مغرب کے مسلمان

  • منگل 19 / اگست / 2014
  • 4609

چند ماہ پہلے بی بی سی نے ایک خصوصی رپورٹ نشر کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ 20 سالوں میں ملائیت اور بنیاد پرستی کی جس انداز میں تبلیغ کی گئی ہے وہ اب اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ اب اندرون و بیرون ملک پاکستانی باشندوں کی زندگی کے ہر شعبے میں جو رجحانات جاری و ساری ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

ملائیت ” ضیاء سے زرداری تک “ کی اس خصوصی رپورٹ میں بی بی سی نے بتایا تھا کہ پاکستانیوں میں ہر معاملہ کفر اور الحاد کی جنگ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ جنگ کس نہج پر جا پہنچی ہے ، اس کے لئے برطانیہ ہی کے ایک روزنامے گارڈین اور آئی سی ایم کے زیر اہتمام ہونے والے ملک گیر سروے کی بابت جاننا آپ کے لئے بہت ضروری ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ مردوں اور عورتوں کی نصف سے زائد تعداد بلا ناغہ 5 وقت کی نماز ادا کرتی ہے جبکہ خواتین نماز کی ادائیگی میں مردوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

روزنامہ گارڈین کے تحت ہونے والے اس عوامی سروے کا اولین مقصد برطانیہ مین رہنے والی پرانی اور نئی نسل کے نوجوانوں کے رجحانات کا جائزہ لینا تھا۔ اسی نئی نسل کے مسلم نوجوانوں کے خیال میں ملازمت کے دووران پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ 88 فیصد مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ دوران ملازمت یا کام کے اوقات میں عبادات کے لئے مخصوص جگہ اور وقت فراہم ہونا چاہئے۔ ایسا ہی مطالبہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد بھی کرتے ہیں۔ 62 فیصد مسلمانوں نے کہا کہ ان کے قریبی دوستوں اور واقف کاروں میں غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جبکہ 35 فیصد نے غیر مسلم افراد کو زندگی کا ہمسفر اور شریک حیات بنانے کا خیال بھی ظاہر کیا۔

یورپ میں ان دنوں مسلمانوں کے لئے حجاب کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ بنا ہؤا ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے ایک مذاکرے میں ایک نوجوان نے کہا: ” اسلامی موضوعات پر بات کر کے ہم بور ہو گئے ہیں“ جبکہ ہر شخص اس کو جبر کی علامت قرار دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جبر نہیں بلکہ ہمارا دلی انتخاب ہے۔ ایک خاتون نے اپنی رائے دیتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس نے کہا ” یورپی ذرائع ابلاغ یہ سمجھتا ہے کہ اسلام خواتین کے معاملہ میں امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بے وفا بیوی کو جان سے مارنے کا تعلق اسلام سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ اور نہ ہی عورتوں پر ظلم کو اسلام کی عینک سے دیکھنا چاہئے“۔

تعلیم اور صحت عامہ کے فروغ کے حوالے سے گارڈین کے اس سروے اور مذاکرات میں مسلمانوں نے تعلیم کی کمی کو تسلیم کیا۔ مسلم اسکالر حضرات نے مسلمانوں میں تعلیم کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بات بھی تسلیم کی کہ مسلمانوں میں تعلیم کے لئے وہ جوش و خروش نہیں ہے جو بھارتی اور یہودی برادریوں میں پایا جاتا ہے۔ تعلیمی سروے کے حقائق مسلمانوں کی اس کمزوری کا منہ چڑھا رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 36 فیصد مسلم طالب علم بغیر کسی تعلیمی قابلیت کے اسکول چھوڑ دیتے ہیں جبکہ 33 فیصد برطانوی مسلم آبادی 16 سال سے کم ہے۔ غربت کا ذکر کرتے ہوئے سروے میں بتاا گیا ہے کہ  16 تا 25 سال کے درمیان  68فیصد مرد حضرات بے روزگار ہیں۔

اقلیتوں کا ذکر کرتے ہوئے قرطاس ابیض میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان میں جدید کثیر ثقافتی معاشرے کی بجائے علیحدہ رہائش ، اسکول اور ثقافتی سرگرمیاں زیادہ مقبول ہیں۔ اس کے باوجود نئی نسل نے کہا کہ ہمارے دوستوں میں بہت سے غیر مسلم افراد شامل ہیں جس سے ہمیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ 35 فیصد مرد حضرات نے غیر مسلم خواتین سے شادی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس کے برعکس 84 فیصد مسلم خواتین نے اس نظریہ کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ سروے کے مطابق برطانیہ میں بسنے والے مسلمان رجائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل سے پرامید ہیں۔ 44 فیصد نے بتایا ہے کہ مستقبل میں زندگی بہتر ہونے کی امید ہے جبکہ 33 فیصد نے ناامیدی ظاہر کرتے ہوئے بد سے بدتر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

دہشت گردی کے مسئلے پر برطانوی حکومت نے کس طرح کنٹرول کیا ہے۔ مباحثہ میں اس کو بھی زیر بحث لایا گیا تھا۔ مباحثہ میں شریک بیشتر ارکان کا خیال تھا کہ ان کی پوزیشن ان کے والدین اور آباﺅ اجداد کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ وہ خود کو برطانوی معاشرے سے الگ تھلگ محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے ” بڑوں “ سے خود کو زیادہ برطانوی سمجھتے ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ انہیں اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک صاحب نے کہا ” زبان کا سیکھنا بے حد اہم ہے۔ کسی بھی معاشرے میں زبان کا سیکھنا بہت سی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔ جبکہ یہ اسلامی فریضہ بھی ہے“۔ بہت سے افراد نے خود کو برطانوی سماج کا حصہ قرار دیا۔ جب ان سے کسی برطانوی دوست کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ چند لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ برطانیہ کے کثیر ثقافتی معاشرے میں مخصوص اسلامی اسکولوں اور مدرسوں کی قطعی ضرورت نہیں۔ ایک خاتون کی رائے میں یونٹی کا مطلب خود کو بدلنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی شمولیت کو فعال بنانا ہوتا ہے۔

میرے حساب سے سروے کی سب سے دلچسپ رائے تعلیم کے گھر کیمبرج کی مسجد کے امام کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ” خارجہ پالیسی کے ضمن میں ہماری ہمدردیاں بائیں بازو والوں کے ساتھ ہیں لیکن داخلی اور مقامی سیاست کے حوالے سے ہماری فطرت ، جبلت ، مذہبیت اور شریعت ہمیں دائیں بازو والوں کے ساتھ کام کرنے پر اکساتی ہے“۔

حرف آخر کے طور پر مجھے یہ کہنا ہے کہ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ یورپ کو تاریک براعظم سے نکال کر روشنی کی دنیا میں لا کھڑا کرنا کیسے ممکن ہؤا ! میرے حساب سے یورپ نے سب سے پہلے چرچ کی بالادستی کو ختم کیا۔ پاپائیت سے چھٹکارا حاصل کیا۔ علم کی اہمیت کو محسوس کیا۔ سائنس کے علم و عمل کو تیز کرتے ہوئے ہر اس شے اور اس نظرئیے کو مسترد کر دیا جو یورپ کی سائنسی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ یعنی یورپین دانشوروں کی نظر میں پاپائیت اور پادرئیت ( ملائیت) کا خاتمہ ہی ترقی کا پہلا زینہ تھا۔ انہوں نے عقیدے کا بوجھ اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور ترقی میں جت گئے۔ وہ یہ بات بخوبی جان گئے کہ عقیدہ انسان پر ایک بھاری بوجھ کی مانند ہوتا ہے جس سے وہ اپنی کمر تو دہری کروا لیتا ہے مگر آزاد نہیں ہو پاتا۔

آج ایک لطیفہ نظر سے گزرا ......

ایک چرچ کے دروازے پر لکھا تھا ” اگر آپ نے گناہ نہیں کیا تو اندر جائیے اور اگر گناہ کیا ہے تو فلاں پتے پر آ جائیے“۔