سیاسی بحران کا واحد حل

  • سوموار 25 / اگست / 2014
  • 4778

ملک میں جاری سیاسی ہیجان بڑھ رہا ہے۔ اسلام آباد میں ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک اور عمران خان کی تحریک انصاف کے دھرنے اور احتجاج پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جاری ہیں، جو اَب دوسرے شہروں تک پھیل رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کا نوازشریف کے استعفے پر اصرار ہے۔ وہ اس سے کم کسی بات پر بھی تاحال (اپنے اعلانات کی حد تک) راضی نظر نہیں آتے، جبکہ حکومت کہتی ہے کہ استعفے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ کے اندر سسٹم کو بچانے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر سیاسی جماعتوں نے حکومت کو کچھ سہارا دیا ہے۔ حکومتی کیمپ کے ایک بڑے اخبار کی اس لیڈ اس طرح ہے: ’’وزیراعظم کسی دباؤ میں آ کر استعفیٰ نہ دیں، حکومتی اور اپوزیشن ارکان متحد ہو گئے۔“ اس طرح کی خبروں سے حکومت کے رعشہ زدہ جسم میں کچھ جان ڈالی جاتی ہے۔

ادھر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری جو اَب تک حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر رہے تھے، اب مذاکرات پر راضی ہو گئے ہیں۔ دونوں اطراف سے کمیٹیاں بھی بن گئی ہیں اور طاہر القادری اور حکومتی ٹیم کے درمیان حیدر عباس رضوی اور اعجاز الحق جیسے مصالحت کاروں کے ذریعے بات چیت کا ایک راؤنڈ بھی ہو گیا ہے۔ جس میں طاہرالقادری کی مذاکراتی ٹیم کے اعتراض پر حکومت نے خواجہ سعد رفیق کی جگہ احسن اقبال کو مذاکراتی ٹیم کا رکن نامزد کردیا ہے۔ تاہم بے دلی اور تاخیر سے شروع ہونے والے ان مذاکرات کی اہم بات یہ ہے کہ مذاکراتی ٹیم میں نہ تو عمران خان شامل ہیں اور نہ ڈاکٹر طاہر القادری۔ اسی طرح حکومتی ٹیم میں نوازشریف، شہباز شریف یا ان کی فیملی کا کوئی رکن شامل نہیں۔ حالانکہ اصل فیصلے کا اختیار شریف فیملی کو حاصل ہے۔ جبکہ پاکستان عوامی تحریک اورتحریک انصاف کی جانب سے بھی اصل فیصلہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے ہی کرنا ہے، کسی اور نے نہیں۔ تاہم طاہرالقادری کی ٹیم کو ایک سبقت حاصل ہے کہ اس میں ان کی اتحادی جماعتوں کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، راجہ ناصر عباس، صاحبزادہ حامد رضا اور مصطفی کھر شامل ہیں۔

حکومت اور احتجاجی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھتا ہؤا نظر آتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ طاہر القادری اور عمران خان کس کے دباؤ کے تحت مذاکرات پر راضی ہوئے ہیں۔ کیا وہ خود تھک گئے ہیں، مزید احتجاج کے سلسلے میں مایوس ہیں، حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے سے قاصر ہیں، پارلیمنٹ کی تازہ قرار داد سے خوفزدہ ہو گئے ہیں، اپنے کارکنوں کو مزید آزمائش میں ڈالنے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں یا کسی نادیدہ قوت نے انھیں مجبور کر دیا ہے۔

ان سوالات کے جوابات تو وقت گزرنے کے ساتھ ہی سامنے آئیں گے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اس سارے عمل میں حکومت بری طرح بے وقعت ہوئی ہے۔ اس کی رٹ جگہ جگہ دم توڑتی نظر آئی ہے۔ جن کی گردنوں میں سریے کی باتیں زبان زدِ عام تھیں، وہ اس بری طرح پسپا ہوئے ہیں کہ تقدیر کو بھی ان پر ترس آ گیا ہو گا۔ ان کا تکبر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اُن کی ساری چالیں اور تدبیریں بے کار گئی ہیں۔ انھیں نہ اپنی پارٹی کے اندر سے سپورٹ مل رہی ہے نہ اتحادی جماعتوں کی طرف سے پذیرائی۔ اُن کے سیاسی مخالفین یا تو تماشے دیکھ رہے ہیں یا ان کے گرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ حکومت بچ بھی جائے تو چل نہیں سکتی، اور اپوزیشن کی تحریک ختم بھی ہو جائے تو یہ چنگاری اندر ہی اندر سلگتی رہے گی جو زیادہ خطرناک ہے۔

حکومت نے مختلف شہروں میں اپنے کارکنوں اور حامیوں کے ذریعے دھرنوں کی سیاست کے خلاف احتجاج شروع کر دئے ہیں۔ یہ سلسلہ ملک کو تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب دھرنوں کا محاصرہ، کنٹینرز میں اضافہ، شاہ محمود قریشی کے گھر پر حملہ، مظاہرین کے لیے آنے والی خوراک اور پانی کا روکنا مذاکرات کے عمل کو متاثر کرے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی بڑھکیں صورت حال کو خراب کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کا لب و لہجہ، دھمکیاں اورتھرڈ ایمپائر سے امیدیں، حالات کو خراب تر کر سکتی ہیں۔

اس سارے عمل میں جماعت اسلامی کے نئے امیر کا کردار سب سے زیادہ مثبت اور قابل ستائش رہا ہے جس کی اُن کے مخالفین نے بھی تعریف کی ہے۔ میڈیا نے بھی اس معاملے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ وہ کام جو حکومت کو 11 مئی 2013ء کے انتخابات کے فوری بعد شروع کر دینا چاہیے تھا، یعنی مختلف قومی امور پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت ۔۔۔ وہ بھی سراج الحق نے ایسے وقت میں شروع کیا جب حکومت اور ان کے شدید مخالف بالکل آمنے سامنے آ گئے تھے۔ سراج الحق کے لیے یہ کام بہت مشکل تھا کہ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے لیکن پورے نظام کو تباہی سے بچانے کے لیے انھوں نے جو کوششیں شروع کی تھیں وہ بالآخر موجودہ مذاکرات کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔

سراج الحق نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی ٹریفک چلتی رہے، کوئی حادثہ نہ ہو۔ کیونکہ حادثہ ہؤا تو ٹریفک پولیس آ جائے گی اور چالان کاٹے گی۔ اُن کی یہ ساری گفتگو گھمبیر صورت حال کااحاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ دلوں کو متاثرکرتی ہے۔

سراج الحق نے دونوں متحارب قوتوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کے درمیان ایک ایسا نکتہ پیش کیا ہے جو آئندہ بھی اس طرح کی صورت حال سے بچنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ملک میں متناسب نمائندگی کا نظام رائج کیا جائے۔ اس سے سیاسی جماعتوں کی شکایات بھی دور ہو جائیں گی، ووٹرز کی بھرپور نمائندگی بھی ہو جائے گی اور موجودہ انتخابی نظام پر اٹھائی جانے والی دھول بھی بیٹھ جائے گی۔ جو سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کے اطمینان کا سبب بنیں گی۔

اگر موجودہ بحران کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ انتخابی نظام کی غیرشفافیت، مختلف اداروں کاانتخابی دھاندلیوں میں ملوث ہونا اوراس کے نتیجے میں کسی گروہ کو اقتدار میں لانا ہے۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ 2013ء کے انتخابات سے ذرا قبل جب ڈاکٹر طاہر القادری اچانک کینیڈا سے پاکستان پہنچے تھے تو انھوں نے موجودہ انتخابی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کو شفاف بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ اپنے اس مطالبے کو لے کر سپریم کورٹ بھی گئے تھے، جہاں بدقسمتی سے اصل مسئلے، شکایت اور درخواست کو سننے کے بجائے ان کی دوہری قومیت زیر بحث آئی۔ چنانچہ عدالت نے فیصلہ ان کے حق میں نہیں دیا۔ جس پر انھوں نے عدالت کے احاطے میں یہ بات کہی تھی کہ اب اس ملک کی تمام سیاسی جماعتیں سر پکڑ کر روئیں گی۔

11 مئی 2013ء کے انتخابات ہوئے تو ایسی ہی صورت حال تھی۔ کئی سیاسی جماعتوں کو شکایت تھی کہ انھیں انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی۔ چند سیاسی جماعتوں نے کلی یا جزوی طور پران انتخابات کا بائیکاٹ کیا، اور نتائج آئے تو پہلی بار اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کی شکایت کی لیکن جمہوریت کے تسلسل کے لیے نتائج کو قبول کرلیا۔۔۔

تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے باوجود اس پر اپنا احتجاج جاری رکھا۔ وہ اس سلسلے میں الیکشن ٹربیونل اور سپریم کورٹ بھی گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ انتخابی دھاندلی میں الیکشن کمیشن، نگران حکومتیں اورریٹرننگ افسر ملوث ہیں۔ انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق سے حکومت اور الیکشن کمیشن کے انکار، قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ کی جانب سے ہرحلقے میں 60 سے 70 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہ ہو سکنے کے اعتراف اور الیکشن ٹریبونلز کی طرف سے انتخابی عذرداریوں کے فیصلوں میں تاخیر آخر کار انھیں اپنے سپورٹرز کے ساتھ ڈی چوک اسلام آباد لے آئی۔ گویا ان دونوں جماعتوں اور ان کے ساتھ شریک جماعتوں کو اصل شکایت انتخابی دھاندلی کی ہے جس کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مانتی ہیں۔ خود حکمران مسلم لیگ (ن) نے بھی بارہا سندھ میں انتخابی دھاندلی کی شکایت کی ہے۔

اصل صورت حال یہی ہے کہ اگر یہی انتخابی نظام رہا تو مستقبل میں بھی یہ شکایات موجود رہیں گی۔ ان کی شکلیں بدل سکتی ہیں، دھاندلی کے طریقے زیادہ جدید ہو سکتے ہیں لیکن شکایات موجود رہیں گی۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر 2013ء کے انتخابات کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے والی مسلم لیگ (ن) اگر قومی اسمبلی کی 140 نشستیں جیتی تھی تو اس تناسب سے 80 لاکھ ووٹ لینے والی تحریک انصاف کی نشستیں 70 سے زائد ہونی چاہیے تھیں اور تقریباً اتنی ہی انتخابی نشستیں پیپلز پارٹی کی ہونی چاہیے تھیں۔ موجودہ فرسودہ انتخابی نظام کے تحت 80 لاکھ ووٹ حاصل کرنے والی تحریک انصاف کے حصے میں صرف34 نشستیں آئی ہیں۔

لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ موجودہ انتخابی نظام میں دھاندلی کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔ اس نظام کے تحت طاقتور جاگیردار اور پیسے بکھیر دینے والے سرمایہ دار انتظامیہ اور انتخابی عملے کے ساتھ مل کر پورا انتخاب چرا سکتے ہیں جبکہ  سراج الحق کی تجویز اگر آگے بڑھتی ہے تو انتخابی دھاندلی کی شکایات از خود بہت تھوڑی رہ جائیں گی۔ اس نظام کے تحت ہر ووٹر کی رائے نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ جو پارٹی جتنے ووٹ لے اس تناسب سے سیٹیں لے لے۔ ایک ایک حلقے میں ذات، برادری اور پیسے کی بنیاد پر سیاسی تماشے لگانے کی بجائے سیاسی جماعتیں اپنے پروگرام اور منشور پر ووٹ لیں گی۔ ان کے لیڈر کی کرشماتی شخصیت ان کے ووٹ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ پھر انتخابی عملے، نگران حکومتیں اور ریٹرننگ افسر اس نظام کے تحت دھاندلی کے لیے کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اس کے نتائج کو سب قبول کریں گے کیونکہ انتہائی قلیل ووٹ لینے والی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو بھی پارلیمنٹ میں نمایندگی مل جائے گی۔

اس طرح متناسب نمایندگی کے اصول پر منتخب ہونے والی اسمبلی حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ ہو گی۔ اس سے انتخابی اخراجات میں بھی بے پناہ کمی آ جائے گی، اور ایسے لوگ اسمبلی میں پہنچ جائیں گے جو حقیقی معنوں میں پارٹیوں کا اثاثہ ہوں گے۔ اس طرح سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی جو جمہوریت کی شرط اول ہے۔
ملک کے سیاسی، علمی اور دانشور طبقے کو  سراج الحق کی اس تجویز کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی بھی سب سے زیادہ اس نظام کاجائزہ لے۔ ملک کی سیاسی جماعتیں اس پر کھل کر اپنی رائے دیں جبکہ دانش گاہیں، دانشور اور ماہرین بھی اس نظام کی خوبیاں اور خرابیاں عوام کے سامنے رکھیں اور ایک طویل بحث ومباحثے کے بعد اگر اس نظام کو اپنا لیا جائے تو شاید ہم مستقبل میں اس طرح کے بحرانوں سے بچ جائیں۔