صرف ہندوؤں کا ہندوستان

  • سوموار 25 / اگست / 2014
  • 4143

ہندوستان میں فی الوقت دو باتیں اور تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔ایک : " ہرہندوستانی ہندو ہے " ۔ دوسرا " لَو جہاد "LOVE JIHAD  ۔    یہ دونوں باتیں کیا ہیں؟ اور ان باتوں کے بیان کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اگر ان سوالوں پر غور کیا جائے تو جو بات پہلے مرحلے میں ہر شخص کے ذہن میں آسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دونوں ہی باتیں انسانوں کو انسانوں سے دور کرنے کے لئے کی جارہی  ہیں۔

پہلی بات جس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ہر ہندوستانی ہندو ہے، اور وہ بھی اس بنا پر کیونکہ وہ ہندوستان کا شہری ہے ، بے معنی بات ہے۔ کیونکہ جس ملک اور دیش کی بات کی جاتی ہے اور جس دیش بھکتی کی باتیں دہرائی جاتی ہیں ، اس ملک کا نام تو دراصل "بھارت، انڈیا اور ہندوستان" تینوں ہی ہیں۔ لہذا اس ملک کے رہنے والے یا تو ہندوستانی ہو سکتے ہیں، بھارتی ہو سکتے ہیں یا پھر انڈین۔ لیکن یہ تینوں ہی نام ملک سے وابستگی کو واضح کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی کسی حد تک اس ملک کے کلچر ، تہذیب اور ثقافت کے بھی عکاس ہیں۔اس کے باوجود نہ ملک اور نہ ملک کا ہر شہری ہی مذہبی بنیادوں پر خود کو ہندو نہیں کہلواتا اور نہ اس کو مجبور کیا جا سکتا ہے۔

" لَو جہاد LOVE JIHAD " کی بات بھی دوریاں پیدا کرنے ہی کی ہے۔ ہندوستانی قانون میں بلوغت کی عمر طے کردی گئی ہے۔ نیز ہر بالغ اور عاقل شہری کو یہ قانونی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جس مرد اور عورت کو اپنا شریک حیات بحیثیت شوہر اور بیوی پسند کرنا چاہے ، کر سکتا ہے۔ پھر یہاں بھی جن باتوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے ان میں نہ کوئی دم ہے اور نہ ہی کوئی حقیقت ۔ لہذا اگر کوئی حقیقت کسی کے سامنے موجود ہو تو اس کے لیے اسی ملک کے قانون ساز اداروں نے اسے مکمل اختیارات بھی دئے ہیں کہ وہ حقیقت پیش کرے اور قانون کی روشنی میں فیصلہ حاصل کر لے ۔ لیکن تذکرہ برائے نفرت ہو تو یہ خود ایک غیر قانونی عمل کہلائے گا!

ملک کے موجودہ حالات اور اس پورے پس منظر میں نفرت کی آگ بھڑکانے اورلوگوں پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کرنے میں  بعض افراد، گروہ اور مخصوص فکر و نظر کے حاملین منظم سعی و جہد میں مصروف ہیں۔ اور دوریاں پیدا کی جا رہی ہوں یا واقعات اور کوششوں کے نتیجہ میں انسان ، انسانوں ہی کی جان و مال اور عزت و آبرو کو داؤ پر لگانے کا کام کرنے لگے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت ہے کہ ایسے چند افراد بھی منظر عام پر آئیں جو منفی حالات کا مقابلہ آپسی بھائی چارے اورمحبت و اخوت کے ماحول کو پروان چڑھا کر دیں۔ب لکہ اُن افراد کی بھی ضرورت ہے جن کے وجود کا مقصد ہی امن و امان کاقیام ہو اور جو ملک اور معاشرہ کو صحیح رخ دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

سوال یہ ہے کہ وہ کیا ممکنہ کام ہو سکتے ہیں جن کے فروغ سے نفرت کم ہوگی اور دوریاں نزدیکیوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں؟اس میں سب سے پہلا عمل تو ان حضرات کا ہے جو ناپسندیدہ واقعات کو صرف اس لیے بیان کرتے ہیں کہ واقعہ رونما ہو چکا ہے۔ لہذا اس کے بیان میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک غیر مناسب عمل ہے۔اگر کوئی ناپسندیدہ واقعہ رونما ہوتا بھی ہے تو صرف ان متعلقہ افراد کو ہی اطلاع دی جانی چاہیے جو اس کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دوسرے مرحلہ میں وہ تمام اعمال داخل ہیں جہاں انسانوں کو انسان سمجھا جائے۔انہیں ذات ، برادری اور مذہب و ملت میں تقسیم نہ کیا جائے ۔ ایک انسان اپنے پیشہ اور وسائلِ زندگی کے تغیر کے باوجودانسان ہی سمجھا جا ئے ۔ اس کی عزت اور وقار کو ویسے ہی سر بلند رکھا جائے ، جیسی سربلندی اور عزت ہم اپنے لیے دوسروں سے چاہتے ہیں۔ پھر انسانوں کے دکھ درد میں شامل ہونا، ان کے مسائل کے حل میں کوشاں ہونااور انہیں بلا تفریق مذہب و ملت اپنے ہی جیسے انسان سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کا پہلا انسانی جوڑا جواس پوری انسانی آبادی کے وجود کا ذریعہ ہے۔ وہ ایک ہی تھا۔اب اگر کسی کو تحقیق ہی کرنی ہے تو وہ تحقیق کرے کہ وہ پہلا انسانی جوڑاکس مذہب، ملت، ملک، فکر ونظر اور عقیدے کو ماننے والاتھا؟ جن کی اولا آج ہم اور آپ ہیں۔ لہذا انسانیت کی بنیاد پر اورایک ماں باپ کی اولاد ہونے کے ناطے ہمیں اپنے ہر بھائی اور بہن کی خوشی اور غم میں شریک رہنا چاہیے۔اُس کی خوشیوں میں شامل ہوکر خوشیوں کو فروغ دینا چاہیے۔اور اُن کے غم ، دکھ اور درد میں شامل ہو نے کی ہر سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔

خصوصاً اُن حالات میں اس عمل کی ضرورت بڑھ جاتی ہے جبکہ کچھ لوگ باقاعدہ نفرت کے فروغ میں مصروف ہیں۔ ایسے حالا ت میں یہ ضروری ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ مزید سنگین حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی منفی اثرات کو زائل کر نے کی مخلصانہ اور سنجیدہ ہر ممکن سعی و جہد کی جائے۔ کیونکہ جن پودوں کی کاشت ہی گندے پانی میں ہوئی ہو ان سے اچھی فصل کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس کے برعکس آج ایسی فصل پروان چڑھانے کی ضرورت ہے جس کے استعمال سے نہ صرف انسان بلکہ دیگر مخلوقات بھی اطمینان و سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔