صحافت کے سانپ

  • جمعہ 15 / اگست / 2014
  • 6027

پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا پر الزامات لگانے کا رویہ بڑا عام ہے۔ مگر سید مجاہد علی کی کتاب ’’میڈیا برسرپیکار‘‘ نے صحافیوں کے حقیقی مسائل اور آزاد صحافت کی راہ میں رکاوٹوں کا جس خوش اسلوبی و مہارت سے تجزیہ کیا ہے، وہ اردو صحافت اور پاکستان سے ہمدردی کا ایک شعوری اور نایاب نمونہ ہے۔

جیو نیوز کے معروف صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد جنگ گروپ کو ہراساں کیا گیا اور حریف چینلوں کے چند صحافیوں نے جیو کے خلاف ایک منفی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ الزام تراشی کا جو بازار لگا اس کی مثال صحافت کی تاریخ میں شاید ہی کہیں اور ملے۔ مجاہد علی کی کتاب اسی تناظر میں لکھے گئے ان کے اپنے اداریوں کا مجموعہ ہے۔

کسی حریف چینل پر کام کرنے والے صحافی پر تشدد کی خبر نہ دینے کا رویہ پہلے سے ہی موجود تھا۔ تاہم اس مرتبہ چند صحافی جیونیوز اور اپنے ہی صحافی ساتھیوں کی تذلیل میں ایسے مصروف ہوئے کہ خود اپنا وقار بھی  کھو بیٹھے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے اس عمل نے بہت سے صحافیوں کو نہ صرف خود ہی بے نقاب کر دیا بلکہ صحافت کے تقدس کو بھی شدید ٹھیس پہنچی۔

ان حالات میں صحافیوں کو یکجہتی کی دعوت دینے والی یہ کتاب کاش اس بحث کو جنم دے سکے کہ پیسہ بنانے کی مشینوں، یعنی پرائیویٹ اخباروں اور چینلوں کے لئے کام کرنے والے ہزاروں صحافی مل کر کس طرح صحافیوں اور صحافت پر عوام کا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔ اور وہ معاشرے میں کس طرح جمہوری رویوں اور تعمیری گفتگو کے کلچر کو فروغ دے سکتے ہیں۔

مجاہد علی لکھتے ہیں کہ صحافیوں کو خود ہی اپنا احتساب کرنا ہو گا۔ اپنے لئے مشترکہ اصول اور ایک مربوط ضابطہ اخلاق ترتیب دے کر اس پر عمل بھی کرنا ہو گا۔ وہ صحافیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ میڈیا کے رول، اور صحافت کی خامیوں پر اب کھل کربحث کرنی ہو گی۔ فقط اشاروں کنایوں اور بند کمروں میں بیٹھ کر کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنا ناکافی ہے۔

درحقیقت مجاہد علی صحافت کے ایک اہم عالمی اصول کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ صحافت میں پائی جانے والی خامیوں اور بیماریوں کا علاج صحافی خود ہی شفاف صحافت کی مثال قائم کر کے، کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے سخت قوانین بنانے یا سرکاری اداروں سے مدد مانگنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ جب تک ملک کا ہر صحافی شعوری طور پر بیدار ہو کر اپنے رول اور پیشہ ورانہ اصولوں کو نہیں سمجھے گا، تب تک نہ تو صحافی بالغ ہو گا اور نہ میڈیا کی روش بدلے گی۔

جمہوری معاشروں کی طرف دیکھا جائے تو یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ مثلاً ناروے میں سرکاری اداروں یا سیاست دانوں کی صحافی معاملات میں مداخلت کو غیر جمہوری اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی طرح یہاں بھی ایک پیمرا نما ادارہ موجود ہے۔ اس کا کام بھی میڈیا لائسنس کی شرائط اور قیمت طے کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان کے برعکس یہاں کوئی صحافی یا مدیر یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ پیمرا صحافی معاملات پر کبھی زبان بھی کھولے گا۔ سزا یا جرمانے کی بات تو بہت دور ٹھہری۔ اور نہ ہی یہ توقع کی جاتی ہے کہ کوئی اور سرکاری ادارہ صحافتی غلطیوں اور تنازعوں کی صورت میں کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت یا سازش کرے گا۔

اس کے برعکس پریس، الیکٹرانک میڈیا، صحافیوں اور مدیروں کی تنظیموں نے مل کر ایک میڈیا کونسل قائم کر رکھی ہے جہاں میڈیا کے خلاف شکایات پر باقاعدہ غور کیا جاتا ہے۔ بحث و تکرار کے بعد میڈیا کونسل اپنے فیصلے بھی سناتی ہے۔ جسے میڈیا کے تمام ادارے تسلیم کرنے کے پابند ہیں۔ غلطی ثابت ہونے کی صورت میں میڈیا معذرت بھی کرتا ہے اور تردید بھی شائع کی جاتی ہے۔ میڈیا کونسل کے فیصلے صحافیوں اور مدیروں کے لئے طے شدہ اصولوں اور ضابطے کی روشنی میں ہوتے ہیں۔ یہ اصول بھی صحافی تنظیموں اور صحافت کے ماہرین نے مل کر بنائے ہیں۔ اگر کوئی شخص چاہے تو عدالت سے بھی رجوع کر سکتا ہے۔ مگر عدالت بھی کسی مدیر کے صحافتی دائرہ کار میں مداخلت یا اسے چیلنج کرنے سے گریز کرتی ہے۔ عموماً ایسے معاملات آپس کی بات چیت، وکلا کی خط و کتابت اور اخبارات میں بحث کرنے سے ختم ہو جاتے ہیں۔

ایسے موقعوں پر میڈیا ایک دوسرے پر بھرپور تنقید کرتا ہے مگر صحافت کے بنیادی اصولوں کو پھر بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ اس سارے عمل کو صحافیوں پر صحافت و تنقید کا تعمیری عمل کہتے ہیں، جس کی پاکستان میں اشد ضرورت ہے۔

بے شک پاکستان میں ایک ایسا نظام بنانا مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ کیونکہ تاریخ میں پاکستان کے پاس ایسے صحافیوں اور مدیروں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو اصولوں پر اپنا تن من دھن وار دینے کے لئے پہچانے جاتے تھے اور آج بھی پاکستان میں ہزاروں صحافی موجودہ حالات و صورت حال کو بدلنا چاہتے ہیں۔

جدید دور میں جہاں کمرشل میڈیا اربوں روپوں کا کاروبار بھی بن چکا ہے اور لائیو رپورٹنگ عام ہو گئی ہے، وہاں مشترکہ اصولوں اور میڈیا احتساب کونسل کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ میڈیا پر ہر وقت اعتماد بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا خودہی اپنی حدود قائم کرے اور عوام میں صحت مند تنقید کے رجحان کو فروغ دے اور یہ کام الفاظ کے جادو جگانے والوں سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں اردو صحافت پرنظر ڈال کر جلد یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے پاکستان میں کسی حد تک صحافت کی آزادی تو ہے مگر بہت سے معاملات اور سوالات ایسے ہیں جن پر بات صرف قیاس آرائیوں اور تبصروں تک ہی محدود ہے۔ اسی لئے محققین کہتے ہیں کہ پاکستان میں Investigative جرنلزم ناپید ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سرکاری داروں اور طاقت ور طبقے کے غیر جمہوری رویئے بھی ہیں۔ مگر اس میں صحافیوں اور میڈیا مالکان کی ترجیحات کا بھی عمل دخل رہتا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کی ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کی انفارمیشن تک رسائی نہیں ہے۔ اس کے برعکس ناروے میں ایک صحافی کسی بھی سرکاری میٹنگ میں جا سکتا ہے۔ ہر قسم کی دستاویز، خط و کتابت، سرکاری رپورٹیں اور اخراجات کی تفصیلات طلب کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ صحافی کسی کا بھی انٹرویو طلب کر سکتاہے۔ ناروے میں عموماً ملک کے وزیراعظم سے انٹرویو کا وقت لینے کے لئے صرف دس منٹ لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر وزیر و مشیر کو آپ براہ راست فون اور ای میل کر سکتے ہیں اور وہ صحافیوں کو معلومات فراہم کرنا، ان کے سولوں کا جواب دینا اپنا قانونی اور اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔ مگر پاکستان میں کسی بھی ادارے کی کارکردگی پر معلومات اکٹھا کرنا ایک کٹھن اور تکلیف دہ کام ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سرکاری مشینری اور وزراء کی کارکردگی یا عدالتوں کے اخراجات پر بہت کم صحافی قلم اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ فوج اور خفیہ اداروں کا تو یہاں ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

زیادہ تر صحافی سیاسی سرکس، مظاہروں، بیان بازی، اغوا، حادثات اور دہشت گردی کی رپورٹنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ سب بھی ضروری ہے مگر یہ سب چھوٹے چھوٹے سوال دراصل جن بڑے سوالوں سے جڑے ہوئے ہیں ان پر فقط اوپری بات ہی ہوتی ہے۔

چند صحافی جو انفارمیشن تک رسائی چاہتے ہیں سرکاری افسروں اور برسراقتدار لوگوں سے دوستیاں کرتے ہیں، یا پھر اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی مدد سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔

احسان کے بدلے احسان اور انفارمیشن کی خریدوفروخت کا یہ کالا دھندا، مفت حج، سرکاری خرچے پر سیر و سفر، وظیفے اور پلاٹوں کی تقسیم سے لے کر اب دو طرفہ لین دین بن چکا ہے۔ ایک طرف جہاں صحافی، سیاست دانوں، لسانی گروہوں اور انتہاپسندی کے دباؤ میں رہتے ہیں تو دوسری طرف میڈیا مالکان کا ہاتھ بھی صحافیوں کی گردن پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس گھناؤنی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے مجاہد علی خوب کہتے ہیں کہ میڈیا مالکان اکثر خود ہی ایڈیٹر کی کرسی پر بیٹھ کر روزمرہ کے صحافتی معاملات میں فیصلے صادر کرتے ہیں اور یہ جب چاہیں کسی بھی صحافی کو نوکری سے نکال سکتے ہیں۔

بدنام زمانہ میڈیا مغل روپرٹ مرڈوک کے خلاف بین الاقوامی صحافی تنظیموں کی سب سے بڑی جنگ یہی ہے کہ وہ مالک ہونے کے ناطے اپنے کاروباری مفادات اور سیاسی نظریات کے مطابق اپنے اخبارات اور نیوز چینلز کی رپورٹ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتے ہیں اور ادارت کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہیں۔ کیا پاکستان میں بھی صحافی تنظیمیں اتنی جرات رکھتی ہیں کہ میڈیا مالکان کو بے نقاب کر سکیں؟

ایک صحافی کے دیانتدار ہونے کے بارے میں مجاہد علی اس تکلیف دہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہیں کہ پاکستان میں مٹھی بھر صحافی کروڑوں روپے کما رہے ہیں جبکہ زیادہ تر مستقل ملازمت سے بھی محروم ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ٹی وی اینکرز جو کروڑوں روپے کماتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے کیمرہ مین، کاپی رائٹر اور دیگر تکنیکی عملہ چند ہزار روپوں کے لئے مالکوں کی منتیں کرنے پر مجبور ہیں، ایسے نامور صحافی سچی اور شفاف صحافت کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں۔

ناروے میں بھی صحافیوں کی تنخواہوں میں فرق ہوتا ہے مگر انفرادی طور پر ملنے والا بونس یا تجربے کی بنیاد پر ملنے والی تنخواہ ایک عام اسٹینڈرڈ سے بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ صحافی تنظیمیں متحد ہو کر تنخواہوں کے معاہدے کرتی ہیں اور اسٹارصحافی ہڑتال کرنے اور تنظیموں کی حمایت کرنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔

اگر صحافی برادری اپنے لئے مساوات اور انصاف کی بنیاد پر تنخواہوں کا انتظام رائج نہیں کرسکتی تو پورے معاشرے کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ خیالی پلاؤ پکانے اور ایسا چورن بیچنے سے زیادہ نہیں کہ جو کھانسی نزلے سے لے کر سرطان تک کا علاج کرسکتا ہے۔

لاکھوں صحافیوں کی طرح مجاہد علی بھی صحافت کو ایسا مقدس پیشہ سمجھتے ہیں، جس کی بنیاد اخلاقیات اور خمیر انسانی ہمدردی ہے۔ وہ صحافت کو نہ صرف ایک پیشہ بلکہ اپنا اوڑھنا بچھونا یعنی ایک لائف اسٹائل سمجھتے ہیں۔ ان کی کتاب پڑھ کر اور صحافیوں کے حالات پر نظر ڈال کر یہ بہت واضح ہے کہ پاکستان میں صحافت کرنا روزانہ سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان بلوں میں کہیں میڈیا مالکان بیٹھے ہیں تو کہیں انتہاپسند یا پھر سرکاری افسر اور سیاستدان اور کہیں صحافی خود۔

ایسی صورت میں پاکستانی میڈیا کی آزادی کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی، جبر اور دھونس قابل قبول نہیں ۔ اس کے ساتھ ہی صحافی برادری کو بھی صحافت کی پاکیزگی کا عمل شروع کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں مجاہد علی کی کتاب ایک رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔

(یہ فکر انگیز مضمون 9 اگست  2014 کو اوسلو میں کاروان کے مدیر سید مجاہد علی کی کتاب “ میڈیا بسر پیکار “ کی تعارفی تقریب کے موقع پر پڑھا گیا۔ اس تقریب کا اہتمام پاکستان فیملی نیٹ ورک اوسلو نے کیا تھا)