میڈیا بر سرِ پیکار
- بدھ 13 / اگست / 2014
- 4569
سید مجاہد علی کی کتاب " میڈیا بر سرِ پیکار " کوئی مہینہ بھر پہلے جولائی کے اوائل میں مل گئی تھی مگر میں اپنے دوست ڈیکے کی میزبانی میں مصروف تھا ۔ ڈیکے میرے بہت ہی پیارے ترکی نژاد دوست درویش کبیر ہیں جنہیں میں نے حضرت ڈی کے کا جدید نام دے رکھا ہے ، جو اُنہوں نے با دلِ خواستہ قبول کر لیا ہے اور وہ یوں کہ جب میں اُنہیں قبلہ ڈیکے کہ کر مخاطب کروں تو وہ فوراً رسپانس دیتے ہیں اور آنکھیں کھول کر پوری نو کلو گرام مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں ۔
جولائی میں وہ مجھے بتا رہے تھے کہ " ابدال" کا مرتبہ کیا ہے اور اُس مرتبے تک رسائی کے لیے کون کون سی ریاضت کرنی پڑتی ہے :
1 ۔ عزلت
2۔ صمت
3۔ جوع
4 ۔ صبر
یہ وہ نصابی اسباق ہیں جو درویش کو ابدال بناتے ہیں مگر اس کے لئے خود سے بر سرِ پیکار ہونا پڑتا ہے ۔ جہادِ اکبر میں شرکت کرنی پڑتی ہے ۔ قبلہ ڈیکے نے برسرِ پیکار کی ترکیب کچھ اس طرح زور دے کر متعدد بار دوہرائی ، گویا وہ مجھے کچھ یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہوں ۔ میں نے ذہن پر زور دیا تو " میڈیا بر سرِ پیکار " کا عنوان یاد آیا اور عنوان سے کتاب یاد آ گئی اور پھر ورق ورق کھلنے لگی اور کھلتی چلی گئی ۔
" میڈیا بر سرِ پیکار" اُس معاشرت کا منظر نامہ ہے جو خانہ جنگی میں مبتلا ہے ۔ یہ کتاب اس خانہ جنگی کے بحران میں ٹوٹتے بکھرتے انسانی رشتوں کا نوحہ ہے جسے سید مجاہد علی نے بڑی چابک دستی اور ہنر وری سے مرتب کیا ہے ۔ اس کتاب کو پڑھ کر آج کے پاکستان کی پوری صورتِ حال ایک فیچر فلم کی طرح کاغذ کے صفحات پر چلنے لگتی ہے ۔ بیان اتنا دلکش ، مؤثر اور سحر انگیز ہے کہ مجھ ایسے قاری کو مبہوت کئے دیتی ہے ۔ ایک ایک جملے میں احساس اور بصیرت کی شدت ہے ۔
یہ کتاب اُن مضامین کا مجموعہ ہے جو مدیرِ " کارواں" نے اپنے آن لائن جریدے کے لئے لکھے ہیں ۔ ان مضامین میں صحافی برادری ، میڈیا مالکان ، پیمرا اور حکومتی نمائندوں کی سائیکی کا تجزیہ جس انداز میں کیا ہے ، اُس نے اس کتاب کو ایک اہم تاریخی دستاویز بنا دیا ہے ۔ میڈیا کے کردار ، کارکردگی اور کوتاہیوں کے بارے میں لکھے گئے مضامین پر مشتمل یہ کتاب غیر جانبداری اور پوری دیانتداری سے لکھی گئی ہے ۔
کتاب کے پیش لفظ میں مصنف نے ایک طرح سے کتاب کے مندرجات کی تلخیص بھی رقم کر دی ہے۔ لیکن الگ الگ مضامین میں جس طرح میڈیا اداروں کے مالکان ، حکمرانوں اور مختلف حساس اداروں کی بضاعتی اور کم مائگی کی کہانی بیان کی گئی ہے ، وہ بلا شبہ فکری جرات مندی اور قلمی نجابت کا واضح نشان ہے ۔ " آزادی ء صحافت کے دن " کے عنوان تلے وہ صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے ، یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں :
" صحافیوں میں دوہری وفاداری رکھنے والوں ، کسی ایک گروہ کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں ، اظہار کو تجارتی مفاد کا محتاج کرنے والوں ، اور قومی سلامتی کو ایک خود ساختہ توضیح کے ماٹو کے طور پر پیش کرنے والوں کی کمی ہے ، نہ ایسے لوگوں اور اداروں کی کمی ہے جو چند لاکھ روپوں کے عوض صحافت کا شناخت نامہ حاصل کرتے ہیں ، اور پھر اس سرمایہ کاری کا فائدہ اُٹھا نے کے لیے اس شناخت کو ہر طرح فروخت کرتے رہتے ہیں " ۔
یہ وہ کلیدی تجزیاتی بیان ہے جو اس معاشرے کے مراعات یافتہ سرکاری ، غیر سرکاری ، مذہبی ، عسکری اور تجارتی شعبوں پر صادق آتا ہے کہ پاکستان میں ہر شعبہ ء زندگی کے لوگوں نے جہاں داؤ چلا ، وہاں اپنی شناخت کو بیچا اور اپنے ضمیر کا سودا کر کے حرام کمایا اور اُس پر حلال کا لیبل لگا کر شرعی مولویوں سے اُسے پاس بھی کروا لیا ۔
یہ وہ باتیں ہیں جو پاکستان میں اس بے باکی سے نہیں کہی جا سکتیں ۔ مگر کیوں؟ اس لیے کہ وہاں سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں ۔ بیشتر دامن داغدار ہیں ۔ اور اُن میں وہ بھی شامل ہیں جو دن رات شریعت کی چھلنی میں صادق امین چھانتے رہتے ہیں ۔ سید مجاہد علی نے صرف چند مخصوص شعبوں کی کارکردگی کو ہی موضوع نہیں بنایا بلکہ حساس ادروں کی ناک میں بھی مور کے پر سے سرسراہٹ کی ہے ۔ ذرا یہ جملے دیکھیے :
" ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل شجاع پاشا سے منسوب اس بیان پر پاکستان کے صحافی سیخ پا ہیں کہ پاکستانی صحافی شراب ، عورت اور غیر ملکی دورے کے عوض بک جاتے ہیں " ۔
یہ پڑھ کر میں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور مجھے کمپنی کی حکومت کے زمانے کے برطانوی وزیرِ اعظم سر رابرٹ والپول یاد آئے ، جنہوں نے سیاسی کاروبار کے ضمن میں ایک بڑی پتے کی بات کہی تھی ۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ ہر آدمی کی ایک قیمت ہوتی ہے ، جسے ادا کرنے کے بعد اس سے ہر کام لیا جا سکتا ہے ۔
جعفر از بنگال و صداق از دکن
نننگِ دنیا ، ننگِ دیں ، ننگِ وطن
۔۔۔۔۔ اقبال ۔۔۔
کتاب میرے ہاتھ میں رہی لیکن ذہن کہیں بہت دور ماضی میں گم ہو گیا ۔ وہاں جہاں لحد مکانی جنرل یحیٰ خان اسلام آباد کے تخت پر متمکن ہیں ۔ اُن کی مے نوشی اور دادِ عیش کی کہانیاں کبھی پورے عالمِ اسلام کو شرما گئی تھیں ۔ تب میں نے مذکورہ صحافیوں کا جنرل پاشا اور اُن کے ہم منصب جرنیلوں کےکردار سے موازنہ کیا تو مجھے حافظ شیرازی یاد آگئے اُن کا ایک شعر معمولی ترمیم کے ساتھ عرض کرتا ہوں :
جنرلاں ، کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند
چوں بخلوت می روند آں کارِ دیگر می کنند
سید مجاہد علی نے کمال زیرکی سے ایسے نازک موضوع پر بڑی صراحت سے اپنا نقطہ ء نظر بیان کیاہے جو اس کتاب کا اہم ترین حصہ ہے ۔ یہ سیاسی سماجی تجزیاتی رپورٹیں ایک بالغ نظر صحافی اور تجربہ کار مدیر کا فکری اثاثہ ہیں جن میں پاکستان سے لگن ، وابستگی اور محبت صاف عیاں ہے ۔ وہ اپنی صحافی برادری کی بہتری کے بھی خواہاں ہیں اور اُن کی صلاحیتوں کا فروغ چاہتے ہیں ۔ انہوں نے علی الوجہ البصیرت پاکستانی صحافیوں کی بہتری کے لیے تجاویز بھی مرتب کی ہیں : ذرا ان میں سے ایک تجویز دیکھیے :
" صحافیوں کی اخلاقی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کورسز اور سیمینار کا اہتمام کیا جائے ، اور ان میں انڈسٹری کے سب صحافیوں کو بلا تخصیص شرکت کا موقع ملنا چاہیے ۔ اس قسم کے سیمینار کو محض شناسا چہروں کا علامتی گیٹ ٹو گیدر یا تقریب بہر ملاقات نہیں بننا چاہیے " ۔
اگر میں صحافت کا طالب علم ہوتا تو اس کتاب کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا تھا مگر بطور قاری اس کتاب نے مجھے اپنی معلومات کو نئے انداز میں دیکھنے کا سجھاؤ دیا ہے جس کے لیے میں سید مجاہد علی کا شکر گزار ہوں ۔
یہ کتاب ایک چھوٹی سی گائیڈ بک سہی مگر نوعیت کے اعتبار سے یہ آج کے پاکستان کو درپیش مسائل کی پوری نشان دہی کرتی ہے ۔ یہ ایک مکتوب ہے جس کے مندرجات کی سنگینی پرانے زمانے میں بھیجے گئے ٹیلیگراف میسج کی طرح ہے اور ایک سو پینتیس صفحات کی یہ ضخامت پورے سرسٹھ سال پر محیط پاکستان کا شناختی کارڈ ہے جسے پڑھ کر پورے پاکستان کا حال جانا جا سکتا ہے کہ اس ملک نے ساڑھے چھ دہائیوں میں ترقی کے کتنے زینے طے کیے ہیں ۔
یہ کتاب پاکستان میں لاہور کے اشاعتی ادارے جمہوری پبلیکیشنز نے شائع کی ہے اور پاکستان میں اس کی قیمت ساڑھے تین سو روپے رکھی گئی ہے ۔ کتاب کا کاغذ البتہ نارویجین معیار کے مطابق نہیں مگر متن اور مندرجات بہت قیمتی ہیں ۔ میں اس کتاب کو ریفرنس بک کے طور پر اپنے پاس رکھ رہا ہوں ۔ اور توقع رکھتا ہوں کہ سید مجاہد علی اپنے پورے تحریری اثاثے کو کتابی شکل میں مرتب کر کے شائع کریں گے اور آنے والے دنوں میں اس طرح کی مزید کتابیں پڑھنے کا موقع ملے گا ۔