یوم آزادی یا یوم احتجاج

  • جمعرات 14 / اگست / 2014
  • 4329

پاکستان کا 67 واں یوم آزادی ملکی تاریخ میں پہلی بار مکمل طور پر یوم احتجاج میں بدل گیا ہے۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں یوم آزادی دب کر رہ گیا ہے اور یوم احتجاج زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ حکومت نے اس احتجاج کو زائل کرنے کے لیے اگست کا پورا مہینہ بطور ماہ آزادی منانے کا اعلان کیا تھا لیکن لگتا ہے کہ یہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی تجویز تھی جسے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ، وفاقی کابینہ، حکومتی مشینری اور حکمران مسلم لیگ (ن) نے محض ایک سرکاری اعلان سے آگے نہیں بڑھایا۔

چنانچہ اس پورے ماہ کے دوران صرف سڑکوں۔ شاہراہوں۔ اور سرکاری عمارات پر پاکستانی پرچم لگانے سے زیادہ کچھ نہیں ہؤا۔ البتہ کچھ سرکاری اہلکاروں اور مسلم لیگ (ن) کے کاروباری لوگوں کو ان پرچموں کی طباعت اور انہیں سڑکوں پر لگانے کی آڑمیں کچھ مال بنانے کا موقع ضرور مل گیا ۔ حکومت سرکاری پریڈ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی۔ صرف خواجہ سعد رفیق ریلوے کے خرچے پر اور ریڈکریسنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی اپنے طور پر آزادی مارچ۔ شہداء کے لیے شمعیں جلانے ، ایمبولینس فلیگ مارچ اور ملی نغموں کے چھوٹے موٹے پروگرام کرا رہے ہیں۔ وہ بھی صرف ایک دن پہلے۔

باقی وزراء اور حکومتی جماعت یا تو سوئی پڑی ہے یا  طاہر القادری اور عمران خان کے احتجاج سے خوفزدہ ہوئی بیٹھی ہے۔ بلاشبہ اس یوم آزادی کو یوم احتجاج میں بدلنے کے لیے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے بڑی کوششیں اور محنت کی ہے۔ وہ طویل عرصہ سے اس کے لیے کام کر رہے تھے اور فضا بنا رہے تھے لیکن اس خوشی کے موقع کو یوم احتجاج میں بدلنے کا اصل سہرا حکومت وقت اور حکمران مسلم لیگ (ن) کے سر ہے۔ جس نے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے اعلانات کو ہوا میں اڑا دیا اور جب احتجاج کا پورا سٹیج سج گیا تو روتے دھوتے بلکہ گڑ گڑاتے ہوئے ان اقدامات کا اعلان کردیا جن کی ان سے توقع بھی نہیں کی جا رہی تھی۔ لیکن اس بار گیند طاہر القادری اور عمران خان کے کورٹ میں تھی جنہوں نے صرف 15 منٹ بعد ہی حکومتی پیش کشوں کو انتہائی تحقیر کے ساتھ ٹھکرا کر گیند گراؤنڈ سے ہی باہر پھینک دی۔

حکومتی اعلیٰ دماغوں کا خیال تھا کہ وہ ٹاک شوز میں طاہر القادری کا مذاق اڑا کر اور اپنے محبوب چینل جیو پر عمران خان کے خلاف مہم چلا کر اس تحریک کو ڈی فیوز کر دیں گے۔ اگر پھر بھی ضرورت پڑی تو ریاستی مشنری کے ذریعے معاملے کو دبا کر کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہ ہو سکیں اس لیے کہ اس سیاسی تحریک کو روکنے کے لیے حکومت نے نہ تو اپنی پارٹی کو متحرک کیا اور نہ کسی سے مشاورت کو ضروری سمجھا۔ پارٹی کارکن پہلے ہی حکمرانوں سے ناخوش تھے۔ کابینہ میں اسحاق ڈار، پرویز رشید اور عابد شیر علی کے علاوہ وزیر اعظم کسی کو گھاس نہیں ڈالتے۔ جو مشاورت ہوتی ہے اسے شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنی ویٹو پاور کے ذریعے تبدیل کر دیتے ہیں۔

چنانچہ حکومت نے عمران خان کو نظر انداز کرنے اور طاہر القادری کو سبق سکھانے کی پالیسی اپنا لی۔ جو اب عمران خان سے نرمی سے اور طاہر القادری سے سختی سے نمٹنے کی پالیسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ حالانکہ کسی حکومتی دماغ نے یہ نہیں سوچا کہ ایک معاملے کو دو مختلف انداز سے نمٹنے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ دوسرے اس پالیسی سے حکومتی رٹ بالکل ختم ہو جائے گی جو پہلے ہی بہت ناکافی ہے۔

ایک پارٹی کے ساتھ نرمی حکومتی بزدلی اور دوسری پارٹی کے ساتھ سختی کی پالیسی حکومت کا ظالمانہ چہرہ عوام کے سامنے لائے گی۔ میڈیا اپنی فوٹیج کے ذریعے اس تاثر کو مستحکم کر دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہؤا اور یہ حکومتی پالیسی پہلے مرحلے میں ہی ناکام ہو گئی ہے۔ 17 جون کو پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے سازشی اور خون خرابے سے بھر پور ذہن کے اس منصوبے پر عمل کیا جس کے لیے صوبائی وزیر قانون راناء ثناء اللہ ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر، پنجاب کے بعض پولیس افسروں اور وزیر اعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد نے منصوبہ بندی کی تھی۔

چنانچہ رکاوٹیں اور بیریئرز ہٹانے کے نام پر پنجاب کی سفاک پولیس اور گلو بٹ جیسے کرداروں کے ذریعے 14 بے گناہ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ اور وزیر اعلیٰ نے پہلے اپنی لا علمی کا اظہار کیا او ر بعد میں کہا کہ انہوں نے آپریشن روکنے کا حکم دیا تھا۔ جسے کوئی ذی عقل شخص تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ساتھ ہی رانا ثناء اللہ ، ڈاکٹر توقیر اور بعض انتظامی افسروں کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس سانحہ میں مرنے والے ہر شخص کے لیے تیس لاکھ روپے معاوضے کا اعلان بھی کیا جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مرنے والوں کے ورثاء نے لینے سے انکار کر دیا اور اب تک کسی ایک نے بھی یہ خطیر رقم لینے پر آمادی ظاہر نہیں کی۔

اس جذبے کا اظہار 10 اگست کو اس سانحہ کے شہدا کے لیے یوم شہداء منانے کے موقع پر ہؤا۔ جب حکومت نے پورے پنجاب کو سیل کر دیا۔ پٹرول پمپوں کو بند کر کے شہریوں کو گھروں میں مقید کر دیا اور ہر شہر سے آنے والے منہاج القرآن کے قافلوں کو لاہور نہ آنے دیا۔ شاید یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب یوم شہدا کے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے اس حکومت کے لیے سخت ترین بددعا کرائی اور ہزاروں حاضرین نے اس پر گڑ گڑا تے ہوئے آمین کہا۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ ایسا تو ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے پہلے دو ادوار میں بھی نہیں ہؤا تھا۔ ان حکمرانوں کے خلاف تحریکیں ضرور چلی تھیں لیکن عوام نے اجتماعی بددعائیں نہیں کی تھیں۔ اس لیے اس روز ایک سادہ بزرگ نے راقم سے کہا تھا کہ اتنی بددعاؤں کے بعد کسی حکومت کے باقی بچنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ لیکن حکمران اپنی سابقہ پالیسی پر قائم رہے۔ یہاں تک کے وزیر اعظم کو 12 اگست کی رات قوم سے خطاب کرنا پڑا۔

ایسے موقع پر وزیر اعظم کا قوم سے اچانک خطاب ویسے ہی حکومتی کمزوری کا اظہار تھا۔ پھر وزیر اعظم نے یوم پاکستان، ضرب عضب اور آئی ڈی پیز کے حوالے سے صرف دو جملے کہنے کے بعد جب ملک میں سیاسی ابتری کی بات شروع کی تو ان کے الفاظ اور جملوں کے ساتھ ساتھ ان کی باڈی لینگویج اور چہرے کے تاثرات بھی حاکم وقت اور حکمران جماعت کی کمزوری اور بے بسی کا واضح اعلان کر رہے تھے۔

وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کچھ رونے روئے ۔ کچھ حکومتی کارنامے بیان کئے اور باقی وہ پیش کش کی جو ان کے ساتھیوں کے نزدیک بڑی انقلابی پیش کش تھی اوراس سے حکومت مخالف ساری تحریک دھڑام سے زمین پر آ گرنے والی تھی۔ لیکن یہ پیش کش صرف 15 منٹ بعد عمران خان نے وزیر اعظم کے منہ پر دے ماری۔ اپنی تقریر میں جو پرویز رشید، فواد حسن فواد، خواجہ آصف کرمانی جیسے لوگوں نے عرفان صدیقی سے لکھوائی تھی، اس کی تیاری کے لیے وزیر اعظم نے نہ کابینہ سے مشورہ کیا نہ مسلم لیگی رہنماؤں سے۔ نہ حکومت میں شامل جماعتوں کو اعتماد میں لیا نہ حریف جماعتوں کو بریف کیا۔

چنانچہ اس میں مصالحتی کوششیں کرنے والی جماعت اسلامی اور اس کے امیر کا کوئی تذکرہ تھا نہ 17 جون کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مذمت۔  طاہر القادری نے اسے ’’حکومتی ترقی و حوشحالی‘‘ کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ جب کہ  سراج الحق کی عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ملاقاتیں بھی اکارت گئیں۔

تجزیہ نگار پہلے ہی یہ رائے دے چکے تھے کہ وزیر اعظم کی پیش کش بہت دیر سے آئی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس دوران ایک دو واقعات نے حکمرانوں اور حکمران مسلم لیگ کی ساکھ کو بہت دھچکا پہنچایا۔ ایک طرف حکومت نے منہاج القرآن کے گرد کنٹینرز لگانے اور قافلوں کو لاہور آنے کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مسلم لیگی کارکنوں نے 11 اگست کی شام لاہور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔ دو ہزار کے قریب مظاہرین نے اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری کو برا بھلا کہا گیا۔ انہیں غدار اور پاگل قرار دیا جب کہ مقررین انہیں سبق سکھانے کی بڑھکیں مارتے رہے۔

اگلے روز عمران خان کی رہائش گاہ کے سامنے مسلم لیگی کارکنوں اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی ہلکی سی جھڑپ بھی ہوئی۔ تاہم وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے کارکنوں کو اشتعال میں نہ آنے کی ہدایت کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا۔ مسلم لیگ کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کے رانا مشہود جیسے ساتھی اور انتظامی افسران اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔

10 اگست کو یوم شہداء کے موقع پر تمام چیلنز نے  طاہر القادری کے خطاب کو براہ راست ڈیڑھ گھنٹے تک دکھایا جب کہ اس سے قبل چودھری شجاعت، چودھری پرویز الٰہی، شیخ رشید، ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل، راجہ ناصر عباس، اور صاحبزادہ حامد رضا کی تقاریر بھی براہ راست ٹیلی کاسٹ کیں۔ جس پر حکومتی وزراء اور مسلم لیگی رہنما بڑے مشتعل ہوئے۔ اور وزیر اطلاعات پرویز رشید نے جو جیو کی حمایت میں فوج اور آئی ایس آئی تک سے لڑائی میں الجھ گئے تھے۔ اس موقع پر جیو پر برس پڑے اور یہ سوال اٹھایا کہ ایک چھوٹا سا کمرشل بھی نہ چھوڑنے والے جیو نے ڈیڑھ گھنٹے تک اس شخص کی تقریر کیوں دکھائی جسے ان کے بقول کسی سائیکاٹرسٹ کو دکھانا چاہئے۔

اس ساری صورتحال نے حکومتی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ عمران خان حکومت، الیکشن کمیشن اور جسٹس افتخار چودھری کے خلاف زیادہ متحرک اور مشتعل نظر آتے ہیں جب کہ ان کے اگلے اہداف شہری ہوا بازی کے مشیر شجاعت عظیم اور نادرا کا ادارہ لگتے ہیں۔ لاہور کے دانشور ور حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اس وقت بہت کمزور وکٹ پر ہے۔

عمران خان اور طاہر القادری کی موجودہ تحریک طویل بھی ہو سکتی ہے اور اس میں مزید سیاسی جماعتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ خصوصاً پیپلز پارٹی جو خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے اچانک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں اتر سکتی ہے۔ دانشور حلقے موجودہ صورتحال کو 1977ء کے حالات سے تشبیہ دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ملک کا 67 واں یوم آزادی یوم احتجاج میں بدلنے کی ذمہ داری حکومت پر ہے جس کی نالائقیوں کی وجہ سے ملک کسی بحران سے دو چار ہو سکتا ہے۔