افسوس صد افسوس
- جمعہ 15 / اگست / 2014
- 4551
عمران خان کی انتھک جدوجہد سے بلا شبہ تحریک انصاف پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک بڑی جماعت کا مسلمہ درجہ حاصل کر چکی ہے اور عمران خان ایک ایسے واحد لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں جن کے دامن پر کرپشن کا کوئی دھبہ موجود نہیں۔
انہوں نے مخالفین کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اپنی سوچ اور مقصد قائم رکھا ہؤا ہے اور جہد مسلسل سے آج اسلام آباد کے ایوانوں کو دہلا رہے ہیں۔ ملک کے نوجوانوں کا بڑا طبقہ انہیں دیوانہ وار چاہتا ہے اور اسی تازہ خون کو ساتھ لے کر وہ دارالحکومت کی دہلیز پر کھڑے نواز شریف اور جمہوری حکومت کو للکار رہے ہیں۔
14 اگست کو جو لوگ سڑکوں پر نکلے انہیں کلی طور پر جمہوریت مخالف نہیں کہا جا سکتا بلکہ لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اس فرسودہ اور گلے سڑے نظام کی تبدیلی کے لئے گھروں سے باہر آئی۔ پاکستان میں موجود شخصی سیاست اور نظام برسہا برس سے غریب عوام کا خون چوس رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے ہم پر کبھی کوئی خاندان مسلط ہوتا ہے تو کبھی کوئی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ جمہوریت موجودہ دنیا کا بہترین نظام تسلیم کیا جاتا ہے مگر پاکستانی جمہوریت کا مقابلہ دنیا کی ترقی یافتہ جمہوریتوں سے کسی طور نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان جیسی شخصی حکمرانی ماڈریٹ ممالک میں کہیں نظر نہیں آتی۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی جمہوریت ہے۔ کسی جماعت کو دوسری جماعت کی جمہوریت پسند نہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ملک میں آئے روز مائیں بچوں سمیت نہروں اور دریاؤں میں چھلانگیں لگا کر زندگی کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کر رہی ہیں اور عوام کی بڑی تعداد روٹی، صاف پانی، صحت اور تعلیم کے حصول کیلئے خود کو خرچ کرنے پر مجبور ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف ایک بار پھر اپنے پرانے ادوار حکومت کی غلطیاں دہراتے ہوئے خود کو اس مقام پر لے آئے ہیں جہاں وہ خود کو ممکنہ طور پر اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے افسوسناک منظرنامے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ 2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان کی دھاندلی کے خلاف مسلسل چیخ و پکار پر کان نہ دھرنے کی وجہ سے آج حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ وہی وفاقی وزرا جو کل تک تحریک انصاف اور اس کے سربراہ کی تضحیک کرتے ہوئے نہیں جھجکتے تھے آج مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ اگر ان وزرا کی زبان بندی اسی وقت کر کے افہام و تفہیم کا راستہ اپنایا جاتا تو یقیناًآج حالات مختلف ہوتے۔
اب اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی کا عمران خان کا دعویٰ کافی حد تک درست ہے اور وزیراعظم کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ موجودہ الیکشن شفاف ترین تھے اور مبصرین نے ان پر شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کیا۔ بات تو یہیں سے صاف ہو جاتی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھرے ایوان میں تسلیم کیا کہ جس حلقے کو بھی کھولا جائے گا ہزاروں کی تعداد میں ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو پائے گی۔
انتخابی دھاندلی کے خلاف مارچ اپنی جگہ پر اٹل حقیقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے مگر اس سے خطرناک بات حسب روایت نواز شریف کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مسلسل چپقلش ہے۔ یہ ٹکراؤ کسی بھی فریق کے لئے سود مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نواز شریف اس امید پر کہ فوج غیرجانبدار رہے گی تحریک انصاف کو لفٹ کرانے پر تیار نہیں جبکہ سیاسی حلقوں میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ مارچ کی پشت پناہ تیسری قوت ہے۔
پچھلے ادوار کی طرح اس بار بھی نواز شریف کا مطلق العنانہ رویہ، سرمایہ دارانہ پالیسیاں اور اقرباپروری کے الزامات عوام کی ناراضگی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے علاوہ طاہرالقادری بھی ایک بار پھر میدان عمل میں اتر آئے ہیں اور اسلام آباد میں انقلاب برپا کرنے کیلئے کارکنوں کے ہمراہ عازم سفر ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف مہم چلا رکھی ہے جبکہ طاہرالقادری انقلاب کے داعی ہیں۔ دونوں کے نعرے الگ مگر منزل ایک ہی ہے۔ اور یہ بھی بعید نہیں کہ اسلام آباد میں دونوں کا انقلاب یکجا ہو جائے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے فوجی انقلاب کے بعد سے اب پلوں کے نیچے سے ڈھیروں پانی بہہ چکا ہے۔ آج کے پاکستان میں میڈیا حد سے زیادہ آزاد ہے ، متحرک سول سوسائٹی بھی موجود ہے اور متحرک عدلیہ بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ ظاہری طور پر تو حالات فوجی قبضے کے لئے موزوں نہیں مگر یہ بھی اپنی جگہ ایک سچائی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سیاست کے چیمپئن کا خطاب پانے والے آصف علی زرداری کے برعکس دفاع اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے فوج کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔
سیاسی راہداریوں میں اس بات کی گونج بھی سنی گئی ہے کہ انہوں نے سمجھوتہ کرنے کی بجائے اقتدار گنوانے کی ٹھان رکھی ہے۔ تیسری بار وزیراعظم کے منصب پر متمکن ہونے والے ایک پرانے سیاستدان کو یہ رویہ زیب نہیں دیتا۔ نواز شریف پہلے اپنے وژن اور گڈ گورننس کے ذریعے خوشحالی کا انقلاب لانے کا نعرہ شرمندہ تعبیر کریں۔ اس صورت میں جمہوریت خود بخود اتنی مضبوط اور مستحکم ہو جائے گی کہ تیسری قوت کو مداخلت کا حوصلہ ہی نہیں ہو گا۔
مگر افسوس صد افسوس کہ بظاہر وزیراعظم نواز شریف نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور بدستور شہنشاہی انداز اپنا کر خود کو بھی اور عوام کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔