وہ قرض اتارے ہیں کہ۔۔
- بدھ 20 / اگست / 2014
- 4884
تو پھر اب کیا کیا جائے؟
حکمران تو بدلیں گے نہیں۔ اور نہ ہی عوام۔ آپ لانگ مارچ نکالتے رہیں۔ دھرنے دیتے رہیں۔ تقریریں کرتے رہیں۔ دھاڑتے چنگھاڑتے رہیں۔ ہو گا کیا ؟؟
وہی ہو گا جو شدید آندھی ، بارش ، گرج چمک کے بعد ہوتا ہے۔ آندھی آئے گی۔ بجلی چمکے گی۔ گرج چمک کے ساتھ بارش ہوگی۔ کچھ تناور درخت جڑوں سے اکھڑ کر زمین بوس ہو جائیں گے۔ کچھ کچے مکان گریں گے۔ کچھ نادار پانی میں بہہ جائیں گے۔ بعد میں بارش کے کھڑے پانی سے ملیریا اور ہیضہ وغیرہ کی وبا پھوٹے گی۔ اور پھر حالات ویسے ہی ہو جائیں گے جیسے گرج چمک اور بارش سے پہلے تھے۔
اور تب سورج اپنی پوری تمازت سے دھرتی پر دوبارہ آگ برسانے لگے گا اور اور اس دھرتی کے باسی پھر بارش کی دعا مانگیں گے۔
تو ان لانگ مارچوں اور دھرنوں کا انجام بھی بس یہی ہو گا۔
لیکن آخر کیوں ؟
جواب ہے کیوں نہیں !
چلیئے مان لیا کہ قیادت مخلص ہے۔عمران خان بھی اور قادری صاحب بھی۔
لیکن ان کے دست و بازو کون ہیں!
وہ ابن الوقت اور سیاسی یتیم جو ہر دم توانا کندھوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔
اچک اچک کر نئے نئے کندھوں پر سوار ہونے والے موسمی پرندے۔ جہاز ڈولتا دیکھ کر سب سے پہلے فرار ہونے والے چوہے۔
سگار پھونکتے اپنے تئیں فیدل کاسترو سمجھنے والے۔
سٹیج پر ان کے پہلو میں کھڑے ضمیر فروش صحافی۔
عوام سے انکا کیالینا دینا !
لینا تو صرف ووٹ ہی ہو سکتا ہے۔اور ہاں! اربوں کے قرضے بھی۔ واپس نہ کرنے کی نیت سے لینا۔ زندگی بھر خصوصی مراعات حاصل کرتے رہنے کے لئے نظام سقہ والی وزارت عظمیٰ لینا۔ عوامی پیسے سے خریدی کروڑوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں میں سیر وتفریح کے مزے لینا۔ کک بیکس اور بڑے سودوں پر ناجائز کمیشن لینا۔ سرکاری رہائش گاہوں میں گھوڑے پالنے کے مشغلے۔ مسند اقتدار پر بیٹھ کر ذاتی کاروبار کو فروغ دینا۔ معمولی سر درد پر بیرونی ملکوں میں سرکاری خرچے پر علاج کروانا۔ عوام کو انکی کمتری اور ذلت کا احساس دلانے کے لئے خود ساختہ پروٹوکول کے مزے لینا اور اس پر تکبر کرنا۔ ایک لمبی فہرست ہے۔ کس کس وصولی کا ذکر کیا جائے۔
اور دینا !!
کبھی پہلے کچھ دیا انہوں نے؟
جی ہاں ! بہت کچھ دیا ہے۔ غربت۔ جہالت۔ ذلت۔ محرومی۔ مایوسی کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے۔ بے سروسامانی۔ دہشت گردی۔ لا قانونیت۔ عدم تحفظ۔ بھوک۔ ننگ۔ افلاس۔ اس کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔
تو پھر عوام کی خدمت کا یہ جذبہ ان میں اچانک کیسے بیدار ہو گیا !
کیا خوف خدا نے دل میں جگہہ پا لی۔ کوئی روحانی کرامات ہو ئیں۔ اچانک سیاسی شعور بیدار ہو گیا۔ آ خر ہؤا کیا ؟
کچھ بھی نہیں ہؤا۔ بس یہ ہؤا کہ ان فصلی بٹیروں نے بھانپ لیا کہ جن کھیتیوں میں وہ بیٹھے ہیں وہ اجڑ چکیں۔ اب ادھر کو چلتے ہیں جہاں نئی فصل تیار ہو رہی ہے۔
یہاں ایک دفعہ پھر اس بات کو دہرا دیں کہ عمران خاں اور قادری صاحب یقیناً اپنے مشن میں مخلص ہوں گے۔ لیکن حیرت تو اس بات پر ہے کہ یہ کیسے کیسے ابن الوقتوں کو ساتھ ملا کر چل رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ ان بینگنوں کا ماضی کیا ہے جو ایک تھالی سے دوسری اور دوسری سے تیسرے میں کدکڑے لگاتے رہے ہیں۔ یہ نظام سقے۔ یہ سگار نوش بناسپتی کاسترو۔ خود کو ماؤزے تنگ اور گاندھی جی کے پائے کے رہنما سمجھنے والے یہ مسخرے۔ یہ بھانڈ۔
تو اے اس کم نصیب مملکت خداداد کے معصوم و مجبور بندو ! نہ ان شعبدہ بازوں نے تمہیں کچھ دیا جو اقتدار میں ہیں اور نہ ہی یہ مداری تمہیں کچھ دیں گے جن کی نظر اقتدار کی گیدڑ سنگھی پر ہے۔
اور آخر دیں بھی کیوں ؟
جانتے ہو کہ وہ جو کسی کے طفیلی ہیں تم ان کے طفیلی ہو۔ اور تم جیسے طفیلی پھر انہی حرام خوروں کو اقتدار میں لے آئیں گے اور یونہی ذلت کی ’’سی ۔ سا‘‘ پر اٹھک بیٹھک کرتے جیئے جائیں گے۔ مان لو کہ اب یہ تمہاری فطرت بن چکی ہے اور تم فطرت سے مجبور ہو۔
یہ مداری تم سے کہتے ہیں کہ جمہوریت کی گاڑی کو چلنے دواوراسکا حصہ بنے رہو۔ البتہ کوچوان کی گدی پر صرف ہم بیٹھیں گے۔ تمہارا کام اسے بس کھینچنا ہے۔ یہ ذکر ہم اپنے کسی اورکالم میں بھی کر چکے ہیں۔ سو جمہوریت میں برابر کی حصہ داری اگر چاہتے ہو تو آنکھوں پر کھوپے چڑھائے ، دائیں بائیں دیکھے بغیر گدھوں کی طرح جمہوریت کی گاڑی کھینچتے رہواور اپنی قسمت پر شاکر ہو جاؤ۔ اور جب کچھ وقت سوچنے یا آرام کرنے کا ہو تو کوچوانوں کی خیریت کی دعائیں مانگو اور روکھا سوکھا کھا کر سو جاؤ۔
بس یہی تمہاری زندگی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کیسی بھی ہو، دستیاب حکومتی نظاموں میں سب سے بہتر نظام حکومت ہے۔ اس مفروضے سے ہم بھی اتفاق کرتے ہیں بشرطیکہ جمہوریت سیدھے قدموں چلتی رہے۔ لیکن جب جمہوریت اُلٹے قدموں چلنے لگے اور اسے یونہی چلتے چلتے برسوں گزر جائیں تو پھر ایسی پچھل پیری جمہوریت نہ تو عوام کو کچھ دے سکتی ہے اور نہ ہی اپنی توقیر میں اضافہ کر سکتی ہے۔ ایسے میں ایک نڈر، بے لوث اور انقلابی اقدام اٹھانے والے ریفارمر کی ضرورت پیش آتی ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری غالباٌ خود کو ایسا ہی کوئی ریفارمر سمجھتے ہیں جسے قدرت نے اس ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے منتخب کیا ہو۔ یہی غلط فہمی عمران خان کو بھی اپنے بارے میں ہے۔ نیتوں کا حال خدا جانتا ہے۔ لیکن ان دونوں لیڈروں کی فراست پر سوچنے والوں کے تحفظات بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ دونوں زیرک لیڈر اتنے بھولے اور Naive ہوں کہ نہ جانتے ہوں کہ جن بازیگروں اور قلابازوں کو انہوں نے اپنے دائیں بائیں کھڑا کر رکھا ہے انکا ماضی کیا رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے جلو میں کھڑے یہ ہر دور کے لوٹے ، ڈیفالٹر اور نا اہل انکے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے کے بعد پھر وہی حرکتیں نہیں شروع کر دیں گے جن کے نتیجے میں اس ملک کی بقا داؤ پر لگ چکی ہے۔
یہ وہ ابن الوقت ہیں جواقتدار میں صرف اس کے مزے لوٹنے کے لئے آتے ہیں۔ اور انکے لئے اقتدار کا مزہ یہ ہے کہ عوام، جن کی خدمت کا یہ دعویٰ کرتے ہیں انکے سامنے جھکتی رہے۔ ان کے ہاتھ چومے۔ چرن چھوئے تاکہ ان کے اس تکبر کی تسکین ہوتی رہے جو اب ان کی فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔ ہاں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جمہور کو زمین پر رینگتے کیڑے مکوڑے سمجھنے والے یہ بے ضمیر انہیں اپنے برابر لانے کی ذلت برداشت کر سکیں گے۔
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے ، ہم ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔ انکا ہدف ہے کیا۔ وہ ابھی تک بے ربط اور ایڈہاک فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں جن میں استحکام مفقود ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری البتہ ایک ایسی سوچی سمجھی اور منظم تحریک لے کر میدان میں اترے ہیں جسے Underestimate کرنا نادانی ہو گی۔ وہ ایک بے مثال اور لا جواب مقرر ہیں جو اپنے خطاب سے پانی میں آگ لگا دینے اور لوگوں کو مسحور کر دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔ ان کا ہدف بھی واضح ہے اور مخاطب بھی۔ وہ ان تمام امور پر بھی بات کر رہے ہیں جوپاکستانی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی بیرونی طاقتوں میں انہیں ایک ماڈریٹ اور قابل قبول لیڈر کے طور پرمتعارف کروا سکتا ہے۔ اسی لئے ان امور پر بات کرتے وقت وہ انگریزی کا سہارا لیتے ہیں۔
ان تحریکوں کا انجام کیا ہو گا۔ ہم نہیں جانتے۔ لیکن مثل مشہور ہے کہ انقلاب اپنے بچے کھا جاتا ہے۔ یعنٰی انقلاب آنے پر سب سے پہلے اس کے ہراول دستے کی چھانٹی ہوتی ہے۔ یہ بات یقیناٌ وہ سب بھی جانتے ہیں جو اس وقت ان دونوں لیڈروں کے بے لوث نیاز مندوں کی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اب دیکھئے مطلب نکل جانے پر کون کسے نگلتا ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
اور بیچارے عوام !!
انکے لئے افتخار عارف کا ایک لاجواب شعر:
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے