے تسلط سے الگ کر کے رکھا ہم نے ترقی کی۔ منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم ، پاکستان سٹیل ملز، ملک کا ایٹمی قوت بن جانا ، سب مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ یہ تمام منصوبے اس وقت تکمیل کے مراحل میں پہنچے جب ہم نے ایک متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی ۔ جب کہ ایک مخصوص بلاک کے زیر اثر رہتے ہوئے ہم آدھا ملک گنوا بیٹھے۔ 65ء میں ہم ایک آزاد قوم کی حیثیت سے لڑے اور فتح ہمارا مقدر ٹھہری۔ 71ء میں ہم اغیار کے بیڑے کے انتظار میں ملک تڑوا بیٹھے۔ساتھ ہی سویت یونین نے بھی پہلا دورہ نہ کرنے کا غصہ نکالا۔کیوں کہ سویت یونین کی بجائے امریکہ کا دورہ کرنے سے سویت یونین لیاقت علی خان کے دور سے ہی ہمارے خلاف ہو گیا تھا۔

ہم یوم آزادی کی خوشی میں سینوں پہ ہلالی پرچم تو سجا رہے ہیں لیکن دل میں ایک لمحے کے لیے یہ سوچنا گوارا نہیں کرتے کہ ہم آزادی کے ہر معنی کے لحاظ سے ابھی مکمل آزادی حاصل نہیں کر پائے اور جزوی آزادی کو ہی غنیمت تصور کیے بیٹھے ہیں۔ کاش ہم اس دن کو یوم عہد کے طور پر منا سکیں۔ کاش ہم آزادی کی اصل روح کو پہچان پائیں۔ کاش ہم یہ جان پائیں کہ زمین کا ایک مخصوص ٹکڑا حاصل کر لینا آزادی نہیں۔ بلکہ آزادی فکری طور پر ہر فیصلہ اپنی مرضی کے مطابق کرنے کا نام ہے۔ آزادی یہ ہے کہ کوئی غیر ملکی قوت ہمیں کسی فیصلے پر مجبور نہ کر سکے۔ نہ ہی ہم کسی بھی ضرورت کے لیے اغیار کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ یہ اصل آزادی ہے۔

ہمیں اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنا چاہئیے کہ کیا ہم آزادی کے کسی بھی مطلب پر پورا اترے ہیں؟کیا ہم اس مملکت کے تمام فیصلے کرنے میں آزاد ہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں اس یوم آزادی پر فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم آنے والی نسل کو کیا ایک ایسا پاکستان دیں گے جو مکمل طور پہ آزاد ہو گا۔ جس کا کوئی فیصلہ بیرونی دباؤ میں آکر نہیں کیا جائے گا۔ جس کی ہر پالیسی وطن عزیز کا مفاد دیکھتے ہوئے بنائی جائے گی نہ کے غیروں کے کہنے پر۔