شیشوں کا مسیحا !

  • جمعہ 22 / اگست / 2014
  • 5711

خواب ، تصویروں کی طرح ہوتے ہیں اور تصویروں کی منزل دیواریں ، کتابیں اور البم ہوتے ہیں ۔ اور آج کے جدید زمانے میں الیکٹرانک آلات نے اُنہیں ایک وسیع و عریض خلا مہیا کر دیا ہے۔ جہاں یہ تصویریں گردش کرتی رہتی ہیں ۔

پاکستان ، ہمارا پاکستان ، آپ سب کا پاکستان بھی ایک خواب تھا ۔ یہ کوئی نظریہ نہیں تھا کیونکہ نظریہ اہلِ نظر کا اثاثہ ہوتا ہے ، جسے وہ اپنے اعمال سے زندہ رکھتے ہیں ، جبکہ خواب اور سپنے عام لوگوں کی جمع پونجی ہے اور یہ سپنے اتنے نازک ہوتے ہیں کہ  ٹوٹ ٹوٹ جاتے ہیں ، بالکل دسمبر اُنیس سو اکہتر کے پاکستان کی طرح اور پھر:
شیشہ ہو کہ موتی جام کہ دُر
جو ٹُوٹ گیا سو ٹّوٹ گیا
کب اشکوں سے جُڑ سکتا ہے
جو ٹُوٹ گیا سو چھوٹ گیا
کیوں ناحق سپنے چن چُن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

اور  ہم  ہیں کہ پچھلے تنتالیس سال سے بچے کھچے پاکستان کے ٹُکڑے جوڑنے میں لگے ہیں ۔ مگر وہ شکستہ سپنے ہیں کہ  کسی طور جُڑنے میں ہی نہیں آتے ۔ لیکن ہم پھر بھی اُسی دنیا میں رہتے ہیں جو اُمید پر قائم ہے لیکن غالب کا سچ بیچ بیچ  میں دخل اندازی کر کے سنائی دیتا رہتا ہے :
کوئی اُمید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

اکہتر کا موسمِ سرما پاکستان کی تاریخ کا انتہائی بھیانک موڑ تھا ۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد نوے ہزار پاکستانی فوجی بھارت میں جنگی قیدی بنا کر لے  گئے تھے ۔ یہ کیسا دلدوز سانحہ تھا ۔ لیکن ہم آج تک یہ طے کر ہی نہیں پائے اور نہ ہی طے کرنا چاہتے ہیں کہ اس ریاست شکن سانحے کا ذمہ دار کون تھا اور کون ہے کیونکہ ہم آئینے میں اپنی صورت تک دیکھنے کی تاب اور مجال نہیں رکھتے ہیں ۔ ہم ڈرتے ہیں کوینکہ ہم مردم گزیدہ ہیں ۔

ہم پاکستانی قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی نہ صرف اپنے ہمسایہ ملک بھارت  بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی سرد جنگ میں مبتلا ہو گئے تھے ۔ اس سرد جنگ نے چار پانچ بار شعلوں کا لباس بھی پہنا اور ہماری سرحدیں آگ اور بارود کی لپیٹ میں ہماری بے بصیرتی پر نوحہ خوانی کرتی رہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ ایک قابوس کے سوا کچھ نہ تھا ۔ ایک ڈراؤنا خواب جو ہمارے بچوں کو آگ اُگلتے اجگر کی طرح ڈس گیا ہے ۔

ہم ان مصائب کا بار اپنے دوش پر لئے اکیسویں صدی میں داخل ہوئے ہیں ۔ اس صدی میں اعصاب شکنی کی اذیت اور بھی بڑھ گئی ہے ۔ ہمارے ہاں قانون اور آئین کی بالا دستی کو ریاست کے تحفظ کی آڑ میں بار بار پامال اور تہ و بالا کیا گیا ۔  اس کارِ خیر میں عدلیہ اور علمائے عظّام برابر کے شریک رہے ہیں ۔
 اپنی اس دراز دستی کے با وجود یہ  ادارے اتنے کمزور ، بے اثر اور منفعل ہیں کہ عام آدمی کی جارحیت پسندی کو لگام دے کر اُس کی نہ تو  ثقافتی تربیت ہی کر سکے ہیں اور نہ ہی  اُسے مذہبی اور ملکی قوانین کا پابند رپنے کی تعلیم دے سکے ہیں ۔

ملک کا موروثی اور فرسودہ جاگیردارنہ اور دہقانی نظام  آج بھی اُتنا ہی طاقتور ہے جتنا ما قبلِ تقسیم کی یونینسٹ پارٹی کے زمانے میں تھا ۔  یہ نظام بہت سی جاہلانہ روایات اور رسم و رواج کے سہارے کھڑا ہے اور اس زمانے میں بھی ونی اور کاروکاری کی قبائلی رسمیں ہمارے اخلاقی چہرے پر تھپڑوں کی بارش کرتی رہتی ہیں ۔  یہ نظام وہ آکاش بیل ہے جو کسی نئے طرزِ زیست کو پنپنے ہی نہیں دیتی اور اس پر طرہ یہ کہ  مذہب کے نام پر انسانوں کی آزادی پر قدغن لگانے کے ٹوٹکے آج بھی تیر بہدف ہیں ۔

ہماری مروجہ جمہوریت ، جرنیلوں  کی بنائی ہوئی تین مسلم لیگوں کا وضع کردہ طرزِ حکومت ہے جو جمہوری کم اور جبری زیادہ ہے۔ کیوں کہ  سیاسی وڈیرے اور جاگیردار اسمبیلوں کی نشستوں کو اپنا موروثی حق سمجھتے ہی۔ اور ہر سیاسی معاویہ اپنے یزید کو ولی عہد مقرر کرنا  جائز  سمجھتا ہے ۔ اس سلسلے میں زرداری خاندان ، گیلانی خاندان ، مخدوم خاندان اور لاہور کا شریف خاندان  واضح مثالیں ہیں ۔
لیکن ہمارا یہ نظام جو جمہوریت کے ہاتھی کے دکھانے والے دانتوں پر محیط ہے ، وقت کے تقاضے اور جدید معاشرت کی ضرورتیں پوری کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا  ۔ ایسی صورتِ حال میں عمران خان اور طاہرالقادری کے سسٹم کی تبدیلی کے نعروں میں نوجوان طبقے اور لبرل مذہبی ذہنوں کے لیے بڑی کشش ہے ۔ 

ہمارا نوجوان طبقہ ملک میں جدید قسم کی تبدیلیوں ، سہولتوں اور مراعات کا خواہاں ہے ۔ وہ ایک ایسا نظام چاہتا ہے جس میں ہر ایک کو روز گار کے مواقع میسر ہوں اور غربت کا قلع قمع ہو ۔ عمران جیسا کرکٹ کا ہیرو اُن کے من کو بھاتا ہے ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو مذہب کی ایک نئی توجیہہ چاہتے ہیں کیونکہ پرانا نظامِ مساجد پچھلے سرسٹھ برس میں تبدیلی کے اسباب مہیا نہیں کر سکا ۔
لیکن یہ لوگ بھی نظریاتی نہیں ہیں ۔ لفظ کے حقیقی مفہوم میں بالکل بھی نظریاتی نہیں ہیں۔  بلکہ خواب دیکھنے والے لوگ ہیں ۔

حضرت طاہر القادری نے ادراہ ء منہاج القرآن کو جدید طرز پر منظم کر کے ایک مذہبی بیوروکریسی منظم کی ہے جس میں ادارے کا سربراہ ڈائریکٹر ہوتا ہے ۔ یہ لوگ روایتی ملاؤں کے برعکس ذرا لبرل قسم کا لباس پہنتے ہیں اور ادارے کو مالی وسائل مہیا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عام آدمی کے طرزِ زندگی میں وہ کوئی نتیجہ خیز تبدیلی نہیں لا سکے ۔

پچھلے کئی روز سے احتجاج اور انقلاب کے نام پر اسلام آباد میں جو ہاہاکار مچی ہوئی ہے وہ خاصی اعصاب شکن ہے مگر اس ہنگامے سے گھر کی رونق ضرور بڑھ گئی ہے ۔ ایک طرف ڈاکٹرطاہرالقادری کے انقلابی ہیں جو حمد و نعت کی لے میں تبدیلی کا راگ گا رہے ہیں جب کہ عمران خان کے دھرنے میں رقص و موسیقی کی سرمستیاں بھی ہیں ۔

آج کی تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے  کہ ایک طرف  نواز شریف نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے  اوردوسری طرف  سپریم کورٹ نے دھرنے کو غیر قانونی قرار دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ فوج کا تعلقاتِ عامہ کا ادراہ بڑے معنی خیز انداز میں اپنے پیغامات جاری کر رہا ہے جس سے لگتا ہے کہ پی جسے چاہتا ہے وہ کوئی اور ہے ۔ تاہم ان لوگوں میں مجھے تو شیشوں کا وہ مسیحا نظر نہیں آیا جو پاکستانیوں کے ٹوٹے ہوئے خواب مرمت کر سکے ۔ مجھے اقبال کی نعت یاد آ رہی ہے :
اے بادِ صبا ! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے اُمّت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی

جو کچھ ان پچھلے دنوں میں  اس ملک میں دیکھنے میں  آیا ہے  اُس نے مجھے بڑی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے ۔ مجھ جیسے لوگوں کی اوقات ہی کیا ہے سوائے اس کے کہ اپنے دکھ پر رولیں ۔ مجھ جیسے لوگوں کا تو کوئی آبائی وطن ہی نہیں رہا کہ اس سے محبت کی پینگیں بڑھا کر اس کی شان میں قصیدے لکھیں ۔ پاکستان میں حب الوطنی کے لائنس جاری کرنے والے اور ایسے لائسنسوں کا فائدہ اُٹھانے والے بہت ہیں ، جن کے آگے میری حیثیت ایک پرِ کاہ سے زیادہ نہیں۔ لیکن اس ملک میں میرے ماں باپ کی قبریں ہیں اور میں نے اپنا بچپن ، لڑکپن اور حصولِ روزگار کا ابتدائی زمانہ وہیں گزارا ہے ۔ اس لیے میں اپنے رشتے کی سچائی سے کسی کو انکار کرنے نہیں دے سکتا ۔   لیکن مجھے اب تک یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ جو لوگ پاکستان کو اغوا کئے ہیٹھے ہیں وہ پاکستان کے کیا لگتے ہیں؟

پھر کچھ اور سوالات بھی ہیں جن کی گمبھیرتا نے مجھ پر سکتہ سا طاری کر رکھا ہے ۔ اور وہ سوالات یہ ہیں:
1 ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے جہاز کو اسلام آباد میں اترنے سے کیوں روکا گیا ؟
2۔  اُن  کے جہاز کا رُخ لاہور کی طرف کیوں موڑا گیا ؟
3۔ پھر ماڈل ٹاؤن کے قادری ہائوس میں جو آپریشن ہؤا اس کا جواز کیا تھا ؟
 

میرے لیے یہ سوالات بڑے اذیت ناک ہیں اور میں یہ سمجھنے میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں کہ جو لوگ ان سانحات کے ذمہ دار ہیں وہ پاکستان کے ہمدرد نہیں ہیں ۔
کل کیا ہوگا ؟
کل کس نے دیکھا ہے ؟
اس  کل کے کلیشے کی اجرک اوڑھ کر میں ایک بار پھر مایوسی کی دلدل میں اُتر گیا ہوں کہ یہ دھرنے اور یہ احتجاج پاکستان کے درد کا درماں نہیں ہیں :
یہ احتجاج ، یہ دھرنے ، یہ انقلاب کا شور
وطن کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
(اقبال سے معذرت کے ساتھ )